پاکستانتازہ ترین

بانی پی ٹی آئی کامٹن، قیمہ، دیسی مرغی مینیو: عظمیٰ بخاری

ہمیں گورننس کے بھاشن دینے والے اپنے صوبہ پر توجہ دیں: وزیر اطلاعات پنجاب

لاہور:(بیوروچیف)وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ پنجاب خصوصاً جنوبی پنجاب کے دور دراز علاقوں میں صاف پانی کی فراہمی وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا اہم وژن ہے، جس کے تحت دہائیوں سے پیاس اور پانی کے حصول کے لیے طویل مسافت طے کرنے والے خاندانوں کو ان کی دہلیز پر مفت صاف پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔
 انہوں نے کہا کہ مکہ معاہدہ پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا نیا سنگ میل ہے جس پر پوری قوم فخر اور خوشی منا رہی ہے، جبکہ سندھ میں 18 سال سے حکومت کرنے والوں کو پنجاب کو گورننس کے بھاشن دینے کے بجائے اپنے صوبے کے عوام کے بنیادی مسائل، بالخصوص پانی، صفائی، ٹرانسپورٹ اور انفراسٹرکچر پر توجہ دینی چاہیے۔
 عظمیٰ بخاری نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی جیل میں سہولیات کے حوالے سے حقائق سب کے سامنے ہیں، ان کی جان کو خطرے کا بیانیہ محض سیاسی پروپیگنڈا ہے کیونکہ جھوٹ اور پروپیگنڈے کی بھی ایک شیلف لائف ہوتی ہے اور آخرکار سچ سامنے آ ہی جاتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پنجاب حکومت لوکل باڈیز انتخابات کے لیے مکمل تیار ہے۔
 ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈی جی پی آر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انکا کہنا تھا کہ پاکستان کے حصے میں ایک بار پھر عزت لکھی گئی ہے، مکہ معاہدہ پاکستان کی ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے اور پوری قوم اس کامیابی کو فخر اور خوشی کے ساتھ منا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے کے بعد پوری دنیا کے تجزیہ کاروں اور میڈیا نے اسے ایک بڑی پیش رفت قرار دیا تھا اور اس وقت یہ بات بھی سامنے آ رہی تھی کہ مزید ممالک اس معاہدے کا حصہ بن سکتے ہیں، جس کا عملی اظہار ترکیہ کی شمولیت سے ہوا ہے۔
 انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ جسے عزت دے اسے دنیا کی کوئی طاقت ذلت نہیں دے سکتی، پاکستان کے خلاف سازشوں اور بے بنیاد بیانیوں کے باوجود اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو دنیا میں اپنی صلاحیت اور مقام منوانے کے مواقع دیے ہیں۔عظمیٰ بخاری نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان، فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار پاکستان کی اس سفارتی کامیابی پر خراج تحسین کے مستحق ہیں۔
 پوری قوم بالخصوص بیرون ملک پاکستانی اس کامیابی کو بھرپور انداز میں سلیبریٹ کر رہے ہیں۔ ترکیہ اور سعودی عرب میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کی خوشی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ معاہدہ پاکستان کے لیے کس قدر اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا یہ سلسلہ آئندہ بھی اسی طرح آگے بڑھے گا۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ ایک وقت تھا جب پاکستان کے ڈیفالٹ کی باتیں کی جا رہی تھیں، یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ پاکستان کا کوئی فون نہیں اٹھاتا اور کوئی ملک پاکستان سے بات کرنے کو تیار نہیں، لیکن آج الحمدللہ اگر یہ کہا جائے کہ دنیا کی سیاست کا محور پاکستان بنتا جا رہا ہے تو یہ غلط نہیں ہوگا۔
