پاکستانتازہ ترینجرم-وسزاعلاقائی خبریں

سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے۔۔۔۔

اسلام آباد:(رپورٹ:راحیلہ رحمٰن)سوات کے واقعے کا زخم ابھی تازہ ہی تھا کہ 4،جولائی 2025 کی صبح زلزلے جیسی ہلچل محسوس ہوئی اور ایک زوردار دھماکے کے ساتھ لیاری بغدادی میں موجود 5 مرلہ یا کچھ کے نزدیک 6 مرلہ عمارت زمیں بوس ہو گئی۔اس عمارت میں 12 خاندانوں کے تقریبا 100 افراد رہائش پذیر تھے 27 افراد جاں بحق ، متعدد زخمی اور مزید تلاش جاری ہے ،عمارت کے نیچے کھڑے درجنوں رکشے ملبے کا ڈھیر بن کر مالکان کو ان کے روزگار سے محروم کر گئے، یہ عمارت خطرناک قرار دی جاچکی تھی، 2023 سے لے کر جون 2025 تک خبردار کیا جاتا رہا کہ اسے خالی کردیا جائے۔

جان سے بڑھ کر کوئی شے نہیں ہوتی تو آخر کیا وجہ تھی کہ یہ لوگ وہاں سے منتقل نہ ہو سکے اس ضمن میں رہائشوں کو مورد الزام ٹھہرانا مناسب نہیں کیونکہ یہاں کے رہائشی متوسط طبقے سے تعلق رکھتے تھے، جمع پونجی لگا کر خریدا گیا یہ فلیٹ بہت سوں کا واحد ٹھکانہ ہوگا ، اسے چھوڑ کروہ کیسے جا سکتے تھے؟ یہ تو ارباب اختیارات کا کام تھا کہ وہ عوام کو متبادل رہائش فراہم کر کے ان کو تحفظ دیتے، عوام کے خون پسینے کی کمائی سے لیے گئے ٹیکسز کا بدلہ کسی صورت تو دیا جاتا ،تو کون ملب تلے دب کر اپنی زندگی گنوانے پر تیار ہوتا مگر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سمیت تمام عہدے داران اپنی غفلتوں کا ملبہ بیچارے عوام پر ڈال کر بری الذمہ ہو رہے ہیں۔ اس سانحے کے بعد مزید 51 عمارتیں خطرناک قرار دے کر انکو بھی خالی کرانے کا اختیار عوام کو دے دیا گیا، تواختیار کہ وہ اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی چھوڑ کر رشتہ داروں کے رحم و کرم پر چلے جائیں ورنہ نقصان کےذمہ دار وہ خود ہوں گے۔

کیا انصاف یہی ہے جو بیچارے عوام کو دیا جا رہا ہے اختیارات نہیں عوام مراعات کے حقدار ہیں ، سندھ ملڈنگ کنٹرول اتھارٹی اپنی من چاہی غفلتوں کا بوجھ ان پر ڈال کر معصوم نہیں بن سکتی ،اس عمارت کے گرنے کی اصل وجہ ناقص تعمیر تھی، یہ المیہ ہے کہ بلڈرز کو ایسی تعمیرات کی اجازت بھاری بھاری رقم وصول کر کے دے دی جاتی ہے، اور وہ کم خرچ میں غیر معیاری تعمیرات کرکے بھاری قیمتوں میں انکو بیچ کر جیب گرم کرتے اور لوگوں کی جانوں سے کھیلتے ہیں،۔ صرف یہی سانحہ نہیں جن میں ارباب اختیارات کے جرائم کھلی خطاب کی مانند سب کے سامنے ہیں بلکہ ماضی کے اوراق پلٹیں تو حادثات کی ایک طویل فہرست موجود ہے۔

2019 میں گلبہار گولیمار نمبر دو میں ہونے والا وہ سانحہ اب بھی بہت سی یادداشتوں میں محفوظ ہوگا جب ایک تنگ گلی میں 75 گز کے پلاٹ پر بنی پانچ مرلہ عمارت نہ صرف خود زمین بوس ہوئی بلکہ دوسری عمارت پر گر کر اس کے تمام رہائشیوں کو بھی لقمہ اجل بنا گئی، اس سانحے میں 150 سے زیادہ لوگ شہید ہوئے کئی دن تک ریسکیو ٹیمیں نعشیں نکالتی رہیں اس عمارت کو تعمیر کروانے والے فرار ہو گئے اور آج تک انکا کچھ پتہ نہیں۔ مرنے والوں کے لیے کسی بھی رقم کا اعلان نہیں کیا گیا لوگوں نے احتجاج کیا تو الٹا پولیس نے ان پر لاٹھی چارج کیا گیا، آج چھ سال گزرنے کے بعد بھی عوام کی کوئی سنوائی نہ ہوئی۔

