سہیل آفریدی،جوانوں کو پیروں کا استاد کر ۔۔۔۔
نوجوان سہیل آفریدی نے جس طرح سیاسی طور پرتحریک انصاف کو متحرک کر دیا وہ علی امین گنڈاپور جیسا جہاں دیدہ سیاست دان بھی نہ کر سکا ۔علی امین گنڈاپورنے نہ صرف اپنی وزارت اعلی ٰکھو دی بلکہ پارٹی کے اندر ساکھ بھی دائو پر لگ گئئ مجھے انکی نیت پر کبھی بھی شبہ نہیں رہا مگر طرز سیاست نے ان کو رسوا کر دیا۔

جس طرح کارکنوں کو تنہا چھوڑ کر چلے جاتے تھے اس سے شکوک شہبات جنم لیتے تھے یہی وجہ ہے آج وہ صرف ڈیرہ اسماعیل خان تک محدود ہو کررہ گئے ہیں جبکہ نوجوان سہیل آفریدی جسے کل تک سوائے اسکے حلقہ انتخاب کے لوگوں کوئی نہیں جانتا تھاآج پورے ملک میں ہردلعزیز سیاست دان بن چکے ہیں۔

پہلے لاہور اب کراچی میں ملنے والی عوامی پزیرائی کی بنیادی وجہ عمران خان کی سیاسی سوچ پر من وعن عمل کرنا اور دوسرا کارکنوں کے ساتھ جڑے رہنا ہے،سہیل آفریدی ایک کارکن وزیر اعلی ٰہے اس کو دیکھ کر تحریک انصاف کا ہر کارکن اپنے اپ کو وزیر اعلیٰ سمجھتا ہے اور سہیل آفریدی کا ہاتھ کارکنوں کی نبض پر ہے ۔

پنجاب حکومت نے جس تنگ نظری کا مظاہرہ سہیل آفریدی کے دورہ لاہور کے موقع پر کیا تھا ، سہیل آفریدی کی کراچی آمد پر پیپلز پارٹی کی حکومت نے ہوائی اڈے پر ایک ایک اچھا تاثر دیا مگر جیسے ہی سہیل آفریدی کو دیکھ کر عوام سٹرکوں پر نکلی ، سندھ حکومت بھی پنجاب حکومت بن گئی جس نے ایک بات ثابت کر دی کہ ہیت متدرہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون ایک نوجوان سیاست کار سے کس قدر خوفزدہ ہیں ۔

سوچیں ابھی سہیل آفریدی ہے جب عمران خان عوام میں نکلے گا تب کیا حال ہوگا ، ایک اور نوجوان سیاست کار عمار علی جان نے بھی اپنی جماعت کے ساتھ مل کر تحریک تحفط آئین پاکستان میں شامل ہونے کا اعلان کیا ہے یہ ایک بہترین فیصلہ ہے عمار علی جان صاحب علم نوجوان سیاست دان ہیں جو فاروق طارق جیسے نظریاتی بایاں بازو کی سوچ رکھنے والے شخص کے ساتھ کام کر رہے ہیں ، جس طرح وہ پنجاب حکومت کو للکار رہے ہیں وہ انکے درخشاں سیاسی مستقبل کی نوید ہے کیونکہ آج وہی سیاست کار کامیاب ہے جو عوامی اور مزاحمتی سیاست کرے گا۔



