
رجب، ذی القعد، ذی الحج اور محرم الحرام حرمت والے 4 مہینوں کا ذکر قرآن پاک میں آیا ہے ان مہینوں میں زمانہ جاہلیت میں بھی جنگ و جدل کو معیوب سمجھا جاتا تھا۔ ہجری کیلنڈر کی باقاعدہ تدوین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ کے دور خلافت میں تقریبا 17 ہجری (638ء) میں ہوئی مختلف سرکاری خطوط پر تاریخ نہ ہونے کی وجہ سے ضرورت محسوس ہوئی کہ مسلمانوں کا مستقل کیلنڈر بنایا جائے چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ کے مشورے سے ہجرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسلامی تاریخ کا نقطہ آغاز قرار دیا گیا ۔
اگرچہ ہجرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ربیع الاول میں ہوئی تھی لیکن صحابہ کرام کے مشورے سے محرم کو سال کا پہلا مہینہ چند وجوہات کی بناء پرمقرر کیا گیا کہ عربوں میں پہلے سے محرم کو سال کا آغاز سمجھا جاتا تھا دوسرے یہ کہ ذوالحجہ میں حج مکمل ہونے کے بعد محرم سے نئے سال کا آغاز مناسب سمجھا گیا ۔تیسرے یہ کہ بیعت عقبہ کے بعد ہجرت کا عزم محرم سے ہی شروع ہو چکا تھا اسلئے محرم الحرام کو ہی اسلامی تاریخ کا پہلا مہینہ حتمی طور پر قرار دے دیا گیا ۔
محرم کا مہینہ آتے ہی امت مسلمہ پر غم کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے کیونکہ عام خیال کے مطابق اس مہینے کو امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت و واقعہ کربلا سے منسوب کیا جاتا ہے ۔9 اور 10 محرم کے روزے رکھنے کی بھی یہی وجہ سمجھی جاتی ہے جبکہ واقعہ کربلا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وصال کے 50 سال بعد پیش آیا اور متعدد احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یوم عاشورہ کا روزہ رکھا کرتے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا!” رمضان کے بعد سب سے افضل روز ے اللہ کے مہینے محرم کے روزے ہیں” ایک اور حدیث کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا!”مجھے اللہ تعالی سے امید ہے کہ عاشورہ کے دن کا روزہ گزشتہ ایک سال کے صغیرہ گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔”
ان احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ محرم الحرام کی اہمیت و فضیلت تو واقعہ کربلا سے پہلے بھی موجود تھی۔ عاشورہ کا معنی ہے 10 اور 10 انبیاء کی نسبت سے بھی 10 محرم کو یوم عاشورکہا جاتا ہے۔ مختلف روایات میں مختلف جگہوں پر 10 انبیاء کے ساتھ 10 محرم الحرام کو مختلف واقعات پیش آنے مثلا
1۔ حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی۔
2۔ حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی جودی پہاڑ پر ٹھہری۔
3۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام آگ سے بچالئے گئے۔
4۔حضرت موسی علیہ السلام اور ان کی قوم کو فرعون سے نجات ملی۔
5۔ حضرت یونس مچھلی کے پیٹ سے نکالے گئے۔
6۔حضرت یعقوب علیہ السلام کی بینائی واپس آئی ۔
7۔حضرت ایوب علیہ السلام کو بیماری سے شفا نصیب ہوئی۔
8۔ حضرت یوسف کو کنویں سے نکالا گیا بعض روایات کے مطابق جیل سے رہائی پا کر عزت و مرتبے پر فائز ہوئے۔
9۔ حضرت عیسٰی علیہ السلام اسی دن پیدا ہوئے اور اسی دن ان کو آسمان کی طرف اٹھا لیا گیا ۔
10۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اگلے پچھلے تمام خطائیں معاف ہو جانے کی خوشخبری دی گئی ۔
