
امریکا اور ایران کے مابین طویل کشیدگی، باہمی بدگمانی، اقتصادی پابندیوں، عسکری دھمکیوں اور بالواسطہ محاذ آرائی کے پس منظر میں حالیہ امن مفاہمت ایک غیر معمولی پیش رفت کے طور پر سامنے آئی ہے۔جسے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے امید کی کرن قرار دیا جا سکتا ہے۔کئی برسوں سے جاری کشیدگی، اقتصادی پابندیوں،پراکسی تنازعات اور عسکری دھمکیوں کے ماحول میں یہ پیش رفت اس حقیقت کی یاد دہانی بھی ہے کہ سفارت کاری، اگر سنجیدگی اور سیاسی عزم کے ساتھ آگے بڑھائی جائے، تو بظاہر ناقابل حل دکھائی دینے والے تنازعات میں بھی راستہ نکال سکتی ہے۔تاہم خوش آئند بات یہ ہے کہ پاکستان کی کامیاب سفارت کاری نے دنیا کو تیسری عالمی جنگ سے بچا لیا ہے ۔وزیر اعظم شہباز شریف اور بالخصوص فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سفارتی بصیرت، سیاسی فہم اورحکمت عملی نے پاکستان کو ایک مرتبہ پھر بین الاقوامی سطح پر باوقار مقام دلایا ہے۔
امریکی صدر ڈو نلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو ایٹمی ہتھیاروں سے متعلق سخت تنبیہ اور دوسری طرف ایرانی قیادت کے اس موقف کہ لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں معاہدے کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں، اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اعتماد کا فقدان اب بھی دونوں ممالک کے تعلقات کا بنیادی مسئلہ ہے۔ اگرچہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط ایک اہم سنگ میل ہے، لیکن حقیقی آزمائش اس وقت شروع ہوگی جب دونوں فریق حتمی معاہدے کی شرائط، نگرانی کے طریق کار، پابندیوں کے خاتمے اور علاقائی تنازعات کے حوالے سے عملی اقدامات کی جانب بڑھیں گے۔
تاریخ گواہ ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی متعدد پیش رفتیں باہمی بداعتمادی، داخلی سیاسی دبائو اور علاقائی طاقتوں کے تحفظات کے باعث پائیدار نتائج پیدا نہیں کر سکیں۔اس پیش رفت کا سب سے فوری اور نمایاں اثر عالمی معیشت پر دکھائی دیا ہے۔ خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی اس بات کا ثبوت ہے کہ بین الاقوامی منڈیاں جغرافیائی سیاسی خطرات کو کس قدر سنجیدگی سے لیتی ہیں۔ ایران کے تیل کی عالمی منڈی میں ممکنہ واپسی نے رسد کے بارے میں خدشات کم کیے ہیں، جس کے نتیجے میں توانائی کی قیمتوں پر دبائوکم ہوا ہے۔ عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں بہتری اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا نئی بلندیوں تک پہنچنا بھی اسی اعتماد کا اظہار ہے۔

امریکا اور ایران کے تعلقات قریب نصف صدی سے اضطراب اور تصادم کا شکار رہے ہیں۔ ایرانی انقلاب کے بعد سے دونوں ممالک کے مابین اعتماد کا فقدان اس حد تک گہرا ہو چکا تھا کہ ہر سفارتی کوشش بارہا تعطل کا شکار ہوئی۔ ایک طرف امریکا ایران کے جوہری عزائم، عسکری استعداد اور علاقائی اثر و رسوخ کو اپنے مفادات کے لیے چیلنج سمجھتا رہا، تو دوسری جانب ایران امریکی پالیسیوں کو اپنی خودمختاری اور قومی وقار کے لیے مسلسل خطرہ گردانتا رہا۔یہی سبب ہے کہ ہر نئے بحران نے مشرق وسطیٰ کو ایک نئے تصادم کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔ حالیہ بحران میں صورتحال اس قدر سنگین ہو چکی تھی کہ دنیا بھر کی نظریں آبنائے ہرمز پر مرکوز تھیں۔

