پوٹن اقتدار کی سیاست میں دوام کا استعارہ
دنیا کی سیاسی تاریخ کسی ایک سمت میں بہنے والا دریا نہیں، بلکہ یہ اتار چڑھاؤ، انقلابات، شکست و فتح اور طاقت کے عروج و زوال کی طویل داستان ہے۔ یہاں اقتدار عارضی ہوتا ہے، چہرے بدلتے رہتے ہیں، نظریات جنم لیتے اور دفن ہو جاتے ہیں، مگر بہت کم شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو وقت کی سخت آزمائشوں کے باوجود تاریخ کے صفحے پر اپنی جگہ برقرار رکھ پاتی ہیں۔
عالمی سیاست کے اسی ہنگامہ خیز منظرنامے میں اگر کسی ایک نام نے غیر معمولی دوام اور تسلسل کے ساتھ خود کو منوایا ہے تو وہ ہےولادیمیر ولادیمرووچ پوٹن ،1999ء کا سال روس کے لیے محض ایک کیلنڈر کی تبدیلی نہ تھا بلکہ ایک گہرے قومی بحران کی علامت تھا۔ سوویت یونین کے انہدام کے بعد روس سیاسی بے یقینی، معاشی بدحالی اور عالمی سطح پر تحقیر آمیز تنہائی کا شکار تھا۔ ریاستی ادارے کمزور، اولیگارچز طاقتور اور عوام مایوسی کے اندھیروں میں گم تھے۔ ایسے نازک لمحے میں ولادیمیر پوٹن کا ابھرنا ایک فرد کا اقتدار میں آنا نہیں بلکہ ریاست کی ازسرِنو تشکیل کا اعلان تھا۔
پوٹن نے اقتدار سنبھالتے ہی یہ پیغام واضح کر دیا کہ روس اب ماضی کی شکست خوردہ ریاست نہیں رہے گا انہوں نے ریاستی رِٹ بحال کرنے، مرکز کو مضبوط کرنے اور قومی سلامتی کو سیاست کا محور بنانے کی حکمتِ عملی اپنائی چیچنیا سے لے کر کریملن کے ایوانوں تک، انہوں نے طاقت کے بکھرے ہوئے مراکز کو یکجا کیا اور ریاست کو دوبارہ فیصلہ کن حیثیت دی۔ یہی وہ بنیاد تھی جس پر ان کے طویل اقتدار کی عمارت استوار ہوئی اس دوران دنیا نے حیرت انگیز سیاسی تبدیلیاں دیکھیں۔ امریکہ میں صدور آئے اور گئے، یورپ میں حکومتیں عدم استحکام کا شکار رہیں، مشرقِ وسطیٰ میں تخت الٹ دیے گئے، آمریتیں گریں اور جمہوریت کے خواب خون میں نہا گئے۔
عرب بہار کے نعروں سے لے کر یوکرین کے میدانوں تک عالمی سیاست میں ہلچل ہی ہلچل رہی مگر ان تمام سیاسی زلزلوں کے درمیان ولادیمیر پوٹن ایک ایسے استعارے کے طور پر کھڑے رہے جو اقتدار کی سیاست میں دوام کی علامت بن چکا ہے ،پوٹن کی سیاست کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ وہ جمہوریت کو ریاستی مفاد کے تابع رکھتے ہیں، نہ کہ ریاست کو جمہوری نعروں کے رحم و کرم پر۔ بظاہر یہ سوچ مغربی سیاسی فلسفے سے متصادم نظر آتی ہے، مگر روس جیسے کثیر القومی، وسیع و عریض اور تاریخی عدم استحکام کے شکار ملک میں یہی ماڈل پوٹن کے لیے کامیابی کا ضامن بنا۔
انہوں نے کبھی صدر، کبھی وزیرِ اعظم کے عہدے سنبھالے، مگر طاقت کا اصل سرچشمہ ہمیشہ انہی کے ہاتھ میں رہا بین الاقوامی سطح پر پوٹن نے کھلے عام یک قطبی عالمی نظام کو چیلنج کیا۔ نیٹو کی توسیع، امریکی بالادستی اور مغربی اخلاقی دعوؤں پر انہوں نے نہ صرف سوال اٹھائے بلکہ عملی مزاحمت بھی کی۔ شام میں روسی مداخلت ہو یا یوکرین کا بحران، پوٹن نے یہ ثابت کیا کہ روس عالمی سیاست میں محض تماشائی نہیں بلکہ فعال اور فیصلہ کن کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ مغرب کی شدید پابندیوں اور سفارتی دباؤ کے باوجود روس عالمی طاقت کے طور پر موجود ہے یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ پوٹن پر اظہارِ رائے کی پابندی، سیاسی مخالفین کو کچلنے، میڈیا پر کنٹرول اور آمریت کے سنگین الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔ ان الزامات کو مکمل طور پر رد کرنا ممکن نہیں۔ مگر سیاسی تاریخ کا ایک بے رحم اصول یہ بھی ہے کہ اقتدار اخلاقی خطابات سے زیادہ نتائج کو دیکھتا ہے۔ پوٹن نے روس کو استحکام دیا، ریاست کو ٹوٹنے سے بچایا اور قومی وقار کو بحال کیا۔ یہی عناصر ان کے اقتدار کے تسلسل کا اصل جواز بنے۔
آج ولادیمیر پوٹن محض روس کے صدر نہیں بلکہ عالمی سیاست میں ایک مکمل عہد کی نمائندگی کرتے ہیں۔ وہ اس سوال کی علامت بن چکے ہیں کہ آیا جدید دنیا میں طویل اقتدار ممکن ہے؟ اور اگر ممکن ہے تو اس کی قیمت کیا ہوتی ہے؟ شاید آنے والی نسلیں اس سوال کا زیادہ غیر جانب دار جواب دے سکیں، مگر فی الحال تاریخ یہ گواہی دیتی ہے کہ 1999ء سے آج تک اقتدار کی سیاست میں دوام کا جو استعارہ سب سے نمایاں ہے، وہ ولادیمیر پوٹن ہی ہیں۔یہی وہ حقیقت ہے جو انہیں محض ایک حکمران نہیں بلکہ سیاسی تاریخ کا ایک مستقل باب بنا دیتی ہے۔



