
’’مگر وہ تھے انتہائی ایماندار ‘‘۔۔یہ وہ جملہ ہے جوکہ صوبے ۔ریجن ،ضلع اور ڈویژن کے ساتھ ساتھ اہم ڈیپارٹمنٹل عہدے پر تعینات ہونے والے ہر رینک کے( نوری) آفیسر کے بارے میں عموما سننے کو ملتا ہے۔لیکن جب مذکورہ آفیسر کے بارے میں بازگشت سنائی دیتی ہے کہ موصوف کا شمار بھی (غیرت مند) کی بجائے انتہائی (ضرورت مند)قسم کے افسران میں ہوتا ہے جوکہ ماتحتوں کی جیبیں تک خالی کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔
خیر ہمیں کیا۔یہ پوسٹنگ دینے والے جانے یا پھر پوسٹنگ لینے والے،کس کا کیا مفاد ہے یہ تو اللہ ہی جانے۔۔لیکن قارئین کرام: یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ محکمہ پولیس بھی واقعتا بڑا عجیب محکمہ ہے۔ اس میں تھانہ کی سطح پر کرپشن کرنے والاراشی اور ظالم کہلاتا ہے جبکہ سرکل ،ڈویژن، ضلع اورریجن کے ساتھ ساتھ ایڈمنسٹریشن کی سطح پر انتہائی پرشفاف انداز میں کرپشن کے جھنڈے گاڑنے والا آفیسر انتہائی ” سخت ترین ایماندار”کہلواتا ہے۔
میں نے اپنے طویل صحافتی کیریئر میں یہ دیکھا بھی ہے اور اس کو مختلف اخبارات کے ساتھ ساتھ ٹی وی چینل کے پلیٹ فارم پر رپورٹ بھی کیا ہے کہ پولیس کے اندار ایمانداری اوربے ایمانی کا یہ دہرا معیار دراصل اعلی افسران کی اپنی ذہنی اختراع کی مرہون منت ہے۔پولیس کے تقریبا ہر ڈیپارٹمنٹ میں کرپشن مکمل طور پر اپنے پنجے گاڑ چکی ہے۔جس کا اعتراف آج بھی کئی آفیسر مختلف چینلز کے ٹاک شوز اور پوڈ کاسٹ میں برملا کرچکے ہیں اور کر بھی رہے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ آج جب پولیس میں کرپشن کا ذکر آتا ہے تو کوئی حیرانگی نہیں ہوتی کیونکہ واقعی یہ کوئی نئی بات تو نہیں ہے جس پر کسی بھی قسم کی حیرانگی کا اظہار کیا جائے ۔اور ویسے یہ بھی تو حقیقت ہے کہ پکڑے جانےوالا ہمیشہ چوراور نکل جانے والا ( فنکار)سمجھا جاتا ہے۔ شاید یہ وجہ ہے کی محکمہ پولیس کی ایلیٹ کلاس سے تعلق رکھنے والے پولیس افسران اپنی ہر ایمانداری والی پوسٹنگ کے دوران تھانہ کلچر کی تبدیلی میں اپنے ماتحت افسران کی کرپشن کو بہت بڑی رکاوٹ قراردیتے ہوئے ہر وقت ان کو (نشان عبرت) بنانے کے پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ ساتھ اب سوشل میڈیا پر بلند و بانگ دعوے کرتے نظر آتے ہیں ۔
مگر ہوتا اس سے بر عکس ہی ہے بہر حال یہ بھی ایک کڑوا سچ ہے کہ کرپشن کی شکایت پر ایس پی کے ہاتھوں معطل ہونےوالا ( ظالم اورکرپٹ تھانیدار) سزا ملنے کے بعد اگلے ہی مرحلے میں ایس ایس پی ، ڈی آئی جی یا پھر ایڈیشنل آئی جی کی خصوصی شفٹ کے ساتھ بحال ہو کر پہلے سے بھی زیادہ اچھے اور زیادہ کمائی والے تھانے میں پوسٹنگ حاصل کر کے اپنی سابقہ معطلی سے بحالی تک کیلئے اٹھنے والے اخراجات کو محض چند دنوں میں ہی پوراکر لیتا ہے اوراس تمام تر ڈرامہ بازی کے دوران وہ خودکوایماندارکہلوانا پسند کرتا ہے۔
