
پاکستان علماء کونسل کے زیرِ اہتمام سالانہ چھٹی عالمی "پیغامِ اسلام کانفرنس” 6 مئی 2026ء کو کنونشن سینٹر اسلام آباد میں منعقد ہو رہی ہے۔ یہ کانفرنس محض ایک رسمی اجتماع نہیں بلکہ ایک ایسا فکری، روحانی اور نظریاتی اجتماع ثابت ہوگی جو نہ صرف پاکستان بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے لیے رہنمائی کا سرچشمہ بنے گی۔
اس باوقار عالمی کانفرنس میں شرکت کے لیے مفتی اعظم فلسطین الشیخ محمد احمد حسین، قاضی القضاء فلسطین ڈاکٹر محمود الہباش اور امامِ مسجد ابراہیمی سمیت پانچ رکنی فلسطینی وفد کی اسلام آباد آمد اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ عالمِ اسلام کے جید علماء اس فورم کو غیر معمولی اہمیت دے رہے ہیں۔
اسلام آباد ایئرپورٹ پر اس معزز وفد کا پرتپاک استقبال چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی، وزارتِ مذہبی امور کے اعلیٰ حکام اور پاکستان میں فلسطین کے سفیر نے کیا، جو اس کانفرنس کی بین الاقوامی حیثیت کو مزید اجاگر کرتا ہے۔ تادمِ تحریر ملک کے طول و عرض اور بیرونِ ملک سے ممتاز علماء و مشائخ کی آمد کا سلسلہ جاری ہے اور جب یہ سطور قارئین تک پہنچیں گی تو یقینی طور پر سعودی عرب، مصر، ترکی اور دیگر اسلامی ممالک کے نمائندہ دینی رہنما اس روح پرور اجتماع کا حصہ بن چکے ہوں گے۔
"پیغامِ اسلام” کے عنوان سے منعقد ہونے والی یہ کانفرنس دراصل اسلام کے اس آفاقی پیغام کو اجاگر کرنے کی ایک سنجیدہ اور بھرپور کاوش ہے جو امن، رواداری، اخوت اور اعتدال پر مبنی ہے۔ یہ وہی پیغام ہے جو اسلام کی اصل روح کی ترجمانی کرتا ہے اور جس کے ذریعے نہ صرف دنیا بھر میں پھیلائی جانے والی غلط فہمیوں کا ازالہ کیا جا سکتا ہے بلکہ امتِ مسلمہ کو اتحاد، شعور اور مثبت فکر کی راہ پر گامزن بھی کیا جا سکتا ہے۔آج کے دور میں جب عالمی سطح پر اسلام کے خلاف منفی پروپیگنڈا، شدت پسندی کے تاثر اور فکری انتشار کو ہوا دی جا رہی ہے، ایسے میں "پیغامِ اسلام” جیسی کانفرنسوں کی اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔
اسلام درحقیقت امن، محبت، برداشت اور انسانیت کے احترام کا دین ہے، مگر بعض عناصر کے افعال و رویے اس کے حقیقی چہرے کو مسخ کرنے کا باعث بنے۔ ایسے حالات میں پاکستان علماء کونسل کی کاوشیں نہ صرف قابلِ تحسین ہیں بلکہ وقت کی ایک اہم ضرورت بھی ہیں۔اسلام آباد میں منعقد ہونے والی یہ چھٹی عالمی "پیغامِ اسلام کانفرنس” اسی تسلسل کی ایک مضبوط کڑی ہے۔ اس میں عالمِ اسلام کے جید علماء و مشائخ کی شرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ امت مسلمہ اب شدت پسندی اور تفرقہ بازی کے بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے اعتدال، اتحاد اور امن کے راستے پر آگے بڑھنے کا عزم رکھتی ہے۔ اس کانفرنس کے ذریعے اسلام کا وہ روشن، معتدل اور انسان دوست پیغام دنیا کے سامنے پیش کیا جا ئے گا جو فلاحِ انسانیت، برداشت اور بھائی چارے پر مبنی ہوگا۔اس تناظر میں پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین عالم دین اور سفیر امن حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کی خدمات نہایت نمایاں اور قابلِ قدر ہیں۔
انہوں نے نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر اسلام کے حقیقی تشخص کو اجاگر کرنے کے لیے مؤثر کردار ادا کیا ہے۔ ان کی قیادت میں پاکستان علماء کونسل نے ہر اس بیانیے کی دوٹوک مخالفت کی جو انتہا پسندی، دہشت گردی اور نفرت کو فروغ دیتا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ یہ تنظیم "بنیان مرصوص” کی عملی تصویر بن کر سامنے آئی ہے، جو باطل نظریات کے مقابلے میں ایک مضبوط فکری دیوار کی حیثیت رکھتی ہے۔حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کا کردار اس لحاظ سے بھی منفرد ہے کہ انہوں نے محض بیانات تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ عملی میدان میں بین المذاہب ہم آہنگی، فرقہ وارانہ اتحاد اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے مسلسل اور مؤثر اقدامات کیے۔
