انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینتعلیم/ادبجرم-وسزاعلاقائی خبریںکالم

عورت اپنے حقوق کے لیے لڑنا چھوڑ دے؟

بازغہ چشتی

پاکستان میں جب بھی عورت اپنے حق، تحفظ، تعلیم، روزگار یا عزتِ نفس کی بات کرتی ہے تو معاشرے کا ایک بڑا طبقہ فوراً اس کے خلاف کھڑا ہو جاتا ہے۔ عورت مارچ کے نعروں سے لے کر سوشل میڈیا مہمات تک ہر جگہ یہی تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ عورت اپنے حقوق نہیں بلکہ آزادی کے نام پر خاندانی نظام کو توڑنا چاہتی ہے۔

خاص طور پر “میرا جسم میری مرضی” جیسے سلوگن کو جان بوجھ کر ایک ایسے مفہوم میں پیش کیا گیا جس سے اشتعال پیدا ہو۔ حالانکہ عورت مارچ سے وابستہ بیشتر خواتین اور تنظیموں کے مطابق اس نعرے کا بنیادی مقصد عورت کی مرضی کے بغیر شادی، ہراسانی، گھریلو تشدد، جبری تعلقات اور جسمانی استحصال کے خلاف آواز بلند کرنا تھا مگر ایک ایسے معاشرے میں جہاں عورت کی آواز کو اکثر بغاوت سمجھ لیا جاتا ہے وہاں اس نعرے کو بھی متنازع بنا دیا گیا۔

عورت کبھی بھی اپنے جائز حقوق سے زیادہ حاصل نہیں کرسکتی۔ ایک ہی مٹی سے بنے مرد اور عورت کے فرق کو شاید کبھی مکمل طور پر ختم نہیں کیا جاسکتا۔ ہمارے معاشرے کی بیشتر عورتیں خود بھی یہی سمجھتی ہیں کہ عورت کو صرف اتنے ہی حقوق مانگنے چاہئیں جن کی معاشرہ اجازت دیتا ہے۔ یہی سوچ نسل در نسل منتقل ہوتی رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب چند عورتیں روایتی دائرے سے ہٹ کر برابری، خود مختاری یا اپنی ذات کے فیصلے خود کرنے کی بات کرتی ہیں تو سب سے پہلے مخالفت عورتوں کی ہی ایک بڑی تعداد کی طرف سے سامنے آتی ہے۔

حالیہ دنوں شیما کرمانی کے واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر بدتمیزی اور کردار کشی کا ایک طوفان دیکھنے میں آیا۔ انہیں رقاصہ، طلاق یافتہ، بانجھ اور بے اولاد ہونے کے طعنے دیے گئے۔ اختلافِ رائے کے بجائے ذاتی حملے کیے گئے۔ اس رویے نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ ہمارے ہاں عورت کے مؤقف کا جواب دلیل سے کم اور کردار کشی سے زیادہ دیا جاتا ہے۔ اگر کوئی عورت معاشرتی رویوں پر سوال اٹھائے تو اس کی ذاتی زندگی کو نشانہ بنانا گویا ایک معمول بن چکا ہے۔عورت مارچ کے ذریعے اپنے حقوق کی بات کرنے والی خواتین اور تنظیموں کی تعداد حقیقتاً آٹے میں نمک کے برابر ہے، مگر ان کے گرد پیدا ہونے والا شور اس قدر زیادہ ہوتا ہے جیسے پورا معاشرہ خطرے میں پڑ گیا ہو۔ “میرا جسم میری مرضی” جیسے نعرے کے ذریعے دراصل یہ کہا جا رہا ہے کہ عورت کو اپنی زندگی اور اپنی ذات کے بارے میں فیصلے کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔

