
اسے حسن اتفاق کہیں یا طے شدہ سکرپٹ کہیں،سازش کہیں یا بدلتے حالات کے اشارے کہیں، طوفان سے پہلے کے آثار کہیں، وہم یا خیالی تصورات کہیں لیکن اب بہت ساری چیزیں محسوس کی جانے لگی ہیں بجٹ سے قبل ایک غیر مبہم سی خبر منظر عام پر آئی تھی کہ بجٹ کے بعد وفاقی کابینہ میں ردوبدل کیا جا رہا ہے۔
کچھ وزراء کے محکمے تبدیل ہونے کی افواہیں تھیں اور کچھ کی چھٹی کی قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں بعض اوقات ایسی خبریں حکومت خود بھی چلوا دیتی ہے تاکہ بجٹ کے موقع پر وزراء متحرک رہیں اور اس خوف کے باعث کہ کہیں ان کی وزارت نہ تبدیل کر دی جائے وہ بجٹ پاس کروانے میں اپنا کردار ادا کریں اراکین اسمبلی میں لابنگ کریں حکومت کی کارکردگی پر بیان بازی تیز کریں بجٹ کے اوصاف بیان کرتے رہیں اور ایسی خبریں بجٹ پاس ہونے کے بعد خود بخود دم توڑ جاتی ہیں لیکن اس بار معاملہ سیریس ہی ہوتا جا رہا ہے۔
وزیر خزانہ تو پہلے ہی تبدیلی کے گرداب میں تھے اب لاہور میں دوغیرملکی خواتین کے ساتھ ہونے والی زیادتی اور اغوا کے واقعہ میں ڈار فیملی کے اہم فرد کے ملوث ہونے کی وجہ سے وزیر خارجہ اسحاق ڈار شدید دباو میں آچکے ہیں ان سے باقاعدہ مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے ان کی براہ راست حکمران خاندان سے قریبی رشتہ داری ہے اس وجہ سے حکمران خاندان پر بھی دبائو آ رہا ہے کہ شاید اس کیس میں ملوث رضا ڈار کو کیس سے بری الذمہ قرار دلوانے کی کوششیں ہو رہی ہیں ۔
اس الزام نے وزیر خارجہ کو تو ویسے ہی چپ کروا دیا ہے جبکہ حکمران خاندان خاصا ڈیفنسیو نظر آتا ہے اوپر سے خاص حلقوں کے اشاروں کے ترجمان سمجھے جانے والے فیصل واڈا کی جانب سے مستعفی ہونے کے مطالبہ کو سنجیدہ رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے غیرملکی خواتین کا کیس بہت ہائی پروفائل کیس بن چکا ہے جسے بین الاقوامی سطح پر مانیٹر کیا جا رہا ہے اور ایسے لگ رہا ہے کہ اس کے اثرات کو کم کرنے کے لیے بہت ساروں کی قربانی دینا پڑے گی ۔
بہت سارے سیاسی وانتظامی عہدیدار اس وقت اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں چھوٹے چھوٹے کارندوں کے خلاف کارروائی کرکے مطمئن کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں لیکن یہ معاملہ چھوٹی موٹی قربانی سے ٹلنے والا نہیں دوسری جانب سوشل میڈیا پر دبائو اتنا بڑھ چکا ہے کہ اگر کوئی حقائق پر مبنی دلائل بھی دینا چاہے تو اس کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کوئی کسی کی بات سننے کو تیار نہیں ۔
علاوہ ازیں حکومت پر معیشت کا شدید دبائو ہے لوگ مہنگائی کے ہاتھوں تنگ ہیں روزگار کے ذرائع محدود ہوتے جا رہے ہیں کاروبار چل نہیں رہے لوگ کامیاب عالمی ثالثی کے بعد ریلیف کی توقع لگائے بیٹھے ہیں جبکہ حکومت سیاسی ابتری ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہو پا رہی عوام رجیم چینج کے بعد کا ڈیڑھ سال نگرانوں کا دور اور موجودہ حکومت کے دور کو ایک تسلسل تصور کرتے ہیں ویسے بھی یہ حکومت اپنی آدھی مدت پوری کر چکی ہے اور پاکستان میں مڈٹرم کی اصطلاح بڑی مشہور ہے کیونکہ مڈٹرم کے بعد سرپرستوں سمیت طلب گاروں کا بھی رومانس کم ہونا شروع ہو جاتا ہے ۔
وعدے وعید توقعات امیدیں دم توڑنے لگتی ہیں لوگ باتوں پر یقین کرنا کم کر دیتے ہیں عملی اقدامات کی روشنی میں پرکھ شروع ہو جاتی ہے سرپرست بھی مستقبل کی منصوبہ بندی میں لگ جاتے ہیں اور جب حالات اس قسم کے ہوں کہ مسائل کم ہونے کی بجائے ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھ رہے ہوں جس کی وجہ سے بیزاری میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہو تو پھر خیالات اور اندیشوں کے طوفان جنم لینا شروع ہو جاتے ہیں اب بیزاری واضح طور پر محسوس کی جا رہی ہے ۔
کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ بیزاری کو کم کرنے کے لیے کسی نہ کسی سطح کی تبدیلی ناگزیر ہو چکی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا پیچ ورک سے کام چل جائے گا یا بڑی سرجری کرنا پڑے گی بہرحال کچھ ایکشن سوچنے پر مجبور کر رہے ہیں کہ کچھ نہ کچھ ہونے والا ہے اقتدار کی راہداریوں میں کئی قسم کی سازشیں پنپ رہی ہیں لیکن کچھ مسائل ایسے ہیں جو واضح طور پر نظر آ رہے ہیں لیکن ہم انھیں مسلسل نظر انداز کیے جا رہے ہیں ۔
پہاڑوں پر خطرے کی گھنٹیاں بج رہی ہیں اور ہم توجہ نہیں دے رہے گلیشیر روٹین سے زیادہ پگل رہے ہیں دریائوں میں پانیوں کہ سطح بلند ہو رہی ہے موسم شدت اختیار کر رہے ہیں اور پچھلے سال کی طرح اس سال بھی سیلاب کا خطرہ موجود ہے بلکہ دستک دے رہا لیکن ہم سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچنے کے لیے اقدامات پر توجہ نہیں دے رہے مون سون قبل از وقت شروع ہو چکا ہے شدید حبس کے موسم میں حادثات بھی بڑھ رہے ہیں بارشوں اور حبس کے موسم میں چھتیں گرنے کے واقعات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
شہری حکومتیں میڈیا میں چند اشتہار دے کر بری الذمہ ہو جاتی ہے اور ہم ہر سال چھتیں اور دیواریں گرنے سے انسانی جانوں کے ضیاع کو روکنے میں ناکام ہیں اسی طرح پتہ ہے کہ سیلاب آنا ہے لیکن ہم ڈوبنے کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں نہ جانے کب ہمیں عقل آئے گی اور ہم حادثات سے بچنے کے اقدامات پر عمل پیرا ہوں گے یہ حادثات صرف سڑکوں پر ہماری کوتاہی کے پیش نظر ہی رونما نہیں ہو رہے بلکہ ہم ہر میدان میں حادثات کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں اور پھر ان پر ٹسوے بہاتے ہیں لیکن ان سے بچنے کے لیے حفاظتی انتظامات پر توجہ نہیں دیتے۔