انہوں نے مختلف مکاتبِ فکر کے علماء کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر کے نہ صرف اختلافات کم کرنے کی کوشش کی بلکہ مشترکہ قومی و دینی مقاصد کے لیے متفقہ لائحہ عمل بھی ترتیب دیا۔ان کی قیادت میں متعدد مواقع پر ایسے اعلامیے اور عملی اقدامات سامنے آئے جنہوں نے شدت پسندی اور دہشت گردی کے خلاف ایک واضح، مضبوط اور غیر مبہم مؤقف پیش کیا۔ ان کا پیغام ہمیشہ امن، محبت، رواداری اور اخوت پر مبنی رہا ہے۔ وہ اسلام کو ایک ایسے متوازن اور معتدل دین کے طور پر پیش کرتے ہیں جو انسان دوستی، عدل اور انصاف کا علمبردار ہے۔موجودہ عالمی حالات میں جہاں اسلام کو بعض حلقوں کی جانب سے منفی انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، وہاں حافظ طاہر محمود اشرفی کی کاوشیں نہایت اہمیت اختیار کر جاتی ہیں۔ وہ علمی، فکری اور سفارتی سطح پر اسلام کا حقیقی اور مثبت چہرہ اجاگر کرتے ہیں۔
ان کی گفتگو اور عملی اقدامات اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ اسلام نہ صرف مسلمانوں بلکہ پوری انسانیت کے لیے امن، انصاف اور بھلائی کا پیغام لے کر آیا ہے۔پاکستان کے مفادات اور اسلام کی سربلندی کے لیے ان کی خدمات کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ انہوں نے قومی اور بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کا مثبت اور ذمہ دارانہ تشخص اجاگر کیا اور اسلاموفوبیا جیسے چیلنجز کے خلاف مؤثر آواز بلند کی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شخصیت ایک ایسے رہنما کے طور پر ابھری ہے جو مذہبی قیادت کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے ایک مثبت سمت فراہم کر رہا ہے۔
آج دنیا جس طرح شدت پسندی، نفرت، تعصب اور تقسیم کا شکار ہے، وہاں اعتدال، برداشت، مکالمہ اور اتحاد کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ یہی وہ خلا ہے جسے پاکستان علماء کونسل جیسی تنظیمیں پر کرنے کی سنجیدہ کوشش کر رہی ہیں۔ "پیغامِ اسلام کانفرنس” دراصل اسی وژن کی عملی تعبیر ہے، جس کا مقصد اسلام کے حقیقی پیغام امن، سلامتی، عدل، انصاف اور فلاحِ انسانیت کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا ہے۔یہ کانفرنس نہ صرف ایک مثبت بیانیے کو فروغ دیتی ہے بلکہ مختلف ممالک کے علماء اور سکالرز کو ایک ایسا پلیٹ فارم بھی فراہم کرتی ہے جہاں وہ باہمی مشاورت سے امت کو درپیش چیلنجز کا حل تلاش کر سکیں۔
اس طرح کے اجتماعات فکری ہم آہنگی، بین الاقوامی تعاون اور دینی بصیرت کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسی مثبت اور تعمیری کاوشوں کو مزید وسعت دی جائے۔ ریاستی اداروں، تعلیمی حلقوں، میڈیا اور سول سوسائٹی کو چاہیے کہ وہ اس متوازن اور امن پسند بیانیے کے فروغ میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ بالخصوص نوجوان نسل کو اس فکر سے روشناس کرانا ناگزیر ہے تاکہ وہ انتہا پسندی کے اثرات سے محفوظ رہتے ہوئے ایک معتدل، باشعور اور ذمہ دار معاشرے کی تشکیل میں اپنا مؤثر کردار ادا کر سکیں۔”پیغامِ اسلام کانفرنس” محض ایک تقریب نہیں بلکہ ایک تحریک ہے۔ایسی تحریک جو انسانیت کو جوڑنے، دلوں کو قریب لانے اور اسلام کے حقیقی، روشن اور معتدل پیغام کو دنیا بھر میں عام کرنے کا عزم لیے آگے بڑھ رہی ہے۔