پاکستان کا عالمی مقام اور سفارتی اثر و رسوخ دن بدن بڑھ رہا ہے۔عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب کے دور دراز علاقوں میں ماؤں اور بہنوں کو شدید گرمی اور دشوار گزار راستوں سے گزر کر صرف پینے کا پانی حاصل کرنے کے لیے کئی کئی کلومیٹر سفر کرنا پڑتا تھا۔ صاف پانی صرف ایک سہولت نہیں بلکہ زندگی کی بنیادی ضرورت اور اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ان حالات کو تبدیل کرنے کا عزم کیا اور صاف پانی کی فراہمی کے لیے عملی پروگرام شروع کیا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کا واضح وژن ہے کہ جن علاقوں میں صاف پانی دستیاب نہیں، وہاں لوگوں کو ان کی دہلیز پر عزت اور احترام کے ساتھ مفت صاف پانی فراہم کیا جائے۔اسی وژن کے تحت پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر ڈیرہ غازی خان، خوشاب، رحیم یار خان اور بہاولنگر میں واٹر باٹلنگ پلانٹس مکمل طور پر فعال کیے گئے ہیں۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ان خاندانوں کو 19 لیٹر کی مفت پانی کی بوتلیں فراہم کی جا رہی ہیں جو ماضی میں کئی کئی کلومیٹر پیدل چل کر پانی لانے پر مجبور تھے۔ کل تک کے اعداد و شمار کے مطابق 44,582 بوتلز گھریلو صارفین تک پہنچائی جا چکی ہیں، جس سے تقریباً 2 لاکھ 84 ہزار افراد مستفید ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام سے آنے والے برسوں میں 2 کروڑ سے زائد افراد کے مستفید ہونے کی توقع ہے اور وزیراعلیٰ پنجاب اس پروگرام کو مزید علاقوں تک توسیع دینے جا رہی ہیں۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ پنجاب میں ایسے علاقے بھی ہیں جہاں پانی کی سطح بہت نیچے جا چکی ہے، کہیں پانی دستیاب نہیں، کہیں پینے کا پانی آلودہ ہے اور کہیں سیوریج کے پانی کے ساتھ مل کر لوگوں تک پہنچتا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے ان تمام مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے صاف پانی کی فراہمی کا عملی پروگرام شروع کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز ان لوگوں میں سے نہیں جو پہلے فنڈز اور فزیبلٹی کی باتیں کرتے ہیں اور برسوں بعد منصوبے شروع کرتے ہیں، بلکہ جب وہ کوئی پروگرام شروع کرتی ہیں تو عوام تک اس کے ثمرات پہنچنا شروع ہو جاتے ہیں اور اس کے بعد اس کا عملی ثبوت بھی سامنے آتا ہے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ آج پاکستان کی سیاسی صورتحال اس اعتبار سے دلچسپ ہے کہ بڑی سیاسی جماعتیں مختلف صوبوں میں حکومت کر رہی ہیں اور عوام کے سامنے صوبائی کارکردگی کا تقابلی جائزہ بھی موجود ہے۔ پنجاب میں وزیراعلیٰ مریم نواز کی حکومت نے عملی کارکردگی کے ذریعے واضح برتری حاصل کی ہے۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ پنجاب کو گورننس کے بھاشن دیتے ہیں انہیں اپنے صوبے کی صورتحال بھی عوام کے سامنے رکھنی چاہیے۔