گزشتہ چند دنوں کے دوران بھی 5 کے قریب ڈی ایس پیز کو دوران ڈیوٹی،کرپشن، اختیارات سے تجاوز کرنے اور غیر اخلاقی حرکات میں ملوث ہونے پر نوکری سے برخاست کیا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ برخاستگی کا یہ عمل کب تک چلتا ہے۔کیونکہ بڑے بزرگ یہ بھی کہتے ہے کہ محکمہ پولیس میں آنے والا صرف دو صورتوں میں اس کو چھوڑ سکتا۔پہلا ریٹائرمنٹ ہے اور دوسرا بوجہ فوتگی۔ تیسری کوئی وجہ ابھی تک سامنے نہیں آسکی ہے۔ اور اس میں آج بھی کوئی شک و شبے والی بات نہیں ہے کہ پنجاب پولیس کے اندرایسے افسران کی بہتات موجود ہے جو کہ اپنی ہر پوسٹنگ کے بعد کرپشن جرائم کے خاتمے سے لیکر پولیس کو عوام دوست بنانے کیلئے پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا کے سامنے بڑی بڑی "رنگ بازیاں”کرتے رہتے ہیں،کسی ماتحت کو معطل تو کسی کو ڈس مس کرکے داد سمیٹنا بھی ایک فیشن بن چکا ہے۔کھلی کچہری ہوں یا پھر ماتحت افسران کا اردل روم۔
ہر جگہ جدید کیمروں سے لیس 4 سے 5 پروفیشنل کیمرہ مین ( صاحب بہادر)کی ہر پہلو کی عکاسی کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔گاڑی سے اترنے اور چڑھنے کے ساتھ ساتھ واک کی بھی سلومو انداز میں(ریل) تیار کی جاتی ہیں مگر حقیقت یہ بھی ہے کہ ان میں جب بیشتر افسران کی ٹرانسفر ہوتی تو معلوم پڑتا ہے کہ موصوف اپنی تمام تر (رنگ بازیوں) کے ساتھ ایک ضرورت مند آفیسر بھی تھے۔اور اس کی یہ تمام "ایمانداری سے لبریز فنکاریاں”اسکی پوسٹنگ کے ساتھ ہی ختم ہو جاتی ہیں۔
اب پتا نہیں اس محکمے میں ایمانداری کو ماپنے والے پیمانے کا اپنا معیار کیا ہے کیونکہ ہمیں تو آج تک یہی بتایا بلکہ دکھایا گیا ہے کہ محکمہ پولیس میں کرپشن کا کھیل کانسٹیبل، ہیڈ کانسٹیبل۔اے ایس آئی سب انسپکٹر۔انسپکٹر اور ڈی ایس پی عہدہ تک ہی کھیلا جاتا ہے۔ان سے اوپر کے تمام آفیسر جنہیں( نوری مخلوق ) کہا جاتا ہے وہ انتہائی سخت ایماندار ہیں۔خیر سانوں کی ۔ہوں گے ایماندار۔۔۔۔لیکن سوال یہ بھی ہے کہ اگر یہ ایماندار ہے تو کیوں آج بھی تھانوں میں ڈکیتی، راہزنی اورچوری جیسے جرائم کی ایف آئی آر کا بروقت اندراج نہ کرنا اور شہریوں کو مختلف حیلے بہانوں سے تنگ کرنا کیوں پولیس کی اولین ترجیحات میں شامل ہے؟ کیوں ایف آئی آر کے اندراج سے لیکر انصاف کے حصول تک ایک شہری مختلف نوعیت کی مالی مشکلات کا سامنا کر نا پڑتا ہے ؟
قارئین کرام :اس لمبی چوڑی تمہید باندھنے کا بنیادی مقصد یہ بھی ہے پولیس کے اندر کر پشن کا کھیل صرف تھانے کی سطح پر نہیں کھیلا جاتا بلکہ اب تو گزشتہ ایک لمبے عرصے سے اس کی رینج تو بہت اوپر تک چلی گئی ہے۔ جس کا جہاں پر داﺅ لگتا ہے وہ وہی پر دائو لگا کر اپنا حصہ سمیٹنے میں مصروف نظر آرہے۔
