غزہ پلان: حماس نے ترمیم کا مطالبہ کر دیا : اسرائیل کا گلوبل صمود فلوٹیلا پر حملہ: مزید 61فلسطینی شہید
صیہونی فوجی امداد لے جانے والے قافلے میں شامل جہازوں میں داخل ہوگئے، تمام ارکان کو حراست میں لے لیا، صحافی بھی شامل: غزہ میں کارروائیاں منصوبے کے مطابق جاری رہیں گی، رکیں گی نہیں، اسرائیلی آرمی چیف کی ہٹ دھرمی
غزہ، دوحہ، نیو یارک، انقرہ (ویب ڈیسک) فلسطین کی مزاحمتی تحریک حماس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ سے متعلق 20نکاتی امن منصوبے میں ترمیم کا مطالبہ کر دیا۔ حماس کی قیادت کے قریبی فلسطینی ذریعے نے غیر ملکی خبر ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے میں غیر مسلح ہونے کی شق میں ترمیم کا مطالبہ کیا ہے۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق حماس کے مذاکرات کاروں نے گزشتہ روز دوحہ میں ترک، مصری اور قطری حکام کے ساتھ بات چیت کی۔ فلسطینی ذرائع کے مطابق حماس کچھ شقوں میں ترمیم کرنا چاہتی ہے، حماس اسرائیل کے مکمل انخلا اور رہنمائوں کے فلسطین کے اندر یا باہر قتل نہ کئے جانے کی بین الاقوامی ضمانتیں چاہتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حماس کو جواب دینے کے لیے زیادہ سے زیادہ دو یا تین دن درکار ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج ( بحریہ ) نے غزہ امداد لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کو گھیرے میں لینے کے بعد اس پر چاروں جانب سے حملہ کر دیا ہے۔ الجزیرہ سے گفتگو میں فلوٹیلا کے ترجمان سیف ابو کشک نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی افواج نے کئی کشتیوں کی انٹرنیٹ کنیکٹیوٹی ختم کر دی۔ انہوں نے کہا کہ ایسی اطلاعات ہیں کہ کچھ جہازوں میں اسرائیلی فوجی داخل ہوگئے۔ کچھ کشتیوں سے موصول ہونے والی ویڈیوز موجود ہیں، جو اس صورتحال کی عکاسی کرتی ہیں۔ ابو کشک نے تصدیق کی کہ اسرائیلی بحریہ فلوٹیلا کی کشتیوں کو مسلسل انتباہی پیغامات بھیج رہے تھے اور خبردار کیا کہ اس راستے سے غزہ انسانی امداد لے جانا غیر قانونی ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ یہ سب اسرائیلی حکومت کی اُس پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت وہ غزہ کی آبادی کو بھوک سے مارنے پر تُلی ہوئی ہے۔ ایک اور خبر ایجنسی کے مطابق فلوٹیلا کے منتظمین نے بتایا کہ اسرائیلی فوجی ہمارے جہازوں میں داخل ہوچکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جہازوں میں موجود تمام افراد کو اسرائیلی فوجیوں نے حراست میں لے لیا۔ جن میں صحافی بھی شامل ہیں۔ ادھر اسرائیلی فوج کے چیف آف سٹاف ایال زامیر نے غزہ کا دورہ کیا، زامیر نے دفاعی مقامات پر تعینات فوجیوں پر زور دیا کہ وہ مکمل طور پر تیار رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں کارروائیاں منصوبے کے مطابق جاری رہیں گی اور رکیں گی نہیں۔ اسرائیلی فوج کے سربراہ کے مطابق آئندہ دنوں کے حملوں کے منصوبے پہلے ہی طے کر لیے گئے ہیں۔ مزید برآں قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی غزہ میں مسلسل تباہی اور شہریوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا، مزید 61افراد شہید ہو گئے ہیں۔ الشفا ہسپتال کے صحن میں 11نامعلوم لاشوں کو اجتماعی قبر میں دفنایا گیا۔
ایمرجنسی اور ایمبولینس ذرائع کے مطابق وسطی غزہ کے نصیرات اور بُریج کیمپوں میں 2گھروں پر فضائی حملوں میں 3شہری شہید ہو گئے۔ ادھر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ جنگ بندی منصوبے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام فریقین معاہدے پر عمل درآمد کریں اور اس کے نفاذ کو یقینی بنائیں، معاہدے اور اس کے نفاذ کیلئے تمام فریقوں کا پرعزم ہونا اہم ہے۔
غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سیکرٹری جنرل نے ایک بیان میں غزہ تنازع سے پیدا ہونے والی شدید انسانی تکالیف کو کم کرنا اولین ترجیح قرار دیا۔ انتونیو گوتریس نے امن کیلئے عرب اور مسلم ممالک کے اہم کردار کو بھی سراہا، انہوں نے مطالبہ کیا کہ غزہ میں فوری جنگ بندی، بلارکاوٹ انسانی امداد کی رسائی، تمام یرغمالیوں کی غیر مشروط رہائی ہونی چاہیے۔ جبکہ فلسطین حامی بین الاقوامی تنظیم انٹرنیشنل سینٹر آف جسٹس فار فلسطین ( آئی سی جے پی) نے ٹرمپ کے غزہ سے متعلق امن منصوبے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ تنظیم کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ غزہ منصوبہ انصاف دے رہا ہے اور نہ ہی احتساب کر رہا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ٹرمپ کا منصوبہ سطحی، نوآبادیاتی سوچ کا حامل اور فلسطینی خواہشات سے مبرا ہے، یہ نہ تو مسائل کو حقیقی طور پر حل کرتا ہے اور نہ ہی فلسطینی عوام کی رائے یا خواہشات کا احترام کرتا ہے۔ تنظیم کے مطابق منصوبہ اسرائیلی قبضے کی بنیادی وجوہات کو نظرانداز کرتا ہے اور اس میں اسرائیلی انخلا کی مبہم شرائط کے نفاذ کا کوئی طریقہ موجود نہیں۔ آئی سی جے پی نے خبردار کیا کہ امریکی صدر کے منصوبے کو اسرائیل امن کی راہ میں رکاوٹ یا تاخیر کے لئے استعمال کر سکتا ہے۔ بین الاقوامی تنظیم نے ٹرمپ کی زیر صدارت بورڈ آف پیس میں سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر جیسے افراد کی شمولیت پر بھی تنقید کی۔ قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان نے بھی کہا ہے کہ امریکی صدر کے منصوبے کے کئی نکات وضاحت اور مذاکرات کے متقاضی ہیں۔
غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق قطری وزیر اعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ غزہ سے اسرائیلی افواج کے انخلا کے معاملے پر وضاحت درکار ہے اور اسرائیلی افواج کے انخلا پر مزید بات چیت ہونی چاہئے۔ قطری وزیراعظم کا کہنا تھا کہ امید ہے تمام فریقین منصوبے کو تعمیری انداز میں دیکھیں گے، غزہ میں فلسطینی انتظامیہ پر امریکہ کے ساتھ بات چیت کی جائے گی، اس کا اسرائیل سے کوئی تعلق نہیں، منصوبے میں جنگ بندی کو ایک واضح شق کے طور پر شامل کیا گیا ہے، امید ہے فریقین جنگ خاتمے کے موقع سے فائدہ اٹھائیں گے۔ مزید برآں کینیڈا نے اسرائیل سے غزہ میں بڑے پیمانے پر انسانی امداد کی بلا رکاوٹ رسائی کیلئے زمینی راہداریاں کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے نیویارک میں خطاب کرتے ہوئے کینیڈا کی وزیرِ خارجہ انیتا آنند نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ فلسطینی علاقے میں عام شہریوں اور صحت کے مراکز کا تحفظ یقینی بنائے۔ ادھر ترک صدر رجب طیب اردوان کا کہنا ہے کہ قبلہ اول القدس کا دفاع آخری دم تک کرتے رہیں گے، غزہ میں امن کی ذمہ داری پہلے عالم اسلام اور پھر عالمی برادری پر عائد ہوتی ہے۔ انقرہ میں ترک گرینڈ نیشنل اسمبلی میں نئے مقننہ سال کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدر اردوان کا کہنا تھا کہ فلسطین میں جاری نسل کشی کے خلاف سب سے موثر آواز ترکیے کی ہے، غزہ پر غیر متزلزل موقف سے عالمی سطح پر روشن مثال قائم ہوئی، ہم نے غزہ کے ان بہادر بیٹوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑا جنہوں نے جدید ترین ہتھیاروں سے لیس قابض افواج کا دلیرانہ مقابلہ کیا۔
ترک صدر کا کہنا تھا کہ ہم نے غزہ کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے اسرائیل کے ساتھ تجارت منقطع کی، ٹرمپ کے ساتھ ملاقات میں پہلا موضوع غزہ میں خونریزی کا خاتمہ تھا، ترکیے نے غزہ میں امن کے لیے عملی تجاویز پیش کیں، ترکیے اُس وقت تک جدوجہد جاری رکھے گا جب تک مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بنا کر 1967ء کی سرحدوں کے مطابق ایک خودمختار فلسطینی ریاست قائم نہیں ہو جاتی۔ صدر اردوان کا کہنا تھا کہ غزہ اب مزید خون، آنسو اور تباہی برداشت نہیں کر سکتا، یہ شرمناک صورتحال فوراً ختم ہونی چاہیے۔ انہوں نے آزاد فلسطینی ریاست کے ایک معروف نعرے کا حوالہ دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ خوبصورت دن بھی آئیں گے جب دریا سے سمندر ( پورے فلسطین) تک امن، سکون اور سلامتی کا راج ہوگا۔



