بلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاعلاقائی خبریںکاروبارکالم

تیر کمان سے نکل چکا

تحریر/اسد بٹ

مسلم لیگ ن کا سیاسی کیریئر ختم کرنا طاقتور حلقوں کی دیرینہ خواہش تھی اس خواہش کی تکمیل کیلئے بہت سے اقدامات کیے گئے جیسا کہ ماضی بعید میں ملی مسلم لیگ کے نام سے ایک سیاسی جماعت تشکیل دی گئی جس کا مقصد مسلم لیگ ن کے ووٹ توڑنا تھا اس جماعت کی تشکیل کے بعد خاطر خواہ نتائج نہ ملنے پر ایک دوسری جماعت جس کوکالعدم قراردیا گیا متعارف کروائی گئی جس کا مقصد مسلم لیگ ن کا مذہبی حلقوں میں موجود ووٹ بنک ختم کرنا تھا۔

طاقتوروں کوکالعدم مذہبی تنظیم کے ذریعے کافی حد تک کامیابی ملی مگر خواہش مکمل طور پر پوری نہ ہو سکنےکی وجہ سے طاقتور حلقوں نے ایک سیاسی جماعت پی ٹی آئی پر دست شفقت رکھا۔ پی ٹی آئی نے مسلم لیگ ن کو کافی ٹف ٹائم دیا اور ساتھ ہی ساتھ پاکستان کے آزاد خیال طبقے کے بوڑھوں،جوانوں اور عورتوں کے حواس پر قابو پا لیا۔طاقتور حلقوں کی دیرینہ خواہش اس سیاسی جماعت کے ذریعے پورا ہونے کی امید جاگی تو انھوں نے پی ٹی آئی کو قبول کر لیا تاکہ قبولیت کے ذریعے مقبولیت کا سیاسی خاتمہ کیا جا سکے۔

2018 کے الیکشن میں مسلم لیگ ن کو ایک بار پھر عوامی حمایت پر توقع سے زیادہ ووٹ ملے مگر طاقتوروں کو کچھ اور منظور تھا اور پاکستان میں "ہوتا ہوئی ہے جو منظورِ طاقتور ہوتا ہے” لہذا ووٹوں کی اکثریت رکھنے والی جماعت کو اقلیت میں تبدیل کر دیا گیا اور اقلیت والوں کو اکثریت دے کر اقتدار سونپ دیا گیا یوں رات کے محرم دن کے مجرم ٹھہرے۔

پی ٹی آئی نے اقتدار سنبھالتے ہی پاکستان کے بنیادی مسائل کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مسلم ن سے سیاسی انتقام لینے کی ٹھان لی اور یوں اپنی طاقت و صلاحیت ایک لاحاصل تمنا پر صرف کرنے لگی، نتیجتاً یہ ہوا کہ پاکستان کا رخ بجائے ترقی کے تنزلی کی طرف مڑنے لگا۔ساڑھے تین سال بعد طاقتور حلقوں کو احساس ہوا کہ انھوں نے مسلم لیگ ن کو ختم کرنے کے چکر میں پاکستان کی سالمیت داؤ پر لگا دی ہے۔

تب اس دور کے طاقتور شخص نے پی ڈی ایم تشکیل دی اور مسلم لیگ ن کو اقتدار کا لالچ دے کر پی ڈی ایم کا حصہ بننے پر مجبور کیا۔ اسوقت مسلم لیگ ن مکمل طور پر زیر عتاب آ چکی تھی بلکہ دیوار میں چنی جا چکی تھی یہاں تک کہ سانس لینا بھی دشوار ہو چکا تھا۔ ایسے میں مسلم لیگ ن کے پاس صرف دو ہی راستے تھے یاں تو وہ انکار کر کے اپنی سیاست بچائے اور مزید قیدو بند کی صعوبتیں جھیلے یاں پی ڈی ایم کا حصہ بن کے اپنی اکھڑتی سانسیں بحال کرے،قید سے رہائی حاصل کرے اور اقتدار کے مزے لوٹے۔ فیصلہ مشکل تھا ایک طرف سیاست کا خاتمہ دوسری طرف آزادی اور اقتدار۔

اس وقت کے سیاسی حکماء نے مشورہ دیا کہ پی ڈی ایم کا حصہ بن کر پی ٹی آئی کی حکومت گرانے کے بجائے اسے دور حکومت مکمل کرنے دیا جائے،مستقبل قریب میں پی ٹی آئی کا سیاسی کردار ختم ہونے کو ہے کیونکہ پی ٹی آئی عوام کو ڈلیور نہ کرنے کی وجہ سے غیر مقبول ہوتی جا رہی ہے۔دوسری طرف طاقتور حلقوں کے حامیوں نے مشورہ دیا کہ طاقتوروں کی قبولیت حاصل کر کے آزادی اور اقتدار چنا جائے کیونکہ قبولیت کے سامنے عوامی مقبولیت ہار جاتی ہے۔

بالآخر فیصلہ ہوا کہ قبولیت کے ذریعے آزادی اور اقتدار حاصل کیا جائے۔اس فیصلے کے بعد سیاسی حکماء کے درمیان چہ میگوئیاں ہوئیں کہ طاقتوروں کی جو مسلم لیگ ن کا سیاسی کیریئر ختم کرنے کی دیرینہ خواہش تھی اسے آج خود مسلم لیگ ن نے پورا کر دیا۔ااقتدار تو حاصل ہو گیا مگر یہاں سے مسلم لیگ ن کا سیاسی زوال شروع ہوا آج شاید مسلم لیگ ن کو اس بات کا احساس ہو چکا ہو مگر اب تو "تیر کمان سے نکل چکا ہے”

