انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکالم

تیل کی روح اور طاقت کی جنگ

عاصم رضا خیالوی

دنیا کی تاریخ میں ایسے بے شمار لوگ گزرے ہیں جنہیں طاقت، بہادری اور جسمانی کمال کی علامت سمجھا گیا۔ کبھی انہیں رستمِ ہند کہا گیا، کبھی رستمِ زمان۔ ان کے اکھاڑوں کی مٹی میں پسینہ گرتا تھا، ان کے عضلات میں محنت کی آگ جلتی تھی اور ان کی ریاضت کے قصے نسل در نسل سنائے جاتے تھے۔ وہ اپنے جسم کو ایک فن پارہ سمجھ کر سنوارتے تھے۔ دن رات کی مشقت، ضبطِ نفس اور مسلسل محنت سے وہ اپنے وجود کو ایسی طاقت میں ڈھالتے کہ دیکھنے والے حیران رہ جاتے۔ دنیا کے بڑے بڑے باڈی بلڈرز، کھلاڑی اور فنکار اسی جذبے کے ساتھ اپنی زندگیاں گزار گئے۔ مگر وقت کا قانون ہمیشہ ایک ہی رہا ہے۔ جیسے جیسے عمر آگے بڑھتی ہے، وہی طاقتور جسم آہستہ آہستہ کمزور ہونے لگتا ہے۔ پھر ایک دن ایسا آتا ہے کہ روح اس جسم کا ساتھ چھوڑ دیتی ہے اور وہی رستمِ زمان، وہی مسٹر ورلڈ، وہی دنیا کا عظیم ترین پہلوان ایک بے جان جسم میں بدل جاتا ہے۔ پھر ہر مذہب اپنی اپنی رسومات کے مطابق اس جسم کو مٹی کے حوالے کر دیتا ہے؛ کوئی زمین میں دفنا دیتا ہے، کوئی آگ کے سپرد کر دیتا ہے اور کوئی کھلے آسمان کے نیچے چھوڑ دیتا ہے۔
یہی کہانی صرف انسان کے جسم کی نہیں، بلکہ طاقت اور سلطنتوں کی بھی ہے۔ تاریخ کے اوراق میں ایسے بادشاہوں اور حکمرانوں کے نام لکھے ہیں جن کی طاقت کا ڈنکا پوری دنیا میں بجتا تھا۔ ان کی ایک دھمکی پڑوسی ریاستوں کے لیے شیر کی دھاڑ سے کم نہ ہوتی تھی۔ ان کے لشکر، ان کے قلعے، ان کے خزانے اور ان کے حکم نامے زمانے کو لرزا دیتے تھے۔ مگر وقت نے بارہا یہ منظر بھی دیکھا کہ جب طاقت غرور میں بدل گئی اور ظلم حد سے بڑھ گیا تو وہی طاقتور حکمران بھی ایک دن مٹی کے نیچے جا سوئے۔ ان کی محنت سے کھڑی کی گئی سلطنتیں بھی وقت کے گرداب میں تحلیل ہو گئیں۔ تاریخ کے میدان میں آج صرف ان کے کھنڈر باقی ہیں اور ان کے قصے کتابوں کے صفحات میں قید ہو کر رہ گئے ہیں۔
انسان نے مگر اپنی فطرت کے مطابق ہمیشہ آگے بڑھنے کی کوشش کی۔ علم، فن اور تحقیق کے میدان میں اس نے ایسی حیرت انگیز ترقی کی کہ خود انسان اپنی ایجادات کو دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے۔ صنعتوں کی دنیا میں انقلاب آیا، آسمانوں میں اڑنے والے جہاز بنے، سمندروں کو چیرتے ہوئے بحری بیڑے نکلے اور زمین کے فاصلے سکڑ کر رہ گئے۔ وہ راستے جو کبھی مہینوں میں طے ہوتے تھے، اب منٹوں اور سیکنڈوں میں سمٹ گئے۔ سائنسی ترقی کی اس دوڑ میں کئی قومیں آگے بڑھیں، مگر بیسویں اور اکیسویں صدی میں امریکہ ایک ایسی طاقت بن کر ابھرا جس نے ٹیکنالوجی، صنعت اور عسکری قوت کے میدان میں حیرت انگیز برتری حاصل کر لی۔ جدید ترین میزائل، کیمیائی ہتھیار، جادوئی رفتار سے اڑنے والے طیارے اور حیرت انگیز مشینری نے دنیا کو حیرت میں ڈال دیا۔ دنیا کے بہت سے ممالک نے اس ترقی کو تسلیم کیا اور کسی نہ کسی شکل میں اس کی عالمی قیادت کو بھی قبول کیا۔
لیکن اس تمام ترقی کے پیچھے ایک ایسی حقیقت چھپی ہوئی ہے جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ انسان کی ایجادات اور مشینیں اس وقت تک زندہ ہیں جب تک انہیں چلانے کے لیے توانائی موجود ہے۔ آج کی دنیا میں یہ توانائی تیل اور گیس کی شکل میں سامنے آتی ہے۔ اگر کسی ملک کے پاس جدید ترین طیارے، عظیم فیکٹریاں اور حیرت انگیز ٹیکنالوجی موجود بھی ہو لیکن انہیں چلانے کے لیے ایندھن نہ ہو تو وہ سب کچھ ایک مردہ جسم کی طرح بے کار ہو جاتا ہے۔ یہ منظر بالکل ایسا ہے جیسے کسی قبرستان میں دنیا کے عظیم پہلوان اور طاقتور لوگ دفن ہوں، مگر ان کی طاقت کا کوئی اثر باقی نہ رہے۔
