پاک افغان کشیدگی کے موجودہ تناظر میں پاکستان کی مسلح افواج کی جانب سے شروع کیا گیا”آپریشن غضب للحق” خطے کی سکیورٹی صورتحال میں ایک اہم اور فیصلہ کن موڑ کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ یہ محض ایک عسکری کارروائی نہیں بلکہ پاکستان کی خودمختاری، قومی سلامتی اور سرحدی استحکام کے تحفظ کے لیے کیا جانے والا ایک جامع اور مربوط اقدام ہے، جس کا بنیادی مقصد افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف ہونے والی دہشت گردی کا خاتمہ ہے۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان مسلسل اس حقیقت کی نشاندہی کرتا رہا کہ افغان سرزمین کو کالعدم دہشت گرد تنظیموں خصوصاً فتنہ خوارج اور ان کے سہولت کار پاکستان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔ سرحد پار حملوں، دراندازی اور دہشت گردی کے واقعات نے نہ صرف قبائلی اضلاع بلکہ پورے ملک کے امن و استحکام کو متاثر کیا۔ متعدد سفارتی کوششوں، مذاکرات اور انتباہات کے باوجود جب صورت حال میں کوئی بنیادی تبدیلی نہ آئی تو پاکستان کو اپنی قومی سلامتی کے تقاضوں کے مطابق عملی اقدام اٹھانا پڑا۔
اسی پس منظر میں شروع ہونے والا آپریشن غضب للحق اب بھرپور شدت کے ساتھ جاری ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق اس آپریشن کے نتیجے میں دشمن کو جانی اور مالی لحاظ سے بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اب تک تقریباً 684 خوارج ہلاک اور 912 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں جبکہ افغان طالبان کی 252 عسکری پوسٹیں تباہ کر دی گئی ہیں اور 44 پوسٹوں کو قبضے میں لے کر تباہ کیا گیا۔ اسی طرح 229 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپیں بھی ناکارہ بنا دی گئی ہیں، جو اس کارروائی کی شدت اور وسعت کو واضح کرتی ہیں۔
فضائی کارروائیوں کے دوران افغانستان میں دہشت گردوں اور ان کے معاون انفراسٹرکچر کے 73 اہم مقامات کو موثر انداز میں نشانہ بنایا گیا۔ خوست اور جلال آباد میں اسلحہ ڈپو اور ڈرون سٹوریج سائٹس کو تباہ کیا گیا، جبکہ قندھار میں زیر زمین ٹیکنیکل ایکوپمنٹ سٹوریج ٹنل کو بھی ختم کر دیا گیا۔ اسی طرح قندھار ایئر فیلڈ پر تیل ذخیرہ کرنے کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جو دہشت گرد نیٹ ورکس کی لاجسٹک سپورٹ کا اہم حصہ سمجھی جاتی تھیں۔جب ڈرونز اسلام آباد کی فضاؤں تک پہنچے تو ایک بار پھر پاکستان کے شاہینوں نے یہود و ہنود کی انگلیوں پر ناچنے والے بد مست طالبان کو سبق سکھانے کیلئے جاندار حملے کئے ۔
14 اور 15 مارچ کی درمیانی شب ہونے والی کارروائیوں میں پاکستان کی مسلح افواج نے متعدد اہم اہداف کو کامیابی کے ساتھ نشانہ بنایا۔ قندھار میں ایک تکنیکی معاونت کا مرکز اور اسلحہ و سازوسامان کے ذخیرہ کی تنصیب تباہ کر دی گئی۔ اس کے علاوہ افغانستان کے مختلف صوبوں میں دہشت گرد انفراسٹرکچر کو ہدف بنایا گیا، جن میں قندھار کی عسکری تنصیبات اور ایندھن کے ذخائر، خوست کے لانچنگ پیڈ اور اسلحہ گودام، جلال آباد کے ڈرون و اسلحہ سٹوریج مراکز، پکتیکا اور پکتیا کی سرحدی چوکیاں اور کنڑ و نورستان کے دہشت گرد ٹھکانے شامل ہیں۔ کابل اور پنج شیر کے اطراف اہم عسکری اہداف پر فضائی نگرانی اور حملے بھی اسی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔
افغان طالبان بوکھلاہٹ کا شکار ہیں ،جنگ بندی اور مذاکرات کی بھیک کیلئے کئی دوست ممالک کے ذریعے پاکستان سے رابطے کی کوشش کرچکے ہیں لیکن پاکستان نے اس بار کسی کی ایک نہ سنی۔ چین نے بھی ثالثی کی کوششیں شروع کردی ہیں ۔چین نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے حالیہ دنوں میں قابل ذکر سفارتی سرگرمی دکھائی ہے۔ بیجنگ نے افغانستان کے لیے اپنے خصوصی ایلچی کو اسلام آباد اور کابل بھیجا جبکہ چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے افغان قائم مقام وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی سے ٹیلیفونک رابطہ بھی کیا۔
