انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاکالم

آپریشن مادھوری، سندور اور “پروڈکٹ مودی” کی فلمی جنگ

جنگ اب توپوں اور میزائلوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ ایک فلم، ایک اسکرپٹ اور ایک سوشل میڈیا مہم بن چکی ہے۔ جدید دنیا میں اصل لڑائی زمین پر نہیں بلکہ ذہنوں میں لڑی جاتی ہے، جہاں سچ اور جھوٹ کو اس انداز میں ملایا جاتا ہے کہ عام آدمی حقیقت اور فریب میں فرق ہی بھول جائے۔ بھارت کی حالیہ عسکری و میڈیا حکمتِ عملی اسی نفسیاتی جنگ کی ایک مثال ہے، جسے کبھی آپریشن مادھوری اور کبھی آپریشن سندور جیسے فلمی ناموں سے پیش کیا جاتا ہے۔
نریندر مودی آج ایک سیاسی قائد کم اور ایک سیاسی پروڈکٹ زیادہ ہیں۔ انہیں عالمی مارکیٹنگ، میڈیا بیانیہ، فلمی اسکرپٹ اور ڈیجیٹل پروپیگنڈا کے ذریعے اس طرح لانچ کیا گیا جیسے کسی بڑی فلم کا سپر اسٹار لانچ کیا جاتا ہے۔ ان کی سیاست حقیقت سے زیادہ اسکرپٹڈ ہے، جہاں ہر بحران ایک سین، ہر تقریر ایک ڈائیلاگ اور ہر جنگ ایک فلمی کلائمکس ہوتی ہے۔
آپریشن سندور بھی اسی فلمی سیاست کا ایک مہنگا اور عالمی ٹیکنالوجی سے مزین پروجیکٹ تھا۔ جدید اسلحہ، جدید میڈیا ٹیکنیکس اور عالمی بیانیہ ساز اداروں کے تعاون سے اس کو لانچ کیا گیا۔ مگر حیرت انگیز طور پر، اتنی بھاری سرمایہ کاری اور عالمی سطح کی کوششوں کے باوجود یہ منصوبہ اپنی اصل مقصدیت میں ناکام رہا۔ نقصان recover تو دور کی بات، بلکہ دنیا کے بڑے بڑے تجزیہ کاروں، صحافیوں اور مبصرین نے کھل کر اس فلمی جنگ کی ناکامی کو بے نقاب کر دیا۔
یہ جنگ میدان میں کم اور سکرین پر زیادہ لڑی گئی تھی، مگر جب پردہ ہٹا تو اس کے پیچھے کھوکھلا اسکرپٹ اور مصنوعی بیانیہ واضح ہو گیا۔
اب اس ناکامی کے بعد پروڈکٹ مودی دوبارہ ایک نیا سین ریکارڈ کروانے کی کوشش میں ہیں۔ انہیں ایک اور “چانس” چاہیے تاکہ وہ اپنے سیاسی کیریئر کی فلم کو دوبارہ بلاک بسٹر ثابت کر سکیں۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ ہر بار اسکرپٹ ایک ہی ہے: پاکستان دشمنی، جنگی جنون، اور قوم پرستی کا جذباتی شور۔
اس پورے اسکرپٹ میں ایک نام مسلسل ان کے ذہن پر سوار دکھائی دیتا ہے: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر۔ یہاں تک کہ بھارتی اسکرپٹ رائٹرز، خصوصاً RAW کے ذہن سازوں کے لیے، عاصم منیر ایک ایسا کردار بن چکے ہیں جو خواب میں بھی ان کے لیے خوف کی علامت بن گیا ہے۔ خواب میں انہیں عاصم منیر ایک اسٹک کے ساتھ نقشے پر کھڑا نظر آتا ہے، اور دشمن کے علاقے پر کنٹرول کے پلانز کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ یہ وہ نفسیاتی اور فلسفیانہ علامت ہے جو ہر اسکرپٹ، ہر منصوبہ اور ہر میڈیا بیانیے پر چھائی ہوئی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ بھارتی پروپیگنڈا مشینری عاصم منیر کی شخصیت کو مسلسل ٹارگٹ کرنے کی کوشش کرتی ہے، کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ اصل جنگ میدان میں نہیں بلکہ قیادت، عزم اور قومی بیانیے میں جیتی جاتی ہے۔
تاریخ ہمیں بار بار یہ سبق دیتی ہے کہ جنگیں اسکرپٹ، نعروں اور جذباتی تقاریر سے نہیں جیتی جاتیں۔ نیپولین نے روس کو چند ہفتوں میں فتح کرنے کا خواب دیکھا تھا، اور ہٹلر نے سوویت یونین کو ایک موسم میں ختم کرنے کا تصور کیا تھا۔ دونوں نے اپنی طاقت، پروپیگنڈا اور ناقابلِ شکست ہونے کے وہم میں حقیقت کو نظرانداز کیا، مگر تاریخ نے ثابت کیا کہ غرور، میڈیا بیانیہ اور فلمی تصور حقیقت کے سامنے بے بس ہو جاتے ہیں۔ طاقت کا اصل امتحان میدان، معیشت اور عوامی استحکام میں ہوتا ہے، نہ کہ اسکرین اور اسکرپٹ میں۔
آپریشن مادھوری اور آپریشن سندور دراصل ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں: ایک اسکرپٹڈ وار، ایک میڈیا وار، اور ایک نفسیاتی وار—جس کا مقصد دشمن کو کمزور کرنا کم اور اپنے عوام کو جذباتی طور پر قابو میں رکھنا زیادہ ہے۔
مودی سرکار نے قوم پرستی کو ایک تجارتی پراڈکٹ بنا دیا ہے۔ خوف بیچ کر ووٹ حاصل کیے جاتے ہیں، نفرت بیچ کر اقتدار مضبوط کیا جاتا ہے، اور جنگ کو فلمی انداز میں بیچ کر سیاسی ناکامیوں پر پردہ ڈالا جاتا ہے۔ مگر تاریخ کا اصول ہے کہ اسٹیج پر چلنے والا ڈرامہ زیادہ دیر نہیں چلتا، اور جب پردہ گرتا ہے تو اداکار اور اسکرپٹ دونوں بے نقاب ہو جاتے ہیں۔
پاکستان کے انٹیلی جنس ادارے، سیاسی قیادت اور دفاعی قیادت اس اسکرپٹڈ جنگ اور بھارتی فلمی جہالت کو بخوبی سمجھتے ہیں، اور دنیا نے واضح طور پر دیکھ لیا کہ یہ مصنوعی بیانیہ اور نمائشی طاقت عملی میدان میں کس طرح کمزور ثابت ہوئی اور شکست سے دوچار ہوئی۔
آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پروڈکٹ مودی کی جنگیں وقتی فلمیں ہیں، ان کے آپریشنز مہنگے پروجیکٹس ہیں، اور ان کا بیانیہ ایک مصنوعی کہانی ہے۔ مگر تاریخ کی عدالت میں صرف حقیقت ہی باقی رہتی ہے—اور حقیقت کبھی کسی اسکرپٹ کی پابند نہیں ہوتی، کیونکہ تاریخ اسکرپٹ نہیں، طاقت، تدبر اور حقیقت کے ہاتھوں لکھی جاتی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button