
لاہور :(بیوروچیف/سید ظہیر نقوی)سر گنگا رام ہسپتال لاہور میں میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) اور نرسنگ سٹاف کے درمیان تنازع شدید اختیار کر گیا۔ ہسپتال کی نرسوں اور تمام ہیڈ نرسز نے ایم ایس پر اجلاس کے دوران مبینہ بدسلوکی، گالی گلوچ اور دھمکیاں دینے کے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے سیکرٹری صحت پنجاب کو باقاعدہ درخواست ارسال کر دی ہے۔

ایم ایس کے خلاف درج درخواست کا متن

سیکرٹری صحت کو 17اگست 2016کو جمع کروائی گئی درخواست میں نرسنگ سٹاف نے موقف اختیار کیا ہے کہ ایم ایس سر گنگا رام ہسپتال نے ڈی این ایس (DNS) اور تمام ہیڈ نرسز کو اپنے دفتر میٹنگ کے لیے بلایا۔ الزام کے مطابق میٹنگ کے دوران ایم ایس نے نامناسب رویہ اختیار کرتے ہوئے نرسز کے ساتھ بدسلوکی اور گالی گلوچ کی، اور تحقیر آمیز الفاظ استعمال کرتے ہوئے انہیں دفتر سے نکل جانے اور دھمکانے کا رویہ اپنایا۔
نرسنگ پروفیشن کی تذلیل کا الزام

درخواست گزار نرسز کا کہنا ہے کہ ایم ایس کا یہ رویہ نہ صرف سینئر نرسنگ افسران کی توہین ہے بلکہ پورے نرسنگ شعبے کی عزت پر حملہ ہے۔ نرسنگ سٹاف ہسپتال کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، اگر سینئر افسران کے ساتھ ایسا سلوک کیا جائے گا تو جونیئر سٹاف اور مریضوں کی دیکھ بھال پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ اس غیر پیشہ ورانہ رویے سے ہسپتال کا ماحول خراب ہو رہا ہے اور مریضوں کی خدمات متاثر ہو رہی ہیں۔

سیکرٹری صحت سے کارروائی کا مطالبہ
نرسنگ سٹاف اور ہیڈ نرسز کی جانب سے سیکرٹری صحت سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر، ڈی جی نرسنگ پنجاب، اور وائس چانسلر فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی (FJMU) سے درج ذیل مطالبات کیے گئے ہیں۔
ایم ایس کے خلاف فوری طور پر غیر جانبدارانہ انکوائری کمیٹی قائم کی جائے۔
گالی گلوچ اور بدسلوکی ثابت ہونے پر ایم ایس کے خلاف سخت محکماتی کارروائی کی جائے۔