یہ حقیقت ہے کہ اس محکمے میں ہزاروں روپے کی کرپشن کرنےوالا تو کرپٹ کہلاتا ہے لیکن لاکھوں اور کروڑوں روپے کی کرپشن کرنے والا انتہائی پروفیشنل انداز میں اپنی ایمانداری کے جھنڈے کو بلند رکھتا ہے۔یہاں پر ایک بار پھر ہم کہے گے کہ خیر چھوڑیں ہمیں کیا لینا کہ ایمانداری کیا ہے ؟اور بے ایمانی کیا ہے؟ کیونکہ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا قیام پاکستان سے لیکر آج تک کوئی بھی موثر حل سامنے نہیں لاسکا، میرے خیال میں آئے گا بھی نہیں کیونکہ جہاں ماتحتوں کو ایمانداری کا سبق پڑھانے والے خود بی ایمانی کے کیچڑ میں لتھڑے ہو وہ بھلا دوسروں کو کیا ٹھیک کریں گے ۔
یقین جانئے کہ ایک وقت تھا کہ پولیس کے پی ایس پی گروپ میں کوئی ایک یا دو آفیسر کرپٹ ہوتے تھے لیکن اب تو صورتحال یہ ہے کہ اچھی طرح ڈھونڈنے کے بعد اب محض ایک یا دو ہی ایماندار آفیسر بمشکل ملتے ہیں۔ خیر (پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ ) اگر ہم گزرے ہوئے چند سالوں کا جائزہ لیں تو معلوم پڑتا ہے کہ چند سال قبل پنجاب پولیس میں آئی جی کے عہدے سے ریٹائرڈ ہو نےوالے ایک آفیسر کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ اپنے ماتحت افسران کی اے سی آر لکھنے کے عوض اپنی مخصوص اور من پسند (فٹیک) پوری کرواتے تھے اور اس کے علاوہ دوران پوسٹنگ وہ قیمتی ممالک وصول کرتے تھے مگر اسکے باوجود موصوف کا شمار انتہائی ایماندار آفیسر میں ہوتا تھا ۔
اسی طرح پنجاب پولیس سے ریٹائرڈ ہونیوالے ایڈیشنل آئی جی عہدہ کے آفیسر نے اپنی تعیناتی کے دوران ایک سب انسپکٹر کو معاملات کیلئے رکھا ہوا اس کے علاوہ انہوں نے قائم مقام آئی جی کی حیثیت سے بھی مختلف سرکاری ٹھیکوں کے نام پر کروڑوں روپے کا چونالگایا تھا مگر اس کے باوجود وہ بھی تھے انتہائی ایماندار کہلواتے تھے۔
ڈی آئی جی کے عہدے سے ریٹائرڈ ہونے والے ایک آفیسر کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ اپنے ماتحت افسران سے انکوائریوں کے نام پر قیمتی گاڑیاں وصول کرتے تھے جبکہ دیگر تحائف اس کے علاوہ ہوتے تھے۔ مگر تھے وہ انتہائی ایماندار آفیسر۔ اسی طرح شہر لاہور کے ایک اہم عہدے سے ریٹائرڈ ہونےوالے ایک ڈی آئی جی دوران تعیناتی اپنے ماتحتوں اور کاروباری دوستوں سے مخصوص کام کروانے کے عوض صرف قیمتی تحائف وصول کرتے تھے۔مگر تاریخ گواہ ہے کہ تھے وہ بھی انتہائی ایماندار آفیسر۔