پنجاب کے حوالے سے بین الاقوامی جرائد میں شائع ہونے والی مثبت رپورٹس سب کے سامنے ہیں، تاہم وزیراعلیٰ مریم نواز سمجھتی ہیں کہ ابھی بہت کام باقی ہے اور وہ اسی جذبے کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں۔وزیر اطلاعات نے سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ 18 سال سے صوبے میں حکومت کرنے والوں کو پنجاب کو مشورے دینے سے پہلے اپنے صوبے کے عوام کے مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام صفائی، ٹرانسپورٹ، انفراسٹرکچر اور امن و امان کے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، اس لیے قیمتی مشوروں کی سب سے زیادہ ضرورت سندھ حکومت کو ہے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اگر پنجاب کی ترقی اور خوشحالی کراچی اور سندھ کے عوام تک پہنچتی ہے تو پنجاب حکومت سے زیادہ خوشی کسی اور کو نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ اپنے صوبے کے عوام کو بنیادی سہولیات فراہم نہیں کر سکے، انہیں پنجاب کو گورننس کے لیکچر دینے سے پہلے اپنے صوبے کی کارکردگی کا جواب دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کسی کی محرومی یا لاش پر سیاست کرنے کی قائل نہیں۔ جہاں پنجاب حکومت سے غلطی ہوئی، اسے تسلیم بھی کیا گیا اور فوری اصلاح کے اقدامات بھی کیے گئے۔ خواتین اور بچیوں کے خلاف جرائم کے حالیہ واقعات میں کارروائی کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پنجاب میں کسی کو بچانے کی کوشش نہیں کی جاتی؛ قانون اپنا راستہ اختیار کرتا ہے اور متعلقہ ادارے کارروائی کرتے ہیں۔عظمیٰ بخاری نے آزاد کشمیر انتخابات کے حوالے سے دھاندلی کے الزامات پر بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پولنگ مکمل طور پر شروع بھی نہیں ہوتی کہ ایک ہی اسکرپٹ کے تحت دھاندلی کا شور شروع کر دیا جاتا ہے۔
انہوں نے سوال کیا کہ جن حلقوں میں پیپلز پارٹی کے امیدوار کامیاب ہوتے ہیں وہاں الیکشن کمیشن درست اور جہاں مسلم لیگ ن کے امیدوار کامیاب ہوں وہاں وہی الیکشن کمیشن غلط کیسے ہو جاتا ہے؟ وزیر اطلاعات نے بانی پی ٹی آئی کی صحت اور جان کو لاحق خطرے کے حوالے سے جاری بیانیے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مکہ معاہدے جیسی بڑی سفارتی کامیابی کے فوراً بعد بانی پی ٹی آئی کی صحت اور جان کے حوالے سے ایک نئی مہم شروع ہونا سوالات کو جنم دیتا ہے۔
 انہوں نے کہا کہ جب پوری دنیا پاکستان کی سفارتی کامیابی کو سراہ رہی ہو تو ملک کو بدنام کرنے کے لیے نئے پروپیگنڈے شروع کرنا کسی کے مفاد میں نہیں۔عظمیٰ بخاری نے کہا کہ عمران خان کو جیل میں فراہم کی جانے والی سہولیات کے حوالے سے جو حقائق موجود ہیں وہ ان تمام دعوؤں سے مختلف ہیں جو سوشل میڈیا اور بعض حلقوں کی جانب سے کیے جا رہے ہیں۔
 ان کے مطابق عمران خان کو طبی معائنہ، اپنی پسند کے کھانے کی سہولت، ورزش اور دیگر ضروری سہولیات میسر ہیں، جبکہ ان کا طبی ریکارڈ بھی باقاعدگی سے مرتب کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کے لیے سائیکلنگ مشین، ورزش اور اسٹریچنگ کی سہولیات موجود ہیں، انہیں قدرتی روشنی اور تازہ ہوا میسر ہے، موسمی کپڑے، بستر، ہائیجین کٹ اور روزمرہ استعمال کی اشیا فراہم کی جاتی ہیں۔
ان کے مطابق عمران خان کی اہلیہ سے ملاقاتیں بھی ہوتی رہی ہیں اور وکلا کو بھی ان تک رسائی حاصل ہے۔عظمیٰ بخاری نے کہا کہ عمران خان کی صحت کے حوالے سے شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوششیں دراصل ایک منظم پروپیگنڈا مہم کا حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جھوٹ کی بھی ایک شیلف لائف ہوتی ہے، آخرکار حقیقت سامنے آ جاتی ہے۔
