3امریکی اڈوں پر ایرانی میزائلوں کی بارش، اسرائیل میں تباہی
پاسداران انقلاب کا نیتن یاہو کو ڈھونڈ کر قتل کرنے کا اعلان: ٹرمپ نے ایک بار پھر خارگ جزیرے پر حملے کا عندیہ دیدیا
تہران، واشنگٹن، ریاض، ابوظہبی، تل ابیب ( ویب ڈیسک) ایرانی پاسداران انقلاب نے آپریشن وعدہ صادق کے تحت حملوں کی نئی لہر کا آغاز کر دیا ہے، خطے میں امریکی تنصیبات اور اسرائیل کو نشانہ بنایا۔ پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے حملوں کے دوران خطے میں تین امریکی فوجی اڈے اور اسرائیل میں اہداف تباہ کر دئیے گئے ہیں، میڈیا رپورٹس میں بتایا جا رہا ہے کہ ایران کے حملے میں تل ابیب میں متعدد عمارتیں اور گاڑیاں تباہ ہوئیں۔ اسرائیلی حکام نے بھی 100سے زائد اسرائیلیوں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔ تل ابیب پر داغے گئے ایرانی میزائل کے ٹکڑے سے اسرائیل میں امریکی قونصل جنرل کی رہائش گاہ بھی نشانہ بنی۔ جنگ میں پہلی مرتبہ طویل فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنانے والے سجیل میزائل استعمال کئے گئے ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب نے یہ جوابی کارروائی ’’ یا زہرا‘‘ کے آپریشن کوڈ کے تحت انجام دی، جس میں متعدد میزائل استعمال کیے گئے، جن میں دوہرے وار ہیڈ والے سپر ہیوی خرم شہر میزائل، خیبر، قدر اور عماد بھی شامل ہیں۔ میزائلوں کے ذریعے اسرائیلی حکومت کے کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز اور اہم فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی شہر ہولون میں بھی میزائل گر ا، جس کے بعد مختلف علاقوں میں سائرن بجائے گئے۔ جبکہ بحرین ،کویت اور اردن میں امریکی بیسز کو نشانہ بنایا گیا اور خطے میں موجود ریڈار سسٹمز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ادھر لبنان میں موجود مسلح گروہ حزب اللہ نے بھی اسرائیل کے شمالی علاقوں کی طرف میزائل یا ڈرون حملے کیے ہیں۔
پاسداران انقلاب نے اسرائیلی وزیراعظم بییامین نیتن یاہو کا تعاقب جاری رکھنے کا عزم کرتے ہوئے کہا ہے اگر بچوں کا قاتل مجرم زندہ ہے تو اس کا پیچھا جاری رکھیں گے اور اسے پوری قوت سے قتل کریں گے۔ ادھر امریکہ اور اسرائیل نے ایران میں صوبہ اصفہان کے کئی مقامات کو نشانہ بنایا ہے، جس میں ایرانی فوج کے بریگیڈئیر جنرل عبداللہ جلالی سمیت کم از کم 16افراد کے شہید ہونے کی اطلاعات ہیں۔ دریں اثنا سعودی عرب کی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا کہ رات بھر اس نے اپنی فضائی حدود میں ایران کے 26ڈرون مار گرائے۔
زیادہ تر دارالحکومت ریاض اور ملک کے مشرقی علاقوں کے قریب تھے۔ کویت نے بھی اعلان کیا کہ اس کی نیشنل گارڈ نے 24گھنٹے میں ایران کے پانچ ڈرون مار گرائے۔ دریں اثنا امریکی نیوز ویب سائٹ کے مطابق اسرائیل نے امریکہ کو بتایا ہے کہ اس کے پاس بیلسٹک میزائل انٹر سیپٹرز بہت کم رہ گئے ہیں، ادھر عرب میڈیا نے 15روز سے جاری جنگ میں اموات کے اعدادو شمار جاری کر دئیے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے نتیجے میں ایران میں 1444افراد شہید ہوئے۔ اسرائیلی حملوں سے لبنان میں 773 افراد شہید ہوئے۔ جبکہ اسرائیل میں 14افراد ہلاک ہوئے جبکہ ایرانی حملوں میں 11امریکی فوجی مارے گئے۔
یو اے ای میں 6، سعودیہ عرب میں 2، عراق میں 26، کویت میں 6، عمان میں 3، بحرین میں 2افراد جاں بحق ہوئے۔ مزید برآں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ قطر،سعودی عرب، عمان اور دیگر ہمسایہ ممالک کے ساتھ سفارتی رابطے مسلسل جاری ہیں، کسی رہائشی علاقے کو نشانہ نہیں بنایا، رہبرِ اعلی مجتبی خامنہ ای صحتمند اور صورت حال پر مکمل طور پر قابو رکھتے ہیں۔ ایک انٹرویو میں عباس عراقچی نے کہا کہ ایران ہر اس اقدام کا خیرمقدم کرے گا جو جنگ کے مکمل خاتمے کا باعث بنے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں بعض اہداف پر حملوں کے پیچھے امریکی ساختہ ڈرون لوکاس ہو سکتا ہے، عرب ممالک میں شہری اہداف پر حملوں کے پیچھے ممکنہ طور پر اسرائیل کا ہاتھ ہو سکتا ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز امریکی جہازوں اور امریکی اتحادیوں کے علاوہ سب کے لیے کھلی ہے۔ عباس عراقچی نے امریکہ کو طعنہ دیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کی حفاظت کے لیے چین سے بھیک مانگنے پر مجبور ہوچکا ہے۔ مزید برآں ایران نے علاقائی ممالک کو امریکی فالس فلیگ آپریشن سے خبردار کر دیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایران نے امریکہ پر فالس فلیگ آپریشن کے لیے شاہد ڈرونز کی کاپی استعمال کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ دوسری جانب ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ اس جنگ نے ایک بات ثابت کردی ہے کہ خطے میں امریکی فوجی اڈے کسی کو تحفظ نہیں دیتے، امریکہ نے جسے بھی کپڑے پہنائے وہ برہنہ ہوگیا۔ محمد باقر قالیباف نے سماجی ویب سائٹ ایکس پراپنے بیان میں امریکی اڈے مشرقِ وسطی کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے خارگ جزیرے پر حملے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ کہ ایرانی حکام نے ممکنہ معاہدے کے لئے رابطہ کیا ہے، تاہم موجودہ شرائط امریکہ کیلئے قابل قبول نہیں اور اس وقت مذاکرات کے لیے حالات مناسب نہیں۔ ایک انٹرویو میں امریکی صدر نے کہا سنا ہے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اب زندہ نہیں لیکن سپریم لیڈر کی موت کی خبر افواہ ہوسکتی ہے۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے ایران کو فوجی اور معاشی طور پر مکمل شکست دے دی، خارگ جزیرے کا زیادہ تر حصہ مکمل طور پر تباہ کر دیا، ممکن ہے کہ خارگ جزیرے پر صرف تفریح کے لیے چند بار اور حملہ کریں۔ ٹرمپ نے کہا ایران نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھائی ہیں یا نہیں، یہ ابھی واضح نہیں۔ امریکی صدر نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے تیل لینے والے ممالک اس راستے کی سکیورٹی خود یقینی بنائیں، امریکہ ان ممالک کے ساتھ بحری گزرگاہ کے تحفظ کیلئے تعاون کریگا، یہ ہمیشہ ٹیم ورک ہونا چاہیے، اب دنیا امن اور استحکام کی طرف بڑھے گی۔ امریکی صدر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران تنازع ختم کرنے کیلئے ڈیل کرنا چاہتا ہے لیکن ابھی تک ایران کی پیش کردہ شرائط اچھی نہیں۔