اسی طرح پنجاب پولیس کے اندر چند سال قبل ہونےوالی اہلکاروں کی بوگس بھرتی کیس میں کس نے کیا کھایا اور کتنا کھایا اس بارے میں آج تک کوئی نہیں جان سکا کیونکہ اس سکینڈل کی تحقیقات بھی چند ایک ڈی پی اوز اور سی پی اور کو صرف وضاحتی نوٹس جاری کرکے تمام ملبہ ماتحت عملہ پر ڈال دیا گیا تھا۔ بلا شبہ ان بھرتیوں پرمامور افسران بھی تو تھے انتہائی ایماندار۔ اس تمام معاملے میں کرپٹ ماتحت عملے کو قرار دیا کرمقدمات بھی ان کے خلاف ہی درج ہوئے تھے۔ماضی میں تھانوں کے اندر فل فرنشنڈ رپورٹنگ رومز کی تعمیر کے فنڈر کیسے خردبرد کیا گیا۔اس بے مثال فنکاری کی بھی ایک الگ ہی داستان تھی جس پر انتہائی صفائی سے مٹی ڈالی گئی۔
یہی نہیں گزشتہ دنوں سے پولیس ٹریننگ سینٹر چوہنگ میں بھی کرپشن کی ایک دیومالائی داستان کے چرچے ہر زبان پر ہیں ۔اس حوالے سے ایک ڈی آئی جی کی سربراہی میں خصوصی ٹیموں نے تمام ریکارڈ کو قبضے میں لینے ہوئے آڈٹ بھی شروع کر دیا ہے اس اعلی سطح پر کرپشن میں ملوث افسران کے مستقبل کا تعین کیا ہوگا یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔
قارئین کرام یہ توصرف چند ایک بڑی مثالیں ہے، محکمہ پولیس تو ایسی کئی دیو مالائی داستانوں سے بھراپڑا ہے۔ اب دیکھا جائے تو موجودہ نظام میں اگر کوئی شخص پولیس کا نسٹیبل ، اسٹنٹ پولیس انسپکٹر یا کسی بھی آسامی پر اپنی تعلیم اور صلاحیت پوری ہونے کے باوجود تقرری چاہتا ہے تو اسے اپنے مطلوبہ عہدہ پر تقرری کیلئے کسی نہ کسی مرحلے پر ارباب بست و کشاد کی مٹھی گرم کرنے کے تکلیف سے گزرنا پڑتا ہے اور جو شخص رشوت دے کر پولیس کی نوکری حاصل کرتا ہے وہ اپنے پولیس کیریئر میں رشوت دے کر ملازمت حاصل کرنے کی اس روایت کو بھی فراموش نہیں کرتا اور ہمیشہ کسی بھی جائز یا نا جائز کام میں رشوت لیتے وقت اس کے ذہن و قلب پر نقش رشوت دیگر ملازمت میں آنے کا تصور نقش ہو جاتا ہے۔
ایک صحافی ہونے کے ناطے میری ذمہ داری صرف ان کالی بھیڑوں کو منظر عام پر لاکر پوری نہیں ہو جاتی، میں سمجھتا ہوں کہ اس کیساتھ ساتھ اصلاح کا پہلو بھی مجھے سامنے لانا چاہئے۔ پولیس کا نظام اس وقت تک شفاف نہیں ہوگا جب تک پولیس افسر میرٹ پر تعینات نہیں ہونگے اور انہیں حکومتی یا سیاسی دباﺅ سے آزاد ہو کر بالکل بے لاگ تفتیش اور دیانتداری اور ضمیر کے مطابق محکمانہ فرائض کی ادائیگی کا اختیار نہیں ہوگا تب تک پولیس اصلاحات کی ڈرامہ سیریل جاری رہے گی جس کا نہ تو کوئی مثبت نتیجہ سامنے آئے گا ۔اور جی ہاں میں زیادہ تابعدار کا راگ الاپ کا پوسٹنگ حاصل کرنے والے ضرورت مند آفیسرز کی ہونگی موجاں ای موجاں۔
نوٹ:فیاض ملک سینئر صحافی ،کرائم رپورٹر،کالم نگار،اینکر پرسن ہیں جو پولیس کے حوالے سے امورپرکافی جانکاری رکھتے ہیں قارئین کے مسائل کو ہر فورم پر اجاگرکرتے اور محکمہ جاتی اصلاحات کیلئے کوشاں رہتے ہیں۔