سوالات کے جواب دیتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے 2015 سے 2026 تک کے عرصے کو درست تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ 2015 میں بلدیاتی انتخابات کے بعد 2018 تک حکومت موجود رہی، جبکہ پی ٹی آئی کی حکومت نے اپنے دور میں بھی بلدیاتی انتخابات نہیں کرائے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت بلدیاتی انتخابات کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور اس حوالے سے فنڈز کی فراہمی کے لیے متعلقہ فورم سے درخواست بھی کی جا چکی ہے۔ الیکشن کمیشن جیسے ہی ضروری تیاری مکمل کرکے تاریخ دے گا، پنجاب حکومت بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے مکمل طور پر تیار ہوگی۔
پیپلز پارٹی کے حوالے سے سوال پر عظمیٰ بخاری نے کہا کہ انہیں خود سمجھ نہیں آتی کہ پیپلز پارٹی آخر چاہتی کیا ہے۔ ایک طرف انہیں حکومت میں بھی رہنا ہے، دوسری طرف ترقیاتی فنڈز بھی لینے ہیں، تبادلوں اور تعیناتیوں میں بھی حصہ چاہیے اور ساتھ ہی اپوزیشن بھی کرنی ہے۔پیپلز پارٹی کو پہلے اپنی پالیسی واضح کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ سندھ میں 18 سال سے حکومت ہے، این ایف سی سمیت مختلف ذرائع سے ملنے والے وسائل اپنے صوبے کے عوام پر خرچ کیے جائیں۔
 سندھ کے عوام صفائی، ٹرانسپورٹ اور بنیادی سہولیات کے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ کراچی اور سندھ کے عوام جس ترقی اور خوشحالی کے منتظر ہیں، اگر وہ وہاں آتی ہے تو پنجاب سے زیادہ خوشی کسی کو نہیں ہوگی۔عظمیٰ بخاری نے کہا کہ جو لوگ پنجاب کو گورننس کے مشورے دیتے ہیں انہیں پہلے اپنے صوبے کے عوام کے مسائل حل کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز نے صرف دو ماہ کے اندر چار اضلاع میں واٹر باٹلنگ پلانٹس فعال کرکے لوگوں کی دہلیز پر مفت صاف پانی پہنچانے کا عملی مظاہرہ کیا ہے۔
 انہوں نے کہا کہ جو لوگ اپنے صوبے میں سڑکیں، گلیاں اور سیوریج کا نظام بہتر نہیں کر سکے، انہیں پنجاب کو گورننس کے بھاشن دینے سے پہلے اپنے صوبے کی کارکردگی دیکھنی چاہیے۔عمران خان کو جیل میں ملنے والی سہولیات سے متعلق سوال کے جواب میں عظمیٰ بخاری نے کہا کہ وہ چیلنج کے ساتھ کہتی ہیں کہ پاکستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کی تاریخ میں اگر کسی مجرم کو کسی جیل میں اتنی شاہانہ سہولیات ملتی ہیں تو وہ جواب دہ ہونے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو، جب وہ وزیراعلیٰ نہیں تھیں اور جیل میں تھیں، بی کلاس کی پیشکش کی گئی تھی۔ ان سے کہا گیا تھا کہ اگر وہ تحریری درخواست دیں تو انہیں بی کلاس دے دی جائے گی، تاہم انہوں نے بی کلاس لینے سے صاف انکار کر دیا تھا۔ عظمیٰ بخاری نے کہا کہ مریم نواز کا وہ خط آج بھی ان کے فون میں موجود ہے جس میں انہوں نے واضح طور پر لکھا تھا کہ وہ بی کلاس نہیں چاہتیں اور انہوں نے کوئی بی کلاس نہیں لی تھی۔عظمیٰ بخاری نے کہا کہ مسلم لیگ ن کا مؤقف واضح ہے کہ سیاست خدمت، کارکردگی اور عوامی مسائل کے حل کا نام ہے۔
Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button