
پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز بارہا یہ اعلان کر چکی ہیں کہ عوام کو معیاری اور بروقت صحت کی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ صوبے کے سرکاری ہسپتالوں کے لیے اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے، جدید مشینری کی خریداری، ادویات کی فراہمی اور ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن کے دعوے بھی سامنے آتے رہتے ہیں لیکن دوسری جانب زمینی حقائق ایک مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔
کئی سرکاری ہسپتالوں میں سنگین نوعیت کے مریض مہینوں تک آپریشن کی تاریخ کے انتظار میں رہتے ہیں، جبکہ تشخیصی ٹیسٹوں کے لیے مشینوں کی خرابی کا جواز دے کر انہیں نجی لیبارٹریوں کا رخ کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس صورتحال کا ذمہ دار کون ہے؟ محکمہ صحت کی بیوروکریسی، ہسپتال انتظامیہ یا ڈاکٹرز؟
صحت کا شعبہ کسی بھی حکومت کی کارکردگی کا سب سے اہم پیمانہ سمجھا جاتا ہے۔ اگر ایک مریض درد اور تکلیف میں مبتلا ہو کر کئی ماہ تک آپریشن کے انتظار میں رہے تو اس کے لیے حکومتی اعلانات کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہتی۔ دل، گردے، آنکھوں، ہڈیوں اور دیگر پیچیدہ بیماریوں کے مریض اکثر یہ شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ انہیں بار بار نئی تاریخ دی جاتی ہے۔ بعض اوقات مرض اتنا بڑھ جاتا ہے کہ بروقت علاج کے مواقع بھی ضائع ہو جاتے ہیں۔
یہ مسئلہ صرف آپریشن تھیٹرز کی کمی کا نہیں بلکہ انتظامی ناکامی کا بھی ہے۔ اگر حکومت واقعی صحت کے شعبے پر اربوں روپے خرچ کر رہی ہے تو پھر آپریشنز کی طویل ویٹنگ لسٹ کیوں موجود ہے؟ کیا ہسپتالوں میں سرجنز کی کمی ہے؟ کیا آپریشن تھیٹرز پوری استعداد سے کام نہیں کر رہے؟ یا پھر وسائل کی تقسیم میں کہیں کوئی بڑی خامی موجود ہے؟
دوسرا بڑا مسئلہ تشخیصی ٹیسٹوں کا ہے سرکاری ہسپتالوں میں اکثر مریضوں کو بتایا جاتا ہے کہ ایم آر آئی، سی ٹی سکین، الٹراساؤنڈ یا دیگر ضروری ٹیسٹوں کی مشین خراب ہے۔ نتیجتاً مریض نجی لیبارٹریوں کا رخ کرتے ہیں جہاں ایک عام آدمی کی جیب پر ہزاروں بلکہ بعض اوقات لاکھوں روپے کا اضافی بوجھ پڑتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر جدید مشینری خریدی جا چکی ہے تو اس کی دیکھ بھال اور بروقت مرمت کا نظام کیوں مؤثر نہیں؟
اس صورتحال میں صرف ڈاکٹرز کو موردِ الزام ٹھہرانا بھی مناسب نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سرکاری ہسپتالوں کے بہت سے ڈاکٹر روزانہ سینکڑوں مریضوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔ اگر ایک ڈاکٹر کے پاس محدود وقت اور وسائل ہوں تو وہ بھی نظام کی کمزوریوں کا شکار بن جاتا ہے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ بعض مقامات پر غفلت، غیر حاضری اور مریضوں کے ساتھ نامناسب رویے کی شکایات موجود ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
اصل ذمہ داری محکمہ صحت کی بیوروکریسی اور ہسپتالی انتظامی ڈھانچے پر عائد ہوتی ہے، کیونکہ منصوبہ بندی، وسائل کی تقسیم، مشینری کی دیکھ بھال، عملے کی تعیناتی اور نگرانی انہی کے دائرہ اختیار میں آتی ہے۔ اگر اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود مریض بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ کہیں نہ کہیں احتساب اور نگرانی کا نظام کمزور ہے۔
حکومت پنجاب کے لیے ضروری ہے کہ وہ صرف نئی اسکیموں کے اعلانات تک محدود نہ رہے بلکہ ہسپتالوں کی کارکردگی کا باقاعدہ آڈٹ بھی کرے۔ آپریشن کے انتظار میں موجود مریضوں کا ڈیٹا عوام کے سامنے لایا جائے، خراب مشینوں کی فوری مرمت یقینی بنائی جائے اور ہسپتال انتظامیہ کی کارکردگی کو نتائج سے جوڑا جائے۔ جب تک فنڈز کے استعمال، انتظامی فیصلوں اور مریضوں کو ملنے والی حقیقی سہولتوں کے درمیان موجود خلا ختم نہیں ہوگا، تب تک اربوں روپے کی سرمایہ کاری بھی عوام کے لیے اطمینان کا باعث نہیں بن سکے گی۔
آخرکار ایک بیمار انسان کو اعداد و شمار نہیں بلکہ بروقت علاج چاہیے اگر مریض کو آپریشن کی تاریخ کے لیے مہینوں انتظار کرنا پڑے اور ٹیسٹوں کے لیے نجی لیبارٹریوں کے چکر لگانے پڑیں تو پھر سوال اٹھنا فطری ہے کہ صحت کے نظام میں خرابی کہاں ہے اور اس کا جوابدہ کون ہے؟ یہی وہ سوال ہے جس کا جواب عوام آج بھی تلاش کر رہے ہیں۔



