لاہور، اسلام آباد (ویب ڈیسک) حکومت نے آئندہ ایک ہفتے کے لیے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی میں اضافہ کر دیا ہے، جبکہ مٹی کے تیل اور جیٹ فیول کی قیمتوں میں کمی کی گئی ہے۔
ذرائع پٹرولیم ڈویژن کے مطابق ہائی سپیڈ ڈیزل پر پٹرولیم لیوی میں 6 روپے 57 پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ڈیزل پر لیوی بڑھ کر 79 روپے 54 پیسے فی لٹر ہوگئی ہے۔
اسی طرح پٹرول پر عائد لیوی میں 39 پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد پٹرول پر لیوی کی شرح بڑھ کر 66 روپے 64 پیسے فی لٹر ہوگئی ہے۔
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار
پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول کی قیمت 299 روپے 50 پیسے فی لٹر برقرار رکھی گئی ہے، جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت 311 روپے 47 پیسے فی لٹر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
حکومت نے مٹی کے تیل پر پٹرولیم لیوی 20 روپے 36 پیسے فی لٹر برقرار رکھی ہے، تاہم مٹی کے تیل کی قیمت میں کمی کی گئی ہے۔
اوگرا کے نوٹیفکیشن کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت میں 6 روپے 85 پیسے فی لٹر کمی کے بعد نئی قیمت 227 روپے 5 پیسے فی لٹر مقرر کر دی گئی ہے۔
جیٹ فیول بھی سستا کر دیا گیا
حکومت نے جیٹ فیول کی قیمت میں بھی کمی کر دی ہے۔ جیٹ فیول کی قیمت میں 7 روپے 15 پیسے فی لٹر کمی کے بعد نئی قیمت 231 روپے 72 پیسے فی لٹر ہوگئی ہے۔
جیٹ فیول کی قیمت میں کمی سے ایئر لائنز کے طیاروں کے ایندھن اخراجات میں کمی متوقع ہے۔
حکومت عالمی قیمتوں کا جائزہ لے گی: علی پرویز ملک
وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ حکومت اس ہفتے پٹرول اور ڈیزل کی بین الاقوامی قیمتوں کے اشاریوں کا جائزہ لے گی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نہ کسی شعبے کو ترجیح دے رہی ہے اور نہ ہی کسی دوسرے شعبے پر غیر ضروری بوجھ ڈال رہی ہے۔ حکومت اپنی عالمی ذمہ داریوں کے دائرے میں رہتے ہوئے صارفین تک ممکنہ ریلیف پہنچانے کے لیے پرعزم ہے۔
علی پرویز ملک نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے عوام سے کیے گئے وعدے کے تحت ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں مجموعی طور پر 200 روپے فی لٹر جبکہ پٹرول کی قیمت میں مجموعی طور پر 155 روپے فی لٹر کمی کی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ رواں ہفتے عالمی منڈی میں پٹرول کی پلیٹس قیمت 98.35 سے 91.68 ڈالر فی بیرل کے درمیان رہی، جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی پلیٹس قیمت 109.09 سے 104.79 ڈالر فی بیرل کے درمیان رہی۔
وزیر پٹرولیم نے کہا کہ وزیراعظم نے وعدہ کیا تھا کہ عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام تک منتقل کیا جائے گا۔ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل تک آ گئی ہے، تاہم خام تیل ریفائنری کے لیے استعمال ہوتا ہے اور اسے براہ راست استعمال نہیں کیا جا سکتا۔