یہ کیسی اسلامی ریاست ہے جہاں دوسرے مسلمان کی نہ جان محفوظ نہ مال جبکہ حدیث کا مفہوم ہے، مسلمان ایک جسم۔کی طرح ہیں جسکے ایک حصے میں درد ہو تو پورا جسم درد محسوس کرتا ہے” ایک جگہ یوں کہا گیا کہ ” مسلمانوں کی مثال ایک عمارت جیسی ہے جسکی ایک اینٹ دوسری کو تقویت دیتی ہے، عمارت کے گرنے کی وجہ بھی ناقص تعمیر ہی تھی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ 75 گز کے پلاٹ پر اتنی بڑی عمارت وہ بھی تنگ گلیوں میں بنانے کی اجازت کیسے دے دی گئی؟ اور ناقص مٹیریل کا استعمال ناقص تعمیر آزادانہ کیسے ممکن ہوئی؟یہ سوالات سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے منہ پر طمانچہ ہیں ، انکے کالے کارناموں کا واضح ثبوت ہیں۔

یہ گورکھ دھندا کراچی میں عام ہو چکا ہے آئے دن اموات کی ایسی خبریں گردش کرتی ہیں جن کا دورانیہ ایک سے دو دن کا ہوتا ہے اور وہ خبریں نءخبر کے نیچے دب کر دم توڑ دیتی ہیں، اس لیے کسی مجرم کو ان سے کوئی خطرہ نہیں سب اپنی اپنی دکانیں آزادی سے چمکا رہے ہیں بھاری بھاری بل منظور کروا کر پل بنائے جاتے ہیں اور چند دن بعد ہی ان پلوں کی حالت کرتا دھرتا کے غبن کا پول کھول دیتی ہے، انجینیئرز کے نام پر لی گئی بھاری رقوم کے پیچھے تحقیقات کی جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ کوئی انجینئر سرے سے موجود ہی نہ تھا یا پھر کسی اپنے پر نظر عنایت کر کے انجینئر کے خانے میں اس کا نام ڈال کر اسے نواز دیا جاتا ہے بعد ازاں سب اپنے اپنے حصے وصول کر لیتے ہیں۔

ایسی ہی ناقص تعمیرات کا منہ بولتا ہے، ملیر ہالٹ فلائی اوور، گلشن اقبال حسن اسکوائر فلائی اوور جس کا ایک حصہ بارش کے بعد دھنس گیا اور سڑک میں شگاف پڑ گیا ہے،اس کی وجہ ناقص نکاسی آب و غیر معیاری تعمیر ہے۔ناظم آباد ناگن چورنگی فلائی اوور جس پر جا بجا دراڑیں پڑ چکی ہیں بیشتر حصہ کمزور قرار دیا جا چکا ہے، کورنگی کراسنگ فلائی اوور ناقص تعمیر اور نکاسی کا کوئی نظام نہ ہونے کی وجہ سے اس کا کچھ حصہ دھنس کر پورے پل کو کمزور کر چکا ہے۔

ناتھا خان پل کا درمیانی حصہ تعمیر کے فورا بعد گر گیا جگہ جگہ گڑھے دراڑیں پڑی ہوئی ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ نہ تعمیر دیانت داری سے ہوئی اور نہ مرمت مکمل اور موثر ہوئی۔ سینکڑوں ایسی تعمیرات ہیں جن کے بارے میں ایک عام انسان یقین سے کہہ سکتا ہے کہ یہ کسی لمحے بھی گر سکتی ہیں۔ ان کے نیچے عوام نے بازار لگا رکھے ہیں یہ کسی لمحے بھی گر سکتی ، سانحے کی صورت میں سینکڑوں جانیں لقمہ اجل بن جائیں گی۔ مگر جن کو حفاظت پر مامور کیا گیا ہے وہ جانتے بوجھتے لا تعلق بنے بیٹھے ہیں حادثات کے منتظر ہیں کیونکہ ان کے اپنے بچے جگر کے ٹکڑے تو مغرب کی سرحدوں میں محفوظ پاکستانی عوام کے پیسوں پر عیاشی کر رہے ہیں ، یہ بھگتان تو غریب عوام کو بھگتنا ہے ، وہی عوام جس کے جذبے اور اتحاد کو طاقت بنا کر پاکستان طاقتور ممالک پر بھاری ہوا، تعداد میں کم ہو کر بھی اپنی طاقت دکھا سکے ہیں مگر ملک کے اندر ہم اپنے ہی لوگوں کے ہاتھوں پس رہے ہیں نہ ہمیں مراعات حاصل ہیں، نہ حفاظت اور نہ سہولیات پھر بھی حب الوطنی کے جذبے سے سرشار اس مٹی سے جڑے ہوئے ہیں۔