وہ کیسا لباس پہننا چاہتی ہے، کس سے شادی کرنا چاہتی ہے، کب اور کتنے بچے پیدا کرنا چاہتی ہے، یہ سب فیصلے اس کی مرضی سے ہونے چاہئیں۔ مگر ہمارے معاشرے میں اس سوچ کو قبول کرنا اب بھی آسان نہیں۔اعلیٰ حکومتی مناصب پر فائز خواتین بھی عموماً عورت کے جانی و مالی تحفظ، تعلیم یا صحت کی بات تو کرتی ہیں مگر کھل کر عورت کی مکمل خود مختاری یا برابری کے مؤقف کی حمایت بہت کم لوگ کرتے ہیں۔ اکثریت اس سوچ کے خلاف دکھائی دیتی ہے اور اس اکثریت میں عورتوں کی بڑی تعداد بھی شامل ہے۔

گزشتہ چند برسوں سے چند خواتین اپنے مطالبات منوانے کے لیے مسلسل کوشش کر رہی ہیں، مگر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اس معاشرے میں رہتے ہوئے عورت کو مکمل خود مختاری مل جانا کسی دیوانے کے خواب سے کم نہیں۔پاکستان میں عورت کے حقوق کی جدوجہد نئی نہیں۔ قیامِ پاکستان کے وقت بھی خواتین نے سیاسی اور سماجی میدان میں اہم کردار ادا کیا۔ فاطمہ جناح نے نہ صرف تحریکِ پاکستان میں قائداعظم کا ساتھ دیا بلکہ بعد ازاں جمہوری جدوجہد کی علامت بنیں۔ بیگم رعنا لیاقت علی خان نے خواتین کی تعلیم، فلاح اور سماجی شرکت کے لیے بے شمار کام کیے۔ انہوں نے عورتوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کی کوشش کی اور ایسے وقت میں خواتین کو منظم کیا جب عورت کا گھر سے نکلنا بھی معیوب سمجھا جاتا تھا۔بعد کے ادوار میں بے نظیر بھٹو ایک مسلم ملک کی پہلی خاتون وزیرِاعظم بن کر سامنے آئیں۔

ان کا اقتدار میں آنا دنیا بھر میں ایک علامت سمجھا گیا۔ عاصمہ جہانگیر نے انسانی حقوق، جبری گمشدگیوں، اقلیتوں اور عورتوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کی۔ مخالفت، دھمکیوں اور دباؤ کے باوجود وہ اپنے مؤقف پر قائم رہیں۔اس کے باوجود ہر دور میں عورت کو شدید سماجی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ خاص طور پر جنرل ضیاء الحق کے دور میں حدود آرڈیننس جیسے قوانین پر شدید تنقید ہوئی کیونکہ ان کے باعث ریپ متاثرہ خواتین کو انصاف کے بجائے مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ کئی کیسز میں متاثرہ عورت ہی سوالات کی زد میں آجاتی تھی جبکہ طاقتور مجرم بچ نکلتے تھے۔

یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ پاکستان کے دیہی علاقوں میں آج بھی عورتیں غیرت کے نام پر قتل، ونی، جبری شادی اور گھریلو تشدد کا شکار ہورہی ہیں۔ شہروں میں اگرچہ کچھ قانونی تحفظ موجود ہے مگر دیہات میں جرگہ سسٹم اور روایتی دباؤ اب بھی عورت کی زندگی پر حاوی ہیں۔ مختاراں مائی کا واقعہ پوری دنیا نے دیکھا جہاں جرگے کے حکم پر انہیں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ مگر انہوں نے خاموش رہنے کے بجائے انصاف کے لیے لڑنے کا فیصلہ کیا اور عورتوں کے لیے ایک مثال بن گئیں۔

پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا کے کئی ممالک میں عورت آج بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں۔ بھارت میں بھی خواتین کے خلاف جرائم ایک سنگین مسئلہ ہیں۔ ماضی میں ستی جیسی خوفناک رسم موجود تھی جس میں بیوہ عورت کو شوہر کی چتا کے ساتھ زندہ جلا دیا جاتا تھا۔ اگرچہ اس رسم پر پابندی لگادی گئی مگر عورت کو کمتر سمجھنے والی سوچ مکمل طور پر ختم نہ ہوسکی۔دنیا بھر میں عصمت دری اور گھریلو تشدد کے واقعات عورت کے تحفظ کے دعوؤں پر سوالیہ نشان ہیں۔