چین کا موقف یہ ہے کہ دونوں ممالک تحمل کا مظاہرہ کریں، براہ راست مذاکرات شروع کریں اور جنگ بندی کے ذریعے اختلافات کو پرامن انداز میں حل کریں۔ یہ سفارتی کاوشیں اس حقیقت کی عکاس ہیں کہ چین خطے میں عدم استحکام کو اپنے معاشی اور جغرافیائی مفادات کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔
حالیہ پیش رفت میں پاکستان کی جانب سے چین کو یہ واضح پیغام دیا جانا کہ کابل حکومت کے ساتھ عدم رابطے کی موجودہ پالیسی برقرار رکھی جائے گی، دراصل اسلام آباد کی اس پالیسی کا تسلسل ہے جو افغان سرزمین سے سرگرم دہشت گرد گروہوں کے مسئلے کو بنیادی حیثیت دیتی ہے۔پاکستان کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ جب تک افغان سرزمین سے فتنہ خوارج (ٹی ٹی پی) اور دیگر دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیوں کا خاتمہ نہیں ہوتا، اس وقت تک کابل حکومت کے ساتھ معمول کے سفارتی روابط بحال کرنا ممکن نہیں۔
پاکستانی حکام کے مطابق اس معاملے پر نہ صرف براہ راست سفارتی چینلز استعمال کیے گئے بلکہ دوست ممالک کے ذریعے بھی طالبان حکومت کو تحفظات سے آگاہ کیا گیا، مگر اب تک کوئی ٹھوس پیش رفت سامنے نہیں آئی۔یہ صورتحال دراصل پاک افغان تعلقات کے اس بنیادی تضاد کو ظاہر کرتی ہے جس نے گزشتہ چند برسوں سے دونوں ممالک کے تعلقات کو متاثر کیا ہوا ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان عبوری حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی بھی ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔ دوسری جانب کابل حکومت کی جانب سے اس مسئلے پر واضح اور عملی اقدامات نہ ہونا اسلام آباد کے لیے ایک بڑا سکیورٹی چیلنج بن چکا ہے۔
چین کی ثالثی کی کوششیں یقیناً قابل قدر ہیں کیونکہ بیجنگ خطے میں استحکام کو نہ صرف سیاسی بلکہ اقتصادی نقطہ نظر سے بھی اہم سمجھتا ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) اور خطے میں علاقائی رابطوں کے منصوبوں کے لیے ایک پرامن ماحول ضروری ہے۔ اسی لیے چین پاکستان اور افغانستان کے درمیان مفاہمت کا خواہاں ہے تاہم سفارتی کوششوں کی کامیابی اسی صورت ممکن ہے جب اصل مسئلے یعنی سرحد پار دہشت گردی کے مسئلے کو عملی طور پر حل کیا جائے۔
پاکستان کے حالیہ موقف سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ اسلام آباد اب صرف وعدوں یا یقین دہانیوں پر انحصار کرنے کے بجائے زمینی تبدیلی کا مطالبہ کر رہا ہے۔ یہ ایک ایسی پالیسی ہے جو وقتی سفارتی دباؤ کے باوجود اپنی سلامتی کے بنیادی تقاضوں کو ترجیح دیتی ہے۔موجودہ حالات میں یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان پائیدار امن صرف اسی وقت ممکن ہوگا جب دونوں ممالک باہمی اعتماد کی فضا قائم کریں اور اپنی سرزمین کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال ہونے سے روکیں۔ چین کی ثالثی اگرچہ ایک مثبت پیش رفت ہے، لیکن اصل امتحان کابل حکومت کے عملی اقدامات ہیں۔اگر افغان سرزمین سے دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیاں ختم کرنے کے لیے واضح اور مؤثر اقدامات کیے جاتے ہیں تو نہ صرف پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بہتری آ سکتی ہے بلکہ پورا خطہ ایک نئے استحکام کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ بصورت دیگر سفارتی کوششیں محض بیانات اور ملاقاتوں تک محدود رہنے کا خطرہ رکھتی ہیں جبکہ خطے کا امن بدستور غیر یقینی کا شکار رہے گا۔