گو کہ اسوقت مسلم لیگ ن بر سر اقتدار ہے اور بظاہر سب کچھ ٹھیک لگ رہا ہے،طاقتور حلقے،عدلیہ اور حکومت ایک پیج پر ہیں مگر زمینی حقائق حکمران جماعت کے حق میں بلکل نظر نہیں آ رہے۔اور اسکی دو بڑی وجہ ہیں ایک معاشی ٹھہراؤ دوسرا گراس روٹ لیول پر سیاسی عدم پختگی۔

جب کوئی حکومت معاشرتی نظام کیلئے سود مند نہ رہے تو اسکے لئے حکومت قائم رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔اور جب کوئی سیاست دان عوامی حمایت کی ضرورت محسوس نہ کرے تو اسکے لئے اپنا سیاسی کیریئر قائم رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔بدقسمتی سے موجودہ حکومت نہ معاشرتی نظام کیلئے سود مند نظر آ رہی ہے اور نہ ہی عوامی حمایت کی ضرورت محسوس کر رہی ہے۔اسوقت صورت حال یہ ہے کہ معاشی ٹھہراؤ کی وجہ سے بیروزگاری اور مایوسی پھیل چکی ہے۔

ٹیکسوں کی بھرمار نے عام عوام کے منہ سے نوالہ چھین لیا ہے۔ ہر ادارہ اپنے متعلقہ کام سے ہٹ کر حکومت کیلئے ریوینیو جنریٹ کرنے کا آلہ کار بنا ہوا ہے۔غیر ملکی سرمایہ کار سرمایہ کاری کیلئے آنے کو تیار نہیں،کوئی نئی منصوبہ بندی سامنے نظر نہیں آ رہی۔اشیائے خوردونوش عوام کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔ بجلی، گیس،پٹرول کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔

ملکی صنعت کار، کاشتکار حکومت سے نالاں ہیں۔ایسے حالات میں حکومت اپنی افادیت کھوتی جا رہی ہے۔حکمران جماعت کا اقتدار ہاتھ سے ریت کی طرح سرکتا جا رہا ہے۔پاکستان کا صوبہ پنجاب جہاں سے حکمران جماعت کو ہمیشہ حمایت حاصل رہی،اسی صوبے کی عوام پر پیرا فورس جیسا ادارہ مسلط کر کے دکانداروں کی نفرت و مخالفت مول لی گئی۔

پیرا فورس کے اہلکاروں پر عوام کی جانب سے رشوت ستانی اور اختیارات کا ناجائز استعمال جیسے الزامات سامنے آئے۔پاکستان جیسے ملک میں جہاں اکثریت غریب لوگوں کی ہے وہاں پیرا فورس بنانے کا فیصلہ سیاسی نابالغی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔جس ملک کا تاجر بدحالی کا شکار ہو جائے وہاں معاشی توازن برقرار نہیں رہتا۔ بگڑتا معاشی توازن ملکی سالمیت کیلئے بہت بڑا خطرہ تصور کیا جاتا ہے۔

معاشی بحران سے دفاعی نظام کمزور ہونے کا خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔ ہماری معاشی صورتحال سے تو آپ آگاہ ہو چکے ہیں اب موجودہ حکومت کی سیاسی صورتحال بھی ملاحظہ فرما لیجیئے ۔ سیاست کے ذریعے اقتدار میں آنے والی حکمران جماعت یہ سمجھ بیٹھی ہے کہ اب ہمیں عوامی حمایت کی ضرورت نہیں رہی، اسی لئے تو تین سالوں میں نہ کوئی سیاسی جلسہ کیا گیا اور نہ ہی سیاسی کارکنوں کی خبر گیری کی گئی،اسی خام خیالی کی وجہ سے عوام اور انکے سیاسی کارکنان ان سے دور ہو چکے ہیں۔

موجودہ حکومت بروقت بلدیاتی انتخابات نہ کروا کر عوام میں طاقت منتقل کرنے میں ناکام رہی ہے۔اقتدار ہمیشہ رہنے والی چیز نہیں ہوتی، ایک نہ ایک دن اقتدار چھوڑ کر عوام کے درمیان آنا ہی پڑتا ہے میرا ذاتی خیال ہے کہ یہ وقت حکومتی مدت پوری ہونے سے بہت پہلے آنے والا ہے۔اور اگر ن لیگ یہ سمجھتی ہے کہ پنجاب انکا ہے تو انھیں 2018 یاد ہونا چاہیے جب ن لیگ سے پنجاب بھی چھین لیا گیا تھا۔
حکومتی جماعت نے اپنی سیاسی ساکھ اتنی کمزور کر لی ہے کہ کل کلاں جب یہ اقتدار چھوڑ کر سڑکوں پر آئے انھیں اپنے سائے کے علاؤہ کوئی اپنے پیچھے کھڑا نظر نہیں آئے گا۔اسوقت انکے ہاتھ نہ اقتدار ہو گا نہ سیاست۔
نا خدا ہی ملا نہ وصال صنم
نہ ادھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے
ہوئے بدن کے ٹکڑے جدا جدا
نہ کفن کے رہے نہ دفن کے رہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button