کئی ممالک میں متاثرہ خواتین انصاف کے لیے برسوں عدالتوں کے چکر لگاتی رہتی ہیں جبکہ کمزور تفتیش یا ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے مجرم بچ نکلتے ہیں۔ جب متاثرہ عورت کو ہی لباس، کردار اور رویے کے پیمانے پر پرکھا جائے تو انصاف کا تصور کمزور پڑنے لگتا ہے۔عافیہ صدیقی کا معاملہ بھی پاکستان میں خواتین کے حقوق کی بحث کا حصہ رہا ہے۔ ایک عورت کا برسوں قید میں رہنا اور اس کے حوالے سے انسانی حقوق کی بحث اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ پاکستانی عوام عورت کے معاملے میں صرف سماجی نہیں بلکہ سیاسی سطح پر بھی حساس ہیں۔

آج اصل سوال یہ نہیں کہ عورت مارچ درست ہے یا غلط، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا عورت کو تحفظ، عزت اور برابری کا حق حاصل ہے یا نہیں؟ اگر ایک عورت ہراسانی، تشدد یا ناانصافی کے خلاف آواز اٹھاتی ہے تو کیا اسے بے حیا، باغی یا مغربی ایجنٹ کہنا مسئلے کا حل ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں عورت کے لیے جدوجہد کرنا آسان نہیں۔ مذہبی، سماجی اور ثقافتی دباؤ اس قدر مضبوط ہیں کہ اکثر خواتین خاموشی کو ہی اپنی حفاظت سمجھنے لگتی ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ دو مختلف آراء رکھنے والے لوگ ایک ہی پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوں۔ مباحثے ہوں، تقریبات ہوں، کھل کر گفتگو ہو تاکہ دونوں فریق ایک دوسرے کو سمجھ سکیں۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں مکالمے کے بجائے نفرت زیادہ تیزی سے پھیلتی ہے۔

جو نظام صدیوں سے قائم ہے اسے بدلنا آسان نہیں۔ شاید اگلے پچاس برسوں میں شعور مزید بڑھے، شاید آج کے نوجوان کل بڑی عمر میں پہنچ کر ان باتوں کو بہتر انداز میں سمجھ سکیں۔اس کے باوجود مکمل مایوسی بھی حقیقت نہیں۔ پاکستان میں عورت کی حالت میں کچھ تبدیلی ضرور آئی ہے۔ آج خواتین تعلیم، صحافت، سیاست، عدلیہ، فوج اور کاروبار سمیت کئی شعبوں میں نمایاں مقام رکھتی ہیں۔ ہراسگی، گھریلو تشدد اور غیرت کے نام پر قتل کے خلاف قوانین بھی بنائے گئے ہیں، مگر قانون اور زمینی حقیقت کے درمیان اب بھی ایک بڑا فاصلہ موجود ہے۔

حکومت کو اس سلسلے میں صرف بیانات نہیں بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ خواتین کے تحفظ کے قوانین پر سختی سے عملدرآمد ہونا چاہیے۔ دیہی علاقوں میں جرگہ سسٹم کے نام پر عورتوں کے خلاف فیصلوں کو فوری روکا جائے۔ پولیس اور عدالتی نظام کو خواتین کے لیے زیادہ محفوظ اور حساس بنایا جائے۔ تعلیمی نصاب میں عورت کے احترام، برابری اور انسانی حقوق کے اسباق شامل کیے جائیں۔ میڈیا کو بھی سنسنی کے بجائے ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ عورت کے مسائل کو مذاق یا تماشا بنانے کے بجائے سنجیدگی سے پیش کیا جاسکے۔عورت شاید آج بھی مکمل طور پر آزاد نہیں، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اس کی آواز اب پہلے سے زیادہ بلند ہوچکی ہے۔ اسے دبایا جاسکتا ہے، خاموش کرانے کی کوشش کی جاسکتی ہے، مگر اس کے سوالات اب معاشرے کے دروازے پر مسلسل دستک دے رہے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button