انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاعلاقائی خبریں

راولاکوٹ: کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کیخلاف کارروائی، فائرنگ کا تبادلہ ،کتنی ہلاکتیں؟

راولا کوٹ:(ویب ڈیسک) پونچھ ڈویژن کے کمشنر سردار وحید خان کے مطابق راولاکوٹ کے علاقے دریک عید گاہ کے قریب کالعدم جماعت جموں کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے درمیان اتوار کی علی الصبح فائرنگ کے مبینہ تبادلے میں دو افراد مارے گئے ہیں جبکہ آٹھ سے زیادہ افراد زخمی ہیں۔

اس سے پہلے اتوار کی صبح کمشنر وحید خان نے بتایا تھا کہ فائرنگ کے تبادلے میں ایک شخص زخمی ہوا ہے جبکہ عینی شاہین کے مطابق ایک درجن سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے تین کی حالت تشویش ناک ہے۔

سردار وحید خان کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں میں ایک کا تعلق پلندری جبکہ دوسرے کا تعلق ہجیرہ سے ہے

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہلاک ہونے والے مجرمانہ ریکارڈ رکھتے تھے اور ان کے خلاف مخلتف تھانوں میں منشیات فروشی کے متعدد مقدمات درج ہیں۔

کمشنر پونچھ کہتے ہیں کہ مظاہرین پر واضح کرُدیا گیا ہے کہ حکومت کالعدم تنظیم کے چار اراکین، جن کی گرفتاری کے حوالے سے انعامی رقم بھی رکھی گئی ہے، کو چھوڑ کر دیگر افراد کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

دوسری جانب عوامی ایکشن کمیٹی کی کور کمیٹی کے رکن عابد شاہین کا کہنا تھا کہ اس طرح مذاکرات کی دعوت دینا ان کی تنظیم کو تقسیم کرنے کے مترادف ہے اور ان کی تنظیم ایسی کسی بھی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دے گی۔

اس سے قبل انتظامیہ نے راولا کوٹ کے قریب دریک عیدگاہ میں کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن کر کے علاقہ خالی کروانے کا دعویٰ کیا تھا۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ آزاد پتن کے مقام پر مظاہرین اب بھی موجود ہیں جن کی تعداد 500 سے بھی کم ہے۔

 

پونچھ ڈویژن کے کمشنر سردار وحید خان نے دعویٰ کیا تھا کہ اس دوران اہلکاروں اور پولیس کی بکتر بندی گاڑی کو گولیوں کا نشانہ بھی بنایا گیا، تاہم چونکہ یہ گاڑی بم پروف ہوتی ہے اس لیے نقصان نہیں ہوا۔

دوسری جانب وزارتِ داخلہ نے کالعدم تنظیم کی کور کمیٹی اور متحرک کارکنوں کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالنے کی درخواست بھی متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دی ہے۔

سردار وحید خان کا کہنا تھا کہ جس طرح مظاہرین کی جانب سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو براہ راست گولیوں کا نشانہ بنایا گیا اس کے بعد اب شاید قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے پاس اپنے دفاع کے لیے گولی چلانے کے علاوہ اور کوئی آپشن نہیں ہو گا۔

اُنھوں نے کہا کہ رات کے وقت مظاہرین منتشر ہو جاتے ہیں جبکہ دن کے وقت دوبارہ آ کر مختلف مقامات پر دھرنا دے دیتے ہیں۔

راولا کوٹ کی ضلعی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ شہر میں کھانے پینے کی اشیا کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اگرچہ اس صورتحال میں لوگوں نے راشن ذخیرہ کیا ہے لیکن انھیں اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ یہ معاملہ اتنا طول پکڑ لے گا۔

پونچھ ڈویژن کے کمشنر وحید خان کا کہنا ہے کہ کہوٹہ سے راولا کوٹ آنے والی شاہراہ کو مظاہرین نے پتھر اور درختوں کے تنے رکھ کر بند کر رکھا ہے۔

انھوں نے کہا کہ پونچھ ڈویژن کے علاقوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی ایک حکمتِ عملی کے تحت ابھی تک معطل ہے۔

دوسری جانب مظفر آباد میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شہر کے مختلف مقامات پر عارضی چیک پوسٹیں اور حفاظتی بنکرز بھی بنا لیے ہیں۔

مقامی صحافی فرحان طارق کے مطابق مظفر آباد کے ٹانگہ سٹینڈ اور دیگر علاقوں میں پولیس نے ریت کی بوریوں کی عارضی دیوار بنا کر چیک پوسٹیں بنا لی ہیں۔
فرحان طارق کا کہنا ہے کہ لوگ صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے گڑھی حبیب اللہ اور مانسہرہ سے سامان خرید کر مظفر آباد لا رہے ہیں۔

مقامی صحافی جمیل صدیقی کے مطابق ضلع حویلی میں بازاروں میں آٹا دستیاب ہے نہ پیٹرول اور شہری اشیائے خورد ونوش کی تلاش میں نکلیں بھی تو پیٹرول دستیاب نہیں جس کے باعث وہ پیدل کئی کئی میل کا سفر طے کرنے پر مجبور ہیں۔

دوسری جانب ڈپٹی کمشنر مظفر آباد منیر قریشی کا کہنا ہے کہ شہر کی طرف آنے والے تمام راستے کھلے ہیں اور کسی کو بھی سڑکیں بند کرنے کی اجازت نہیں۔

انھوں نے کہ شہر میں سبزی اور فروٹ کے علاوہ اشیائے خوردو نوش کی دکانیں کھلی ہیں جبکہ ضلعی انتظامیہ نے کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے رکن شوکت نواز میر کی دکان کو سیل کردیا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button