حالیہ برسوں میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے دنیا کے سامنے ایک مرتبہ پھر اس حقیقت کو واضح کر دیا ہے کہ عالمی سیاست کی بنیاد صرف نظریات یا طاقت پر نہیں بلکہ وسائل پر بھی قائم ہے۔ وینزویلا کی مثال سامنے آتی ہے جہاں قدرتی وسائل پر اثر و رسوخ قائم رکھنے کی کوششوں نے عالمی طاقتوں کے عزائم کو بے نقاب کیا۔ اس کے بعد ایران ایک ایسا مرکز بن کر سامنے آیا جس کے پاس دنیا کے بڑے تیل کے ذخائر اور اہم سمندری راستوں پر اثر موجود ہے۔ جب اس خطے میں کشیدگی بڑھی تو پوری دنیا کی نظریں اس طرف مرکوز ہو گئیں۔ طاقتور ریاستوں نے اپنے اپنے مفادات کے مطابق صف بندیاں کیں اور دنیا نے دیکھا کہ ایک چھوٹا سا خطہ عالمی سیاست کا مرکز بن گیا۔
ایسے مواقع پر تاریخ ہمیں ایک اور سبق بھی دیتی ہے۔ کبھی کبھی طاقت کا توازن اس وقت بدل جاتا ہے جب ایک کمزور سمجھا جانے والا فریق غیر متوقع مزاحمت دکھاتا ہے۔ پہلوانوں کی دنیا میں بھی یہی ہوتا ہے۔ جب ایک بڑا پہلوان کسی چھوٹے پہلوان کو آسان شکار سمجھ کر میدان میں اترتا ہے اور وہ چھوٹا پہلوان اسے پچھاڑ دیتا ہے تو بڑے کی شہرت کو دھچکا لگتا ہے اور چھوٹا اچانک نامور بن جاتا ہے۔ عالمی سیاست کے میدان میں بھی بعض اوقات یہی منظر دہرایا جاتا ہے۔
ان حالات کے درمیان عالمی اداروں کا کردار بھی ہمیشہ بحث کا موضوع رہا ہے۔ اقوام متحدہ جیسے ادارے اس تصور کے ساتھ وجود میں آئے تھے کہ دنیا کی اقوام کو ایک ایسا پلیٹ فارم ملے جہاں وہ جنگ کے بجائے گفتگو کے ذریعے مسائل حل کریں۔ ایک ایسی عالمی پنچایت جہاں مظلوم کی آواز بھی سنی جا سکے اور طاقتور کو بھی قانون کے دائرے میں رکھا جا سکے۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہ سوال بھی اٹھتا رہا ہے کہ کیا یہ ادارے واقعی انصاف اور امن کے محافظ بن سکے ہیں یا طاقتور ممالک کی سیاست کے زیر اثر آ گئے ہیں۔ بعض اوقات نئے ناموں اور نئے نعروں کے ساتھ امن کے ادارے سامنے آتے ہیں، مگر جنگ کے میدان میں مرنے والے انسانوں کی لاشیں یہ سوال اٹھاتی ہیں کہ کیا واقعی امن اسی کا نام ہے۔
دنیا کی حقیقت شاید اس سے زیادہ سادہ ہے جتنی اسے بنا دیا گیا ہے۔ قدرت نے ہر خطے کو کوئی نہ کوئی نعمت عطا کی ہے۔ کہیں تیل ہے، کہیں گیس ہے، کہیں علم اور ٹیکنالوجی ہے اور کہیں انسانی محنت اور وسائل کی دولت ہے۔ اگر انسان ان نعمتوں کو ایک دوسرے کے ساتھ بانٹنے اور تبادلے کے اصول پر چلائے تو دنیا کا توازن برقرار رہ سکتا ہے۔ مگر جب طاقت، لالچ اور خوف اس توازن کو توڑ دیتے ہیں تو جنگیں جنم لیتی ہیں اور انسانیت اس کی قیمت چکاتی ہے۔
اصل سوال شاید یہی ہے کہ انسان اپنی تاریخ سے کیا سیکھتا ہے۔ رستمِ زمان کے جسم کی طاقت ہو یا کسی عظیم سلطنت کی قوت، سب کا انجام ایک دن مٹی کی خاموشی میں گم ہو جاتا ہے۔ باقی رہ جاتی ہے تو صرف وہ حکمت جو انسان کو یہ سکھاتی ہے کہ طاقت کا اصل مقصد تباہی نہیں بلکہ توازن قائم کرنا ہے۔ دنیا کی ترقی کی حقیقی روح صرف مشینوں اور ہتھیاروں میں نہیں بلکہ انسان کے اندر موجود عقل، شعور اور انصاف کے احساس میں پوشیدہ ہے۔ اگر یہ روح زندہ رہے تو ایجادات بھی انسانیت کے لیے نعمت بن جاتی ہیں، اور اگر یہ روح مر جائے تو ترقی بھی ایک دن قبرستان کی خاموشی میں بدل سکتی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button