ستم بالائے ستم کے کسی حادثے یا زیادتی کی صورت میں پولیس سے رابطہ کرنے سے ڈرتے ہیں کہ یہ محافظ ہی ہمیں لوٹنے کے در پہ ہو جائیں گے ، غلطی سےگرفتار ہوجائیں تو سالوں پڑے رہتے ہیں کوئی انصاف کرنے والا نہیں ہوتا، اغوا ہو جائیں تو کوئی چھڑوانے والا نہیں ہوتا، ڈوب رہے ہوں تو بچانے کی بجائے ڈوبنے کا انتظار کرتے ہیں اور نعشیں نکالنے کے لئے ٹیموں کو بھیج دیا جاتا ہے، لوٹ لئے جائیں تو ہم ہی مجرم بنا کر کھڑے کر دیئے جاتے ہیں، کسی عورت کی عزت پامال ہو تو اسے ہی مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے کہ آخر وہ نکلی ہی کیوں تھی۔ نتیجتا حق پر ہونے کے باوجود کوئی آواز نہیں اٹھاتا انصاف نہیں مانگتا اور بدکاروں کے حوصلے بڑھتے چلے جارہے ہیں۔ عوام کا استحصال کب تک جاری رہے گا ؟ جو منصب پر براجمان ہیں وہ تو بڑی کابینہ کے ساتھ دنیا بھر کے دوروں میں مصروف ہیں ،انکو سب کچھ اچھا اچھا نظر آتا ہے۔

ان سے کوئی امید باقی نہیں ہوش میں آنا ہے تو عوام کو اب ہوش کے ناخن لیں اپنے حق کے لیے آواز اٹھائیں اپنی طاقت کو پہچانیں ،اس کا درست استعمال کریں، صالح حکمران کو لانے کی جدوجہد کریں تاکہ وہ قران و سنت کے مطابق نظام قائم کرے جو فرائض اللہ نے حاکم کو دیے ہیں اس کے مطابق نظام حکومت چلائے فرائض ادا کرے جو حقوق اللہ نے انسان کو دیے ہیں ان کے پاسداری کرے، عوام کمزور نہیں آج نہیں تو کل حق ضرور غالب آئے گا بس کوشش جاری رکھنے کی ضرورت ہے حالات سے مایوس ہو کر جدوجہد ترک نہ کریں، حالات کو قبول کرنے کی بجائے اس کا مقابلہ کریں، مایوسی کفر ہے اور کفر مومن کا خاصہ نہیں ،جب ہم دنیا میں اپنا لوہا منوا سکتے ہیں اپنے ملک تو اپنے ملک میں یہ ناممکن نہیں محنت ہی کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے، کوشش شرط اور دعا ہتھیار ہے اس کے بعد معاملہ اللہ پر چھوڑ دیں۔

سانحہ لیاری میں ملبے تلے دب کر مرنے والوں کے لواحقین کیلئے ایک ایک لاکھ روپے کا اعلان کیا گیا اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کہ عہدے داران کو معطل کر دیا گیا، لیکن نہ یہاں وعدے پورے کیے جاتے ہیں نہ فیصلوں پہ عمل درآمد ہوتا ہے۔لیکن پھر بھی میں آپ سے سوال کرتی ہوں کہ کیا یہ اقدامات مرنے والوں کی جانوں کا بدلہ ہو سکتے ہیں جو ملبے کا ڈھیر بن کر اپنے پیاروں کو سسکتا چھوڑ گئے؟

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button