کبھی آپ بلا وجہ پریشان ہوئے۔۔۔؟ ہرپل اداس رہنے لگے ۔۔۔؟ تنہائی پسند ہونے لگے ۔۔۔؟ بولنے کیلئے الفاظ کا قحط پڑ گیا۔۔۔؟ بننے،سنورنے کو دل نہ کرتا ہو۔۔۔؟کہیں من نہ لگتا ہو۔۔۔؟ خوبصورت موسم بھی دل کو نہ بھاتے ہوں۔۔۔؟ پیار،محبت،دوستی،وفاداری جیسے الفاظ زہر لگنے لگے ہوں۔۔۔؟ یہ کونسی ’’ بیماری‘‘ ہے۔۔۔؟اس کا ’’علاج‘‘ کیا ہے۔۔۔ ؟ تو،پڑھیں۔۔۔۔ آدمی کو زندہ رہنے کیلئے صرف ہوا،پانی اورخوراک کی ہی ضرورت نہیں۔۔۔اور بھی بہت کچھ درکار ہے۔۔۔
انسان کی فطرت کو سمجھیں،جنت میں سب کچھ تھا،یہ پھر بھی اداس تھا۔۔۔پھر اللہ تعالیٰ نے اداسی ختم کرنے کا سبب پیدا کیا،یہ بھی انسانی فطرت ہے بندہ ایک کام سے اکتا جاتا ہے،اور یہی اکتاہٹ پریشانی،اداسی،تنہائی کا سسب بنتی ہے، سمجھیں یہ بھی ایک ’’ بیماری‘‘ ہے،اس کا ’’ علاج ‘‘ کیا ہے۔۔۔؟ نئے دوست،نئے تعلقات بنایا کریں۔
کوئی ایسا دوست بھی ہونا چاہیے،جس سے آپ دل کی ہر بات کرسکیں،اپنا دکھ،درد اورخوشی کے لمحات شیئر کرسکیں اوران کے ساتھ بیٹھ کر گھنٹوں باتیں کریں۔۔۔اورکوئی نا کوئی نیا کام کرتے رہیں،جس میں جدوجہد ہو، روشن مستقبل کا راستہ ہو،نئے دوست،نئے کام آپکو پریشان اور اداس نہیں ہونے دینگے، آپ کا من ہر جگہ لگے گا،موسیقی سے آپ لطف اندوز ہونگے، بلکہ خود بھی گنگنائیں گے،دنیا خوبصورت لگنے لگے گی،بننے،سنورنے کو دل کرے گا،زندگی قیمتی معلوم ہونے لگی گی۔۔۔ زندگی کو خود گزارو،ایسا نہ ہو،زندگی آپکو گزارتی رہے۔