یہ بحری گزرگاہ عالمی معیشت کی شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے اگر اس راستے کی بندش واقع ہو جاتی تو توانائی کی رسد میں شدید تعطل، تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ اور عالمی منڈیوں میں شدید اضطراب پیدا ہونا یقینی تھا، ایسے نازک لمحے میں پاکستان کی ثالثی سے جو ابتدائی معاہدہ سامنے آیا، اس نے نہ صرف جنگ کے فوری خدشات کم کیے بلکہ عالمی معیشت کو بھی گہری تشویش سے عارضی نجات عطا کی۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے سیاسی سطح پر جس صبر، متانت اور مسلسل رابطہ کاری کا مظاہرہ کیا، وہ قابل تحسین ہے۔سفارت کاری محض رسمی ملاقاتوں اور بیانات کا نام نہیں بلکہ اعتماد سازی، نفسیاتی فہم اور مخالف مو ¿قف رکھنے والے فریقین کے مابین مشترک زمین تلاش کرنے کا فن ہے۔

یہی وہ میدان ہے جہاں پاکستان نے اپنی سیاسی بالغ نظری کا ثبوت دیا۔ اس کے ساتھ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کردار خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ عصر حاضر میں عسکری قیادت صرف دفاعی تیاری تک محدود نہیں رہی بلکہ قومی سلامتی، پس پردہ روابط اور حساس سفارتی معاملات میں بھی اس کی ذمے داریوں کا دائرہ وسیع ہو چکا ہے۔ عالمی سطح پر عسکری اعتماد کا جو حلقہ تشکیل پاتا ہے، اس میں بعض اوقات وہ راستے کھل جاتے ہیں جو رسمی سفارت کاری کے لیے مسدود رہتے ہیں۔ایران کو تیل کی برآمدات کی اجازت، مالیاتی سہولتوں کی بحالی اور منجمد اثاثوں کے حوالے سے پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکا نے کم از کم وقتی طور پر اپنی سخت ترین شرائط میں لچک پیدا کی۔ سفارت کاری کا بنیادی اصول یہی ہے کہ جب متحارب فریق اپنے ابتدائی اور انتہائی سخت موقف سے کچھ فاصلے پر آجائیں تو مفاہمت کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ایران نے بھی اس معاہدے کو شکست یا پسپائی کے بجائے قومی وقار کے تحفظ کے پیرائے میں پیش کیا ہے۔

موجودہ حالات میںعالمی نظام ایک نئے عبوری دور سے گزر رہا ہے۔ طاقت کا ارتکاز بتدریج منتشر ہو رہا ہے اور درمیانی قوتوں کی اہمیت بڑھ رہی ہے۔ ایسے ماحول میں وہ ممالک جو مختلف عالمی حلقوں کے ساتھ بیک وقت تعلقات استوار رکھ سکتے ہیں، غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتے ہیں۔ پاکستان کے پاس یہی موقع ہے کہ وہ اپنی جغرافیائی اہمیت کو سفارتی اثر انگیزی میں تبدیل کرے۔امن معاہدے کی اصل آزمائش اب شروع ہوئی ہے۔ اصل امتحان عمل درآمد، اعتماد سازی اور مسلسل سیاسی عزم کا ہے۔ لبنان، غزہ اور شام جیسے محاذ اگر دوبارہ شدید تصادم کی لپیٹ میں آئے تو یہ مفاہمت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

اس لیے صرف امریکا اور ایران کے تعلقات میں بہتری کافی نہیں، پورے خطے میں کشیدگی کے اسباب کا تدریجی خاتمہ ناگزیر ہے۔تاریخ ہمیں یہی درس دیتی ہے کہ جنگیں اکثر غرور، خوف اور غلط اندازوں سے جنم لیتی ہیں، جبکہ پائیدار امن تدبر، تحمل اور مسلسل مکالمے سے حاصل ہوتا ہے۔



