پاکستانتازہ ترینتعلیم/ادبعلاقائی خبریں

پنجاب:شدید گرمی میں امتحانات ،متعددطلبہ بیہوش،تعلیمی نظام سوالیہ نشان

امیروں کیلئے فائیوسٹار جیسی سہولتیں غریبوں کے بچے بھٹی کی آگ میں جلنے لگے،مولا بخش ٹائپ امتحانی سٹاف سے بچے خوفزدہ،ایجوکیشن بورڈزکا کوئی چیئرمین ہی نہیں،والدین بھی پریشان

لاہور:میاں حبیب

 

لاہور:(میاں حبیب) پنجاب بھر میں جاری ایف اے اور ایف ایس سی سالِ اول کے امتحانات شدید گرمی، لوڈشیڈنگ اور بنیادی سہولتوں کے فقدان کے باعث ہزاروں طلبہ کیلئے اذیت ناک مرحلہ بن گئے ہیں۔ والدین، اساتذہ اور طلبہ نے امتحانی مراکز میں ناقص انتظامات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے محکمہ تعلیم اور تعلیمی بورڈز کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

شدید گرمی کی لہر کے دوران جہاں صوبے بھر کے تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیاں جاری ہیں، وہیں انٹرمیڈیٹ کے طلبہ روزانہ امتحانی مراکز میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ متعدد مراکز میں نہ مناسب وینٹی لیشن موجود ہے، نہ کولنگ سسٹم اور نہ ہی بجلی کی بندش کے دوران کوئی متبادل انتظام۔

فائل فوٹو

طلبہ کا کہنا ہے کہ امتحان کے دوران بار بار بجلی کی بندش سے ان کی توجہ متاثر ہوتی ہے جبکہ شدید گرمی میں کئی گھنٹے کمرہ امتحان میں گزارنا ذہنی اور جسمانی اذیت سے کم نہیں۔ بعض طلبہ نے شکایت کی کہ پسینہ امتحانی کاپیوں پر ٹپکتا رہا جس سے لکھائی اور جوابات متاثر ہوئے۔

ذرائع کے مطابق لاہور سمیت مختلف شہروں کے امتحانی مراکز میں متعدد طلبہ گرمی کی شدت کے باعث بے ہوش بھی ہوئے۔ جی سی کالج کے طلبہ کیلئے قائم گورنمنٹ ہائی سکول چوبرجی کے امتحانی مرکز میں دو طلبہ کے بے ہوش ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں، جس کے بعد انتظامیہ نے عارضی طور پر کولرز کا انتظام کیا۔

تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ پنجاب کے بیشتر امتحانی مراکز میں نہ جنریٹر موجود ہیں اور نہ ہی ایمرجنسی پاور بیک اپ، جبکہ بورڈ دفاتر اور چند مخصوص مراکز میں یہ سہولت دستیاب ہے۔ ماہرین تعلیم کے مطابق ایسے حالات میں طلبہ کی تعلیمی استعداد کا درست اندازہ لگانا ممکن نہیں رہتا۔

 

دوسری جانب والدین نے سوال اٹھایا ہے کہ جب موسمِ گرما کی شدت ہر سال متوقع ہوتی ہے تو امتحانی شیڈول اپریل یا اس سے قبل کیوں مکمل نہیں کیا جاتا۔ ان کا کہنا ہے کہ جدید امتحانی نظام اور تعلیمی اصلاحات کے دعووں کے باوجود بنیادی سہولتوں کی عدم دستیابی افسوسناک ہے۔

تعلیمی ماہرین نے حکومت پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ امتحانی مراکز میں سولر یا جنریٹر بیک اپ، کولنگ سسٹم اور مناسب نشستوں کا انتظام یقینی بنایا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر طلبہ کو مساوی اور سازگار ماحول فراہم نہیں کیا جاتا تو امتحانات کا مقصد اور شفافیت دونوں متاثر ہوتے ہیں۔

ادھر پنجاب کے نو تعلیمی بورڈز میں مستقل چیئرمینز کی عدم تعیناتی، انتظامی امور میں تاخیر اور ملازمین کی ترقیوں کے تعطل کو بھی تعلیمی نظام کی کمزوری قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تعلیمی شعبے میں مستقل پالیسی اور مؤثر انتظامی ڈھانچے کے بغیر طلبہ کے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔

 

ویسے تو شدید گرمی کے باعث تعلیمی اداروں میں چھٹیاں چل رہی ہیں لیکن فرسٹ ایئر کے طلبہ کو امتحانی عذاب سے گزارا جا رہا ہے شدید گرمی میں ویسے ہی مت ماری ہوتی ہے ہر ذی جان سست لاغر ہو جاتا ہے۔

گرمی کی حدت کے باعث استعداد کار کم ہو جاتی ہے انسان زیادہ متحرک نہیں رہتا ایک تو سخت گرمی کے موسم میں امتحان اوپر سے ہمارے امتحانی سنٹروں کی حالت زار خراب پنکھے اور بار بار بجلی کی ٹرپننگ اور لوڈ شیڈنگ آپ ذرا اندازہ لگائیں کہ جو بچہ موسم کی حدت سے پہلے ہی حواس باختہ ہے اسکی سوچنے سمجھنے یاد کرنے کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے اس کو ایسے کمرے میں بٹھا دیا جائے جہاں روشنی اور ہوا کا مناسب انتظام بھی نہ ہو پنکھے بھی گزارے لائق ہوں اور اوپر سے لائٹ چلی جائے تو آپ اس سے کس کارکردگی کی توقع کر سکتے ہیں۔

والٹن روڈ پر قائم خواجہ رفیق شہید کالج سمیت کئی امتحانی مراکز میں پیپر دینے آئے طلبہ نے روتے ہوئے بتایا کہ لوڈشیڈنگ اورشدید گرمی کے باعث میرا پیپر صیح نہیں ہو سکا ۔

باقی پنجاب کے تمام امتحانی سنٹروں میں کہیں نہ کولر ہیں نہ جنریٹر ہیں نہ لائٹ کا کوئی متبادل نظام ہے، امتحانی شیڈول بنانے والے حکمت کاروں کی عقل پر ماتم کرنے کو دل کرتا ہے جنھوں نے اتنی گرمی میں شیڈول بنایا اس موسم میں آپ طلبہ کے تعلیمی معیار کا اندازہ نہیں لگا سکتے یہ طلبہ کے ساتھ ناانصافی اور زیادتی ہے میٹرک اور انٹرمیڈیٹ تک کے طلبہ کے تمام امتحانات اپریل سے پہلے پہلے ہو جانے چاہیں ۔

یونیورسٹی کے طلبہ میچور ہو چکے ہوتے ہیں وہ پھر بھی برداشت کر لیتے ہیں لیکن انٹر کے بچوں کے ساتھ سخت زیادتی ہے آپ انہیں عملی میدان میں لیول پلینگ فیلڈ نہیں دے سکتے تو کم از کم ان کی تعلیمی قابلیت جانچنے کے لیے تو لیول پلینگ فیلڈ فراہم کریں ،صاحب استعداد اپنے بچوں کو او لیول اور اے لیول کی تعلیم دلوا کر ویسے ہی عام طلبہ سے بالاتر بنا رہے ہیں اوپر سے ان کے امتحانی نظام کا ماحول ملاحظہ فرمائیں کہ کیمبرج کے بچوں کے امتحانی سنٹر فائیو سٹار ہوٹلوں بڑے بڑے لگژری شادی ہالوں میں بنائے جاتے ہیں جہاں ہرقسم کی سہولتیں میسر ہوتی ہیں پر سکون ماحول فراہم کیا جاتا ہے جبکہ عام پبلک کے بچوں کے امتحانی سنٹر پھٹیچر قسم کے بوسیدہ کمروں جہاں نہ بیٹھنے کا مناسب انتظام ہوتا ہے نہ ہوا روشنی کا انتظام ہوتا ہے۔

اوپر سے کرخت قسم کے مولا بخش ٹائپ امتحانی سٹاف جو خوف کی ایسی فضا قائم کر دیتے ہیں کہ بچہ ویسے ہی سہم جاتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ وہ امتحان دینے نہیں کسی قید خانے میں سزا بھگتنے آ گیا ہے خدارا مرے کو مارے شاہ مدار والا کام نہ کریں کم از کم غریبوں کے بچوں کو اتنی سی تو سہولت دیں کہ وہ اپنی کارکردگی کا مظاہرہ تو کر سکیں ۔

وطن عزیز میں ویسے ہی آڑھائی کروڑ بچے سکول سے باہر ہیں جن میں زیادہ تعداد پنجاب کے بچوں کی ہے اوپر سے پنجاب کے نظام تعلیم پر غور کریں پنجاب کا سارا نظام تعلیم ایڈہاک بنیادوں پر چلایا جا رہا ہے پنجاب کے 9ایجوکیشن بورڈ ہیں اور 9 بورڈوں میں کسی ایک میں بھی مستقل چیرمین بورڈ نہیں پچھلے تین چار سالوں سے ڈنگ ٹپائو پالیسی کے ذریعے نہ جانے پنجاب کے طلبہ سے کس چیز کا بدلہ لیا جا رہا ہے ۔

پنجاب کے تمام ایجوکیشن بورڈوں کا عارضی چارج متعلقہ کمشنروں کے حوالے کیا ہوا ہے آپ لوگوں کو بخوبی علم ہے کہ کمشنر صاحبان پر پہلے ہی انتظامی معاملات کا کتنا دباو ہوتا ہے وہ ایجوکیشن بورڈز پر کتنی توجہ دیتے ہوں گے اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے تمام ایجوکیشن بورڈز میں روزمرہ کے معاملات متاثر ہو رہے ہیں یہاں تک کہ پچھلے چار سال سے لوگوں کی ترقیاں رکی ہوئی ہیں کوئی فائل ورک نہیں ہو رہا ماسوائے تنخواہوں کے روٹین کا کوئی فائل ورک نہیں ہو رہا ایجوکیشن بورڈز کے ملازمین مایوسی کا شکار ہیں ۔

ویسے تو کہنے کو سارا کام آن لائن کر دیا گیا ہے لیکن داخلہ فارموں پر اگر فیس جمع کروانے کی ہارڈ کاپی نہ لگائی جائے تو اچھا خاصا جرمانہ ہوتا ہے دعوی ہے کہ مانیٹرنگ کے لیے سکولوں میں کیمرے لگا دیے گئے ہیں یہ کیمروں کے ذریعے مانیٹرنگ صرف لاہور کے سکولوں کی ہو رہی ہے لاہور بورڈ کے زیر اہتمام شیخوپورہ، قصور اور ننکانہ کے اضلاع کے سکولوں میں کیمرے نہیں لگے ۔

 

والدین اور طلبہ نے وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیر تعلیم سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ غریب اور متوسط طبقے کے بچوں کو کم از کم ایسا امتحانی ماحول فراہم کیا جائے جہاں وہ ذہنی دباؤ اور جسمانی اذیت کے بغیر اپنی صلاحیتوں کا اظہار کر سکیں۔

 

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button