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو عاشورہ کے دن کا روزہ رکھتے دیکھا یہودیوں نے بتایا کہ اس دن اللہ نے حضرت موسی علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات دی تھی اس لیے حضرت موسی علیہ السلام شکرانے کے طور پر روزہ رکھتے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! "ہم موسی علیہ السلام کے زیادہ حقدار ہیں” اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی روزہ رکھا اور اس کا حکم بھی فرمایا اور یہودیوں سے مماثلت نہ ہو اس سے بچنے کے لیے دو روزوں کا فیصلہ کیا گیا۔
9اور 10 محرم یا 10 اور 11 محرم کا جس کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی آئندہ سال 9اور 10 محرم کا روزہ رکھنے کا عہد کیا مگر محرم آنے سے پہلے ان کی وفات ہو گئی اور وہ دو روزے نہ رکھ سکے مگر امت مسلمہ کے لیے ان کا وہ فیصلہ مشعل راہ ہے جو وہ کر چکے تھے۔
واقعہ کربلا کے لیے بھی اللہ نے اسی ماہ کا انتخاب کیا جب نواسہ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم )امام حسین بن علی اور ان کے اہل بیت کو شہید کر دیا گیا 61 ہجری میں یزید بن معاویہ کی بیعت کے سلسلے میں اختلاف شروع ہوا تو کوفہ کے بہت سے لوگوں نے ان کو خطوط لکھ کر آنے کی دعوت دی مگر بعد میں حالات یکسر تبدیل ہو گئے جب امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ اپنے اہل خانہ اور ہم خیال ساتھیوں کے ساتھ عراق کی طرف روانہ ہوئے تو کربلا کے مقام پر انہیں روک لیا گیا۔
ان کے خلاف جنگ و جدل کا میدان سجادیا گیا وہ بھی دلیری اور شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے حق پر ڈٹے رہے نہ زاد راہ تھا نہ بہت بڑی تعداد مگر رگوں میں جرآت وبہادری کی اعلیٰ مثال حیدر کرار کا لہو دوڑ رہا تھا کیسے پیچھے ہٹتے۔ عزم تھا حوصلہ تھا حق کے غلبے کی چاہ اور اللہ پر توکل جس نے ان کے بچے بچے کو سرشار کر رکھا تھا بھوک سے بے حال پیاس سے نڈھال مگر ایمان کی طاقت سے لبریز وجود لڑتے رہے اور کٹتے رہے نہ جھکے اور نہ حق سے پیچھے ہٹے سارے خاندان نے جام شہادت نوش کر کے اسلام کو زندہ کردیا۔
نواسہ رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور ان کے اہل بیت نے جو قربانی دی وہ اتنی بڑی کامیابی ہے جس نے اسلام کا علم ہی بلند نہیں کیا بلکہ اسلام کو غلط خطوط پر استوار ہونے سےبچالیا ۔ان سے عقیدت و محبت ایسی ہے کہ اس واقعے کا تصور آنکھوں سے آنسو جاری کر دیتا ہے مگر جب اس کے پیچھے اسلام کی بقا پر نظر جاتی ہے تو لہو کی گردش تیز ہو کر حوصلوں کو تقویت بخشتی ہے اس لیے اس واقعے سے ہر مسلمان کو صبر و استقامت حق پر ڈٹ جانے باطل پر سمجھوتہ نہ کرنے اور حق کی خاطر تن تنہا نکل کھڑے ہونے کا سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے آپس میں لڑنے جھگڑنے غلط رسموں کو پروان چڑھانے سے بہتر ہے کہ اس واقعے کی اصل روح تک پہنچا جائے کہ اسلام کا جو علم وہ ہمارے ہاتھوں میں دے کر گئے ہیں ہم اسے مزید بلند کرنے والے بنیں مصلحتوں کو پس پشت ڈال کر کلمہ حق بلند کرنے کے لیے تن تنہا بھی نکلنا پڑے تو لبیک کہیں اور اللہ پر توکل کر کے ڈٹ جائیں آپس میں لڑنے سے حد درجہ بہتر ہے کہ اسلام کی خاطر باطل سے لڑیں اور امت مسلمہ کا سر فخر سے بلند کردیں کیونکہ
قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد



