بلاگپاکستانتازہ ترینعلاقائی خبریںکالم

لاہورکو پیرس بنانے کے خواب اور بھوک کی حقیقت

لاہور کے گلی کوچوں کے عام ہوٹل میرے لیے ایک عجیب سی "عوامی تجزیہ گاہ” بن گئے ہیں۔ یہ نہ کوئی فائیو اسٹار ہوٹل ہیں اور نہ تھری اسٹار ریسٹورنٹس، بلکہ عام ڈھابے ہیں جہاں ایک کپ چائے آج کل ساٹھ روپے میں ملتا ہے۔ یہاں آنے والے زیادہ تر مزدور طبقے کے ادھیڑ عمر لوگ ہوتے ہیں جو دن بھر کی مشقت کے بعد چائے کی پیالی اور اخبار کے چند اوراق کے سہارے اپنی تھکن اتارتے ہیں۔

اکثر ان میں سے خود پڑھ نہیں سکتے، تو جو کوئی تھوڑا بہت پڑھنا جانتا ہے وہ اخبار بلند آواز سے پڑھتا ہے اور یوں ہوٹل میں بحث و مباحثے کی محفل جم جاتی ہے۔ یہ مباحثے کسی یونیورسٹی کے لیکچر ہال کی طرح منظم نہیں ہوتے، مگر ان میں ملک و قوم کے سب سے بڑے مسائل زیرِ بحث آتے ہیں: غربت، دہشت گردی، بے روزگاری، فرقہ واریت اور اب حالیہ دنوں میں حکومت کے ترقیاتی منصوبے۔

شروع میں میں صرف خاموش سامع رہا، مگر ایک دن ہمت کر کے بحث میں شامل ہو گیا۔ میں نے کہا:”دیکھو! یہ میٹرو بس، انڈر پاسز اور فلائی اوورز ہیں جنہوں نے لاہور کا نقشہ بدل کر رکھ دیا ہے۔ یہ منصوبے خوشحالی کے ضامن ہیں۔ آنے والی نسلیں ان پر فخر کریں گی۔”

میری بات سن کر کچھ لوگ خاموش رہے مگر کچھ غصے سے بول اٹھے:”جناب! سڑکوں کا نقشہ واقعی بدل گیا ہے، لیکن کیا کوئی منصوبہ ایسا بھی ہے جو ہمارے پیٹ کے لیے روٹی کا انتظام کرے؟ ہمارے بچوں کو تعلیم اور علاج دے؟ اگر پیٹ خالی ہو، پاؤں میں جوتے نہ ہوں اور جسم پر ڈھنگ کا لباس نہ ہو تو کیا یہ خوبصورت سڑکیں ہمیں سکون دے سکتی ہیں؟”

ان کی یہ بات میرے دل کو لگی۔ میں نے کہا”ہمارے حکمران لاہور کو پیرس بنانے کے خواب دیکھتے ہیں، چاہے عوام کی حالت سوڈان یا ایتھوپیا جیسی ہو جائے۔ وہ ترقی یافتہ ممالک کی عمارتوں اور سڑکوں سے متاثر تو ہوتے ہیں مگر وہاں کی عوام کی خوشحالی پر ان کی نظر نہیں جاتی۔”

اسی دوران ایک بزرگ بھی بول پڑے”پاکستان ہمارے باپ دادا نے آنے والی نسلوں کے لیے قربانی دے کر بنایا تھا۔ ہم وہی نسل ہیں لیکن آج بھی غربت میں جی رہے ہیں۔ میں نے تیس سال سرکاری ملازمت کی، ساری عمر کرائے کے مکان میں گزار دی، ریٹائرمنٹ پر ایک چھوٹا سا گھر خریدا مگر نئی سڑک بننے کے نام پر وہ بھی چھن گیا۔ حکومت سے گزارش ہے کہ اگر کچھ دے نہیں سکتے تو کم از کم جو ہمارا اپنا ہے وہ نہ چھینیں۔”

یہ گفتگو چل ہی رہی تھی کہ چائے کے ہوٹل کے کونے میں بیٹھا ایک پرانا کسٹمر بھی انٹری دے گیا۔ وہ برسوں سے اسی ہوٹل پر بیٹھتا تھا، لوگ مذاق میں اسے “حامد میر” کہتے تھے، مگر اصل نام اس کا بابا گاما تھا۔ اپنی سیاسی اور معاشی بحثوں اور خود کو عقلِ کُل سمجھنے کی ادا نے اسے مشہور کر رکھا تھا۔ وہ غصے سے بولا:

"یہ کیسی ترقی ہے بھلا؟ آج حکومت کی بنائی Punjab Enforcement & Regulatory Authority Force اُن لوگوں کو پکڑ رہی ہے جو شولڈر پر سامان رکھ کر رزق کما رہے ہیں، چھابڑی لگا کر اپنے بچوں کو کھلا رہے ہیں، یا ریڑھی پر بیٹھ کر حلال روزی کما رہے ہیں۔ سوچو! اگر کل یہی شخص جسے آج فورس والے دھکے دے رہے ہیں اپنے بچوں کے لیے روٹی نہ کما سکا تو کیا ہوگا؟ آج جو شولڈر پر سامان بیچ رہا ہے، کل بندوق نہ اٹھا لے؟ آج جو ریڑھی پر بیٹھا پھل بیچ رہا ہے، کل کسی کے گھر میں چوری نہ کر بیٹھے؟ اور آج جو چھابہ سر پر اٹھا کر رزق مانگ رہا ہے، کل ڈاکو بن کر گھروں میں ڈاکے نہ ڈالنے لگے؟

عوام کا دکھ یہ ہے کہ اس فورس کا اصل مقصد تو بڑے تاجروں، ذخیرہ اندوزوں اور منافع خور مافیاز کے خلاف کارروائی کرنا تھا، مگر حقیقت میں یہ آنکھیں بند کر کے صرف سب سے کمزور طبقے پر چڑھ دوڑتی ہے۔ جو لوگ دن بھر کی مشقت سے محض اپنے بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی کماتے ہیں، انہی کو زبردستی اٹھا لیا جاتا ہے تاکہ دکھایا جا سکے کہ فورس بہت ایکٹیو ہے۔ جبکہ وہی طاقتور مافیا جو مہنگائی کو آسمان پر پہنچاتے ہیں، فوراً جیب گرم کر کے بچ نکلتے ہیں۔

عوام کا کہنا ہے کہ ہمیں قانون سے اختلاف نہیں، حکومت کے فیصلے سے بھی انکار نہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا قانون کا احترام صرف غریب ہی کرے؟ کیا قانون کو انسانیت کا بھی احترام نہیں کرنا چاہیے؟ ایسے قوانین اور ادارے تب ہی بامقصد ہوں گے جب کمزور کے آنسو پونچھیں، اور طاقتور کے گریبان کو بھی پکڑ سکیں۔”

بابا گاما کی یہ کڑوی بات سب پر بجلی بن کر گری۔ محفل میں ایک سنّاٹا چھا گیا۔اسی سنّاٹے میں ایک معذور شخص آہستہ آواز میں بولا:
"ہمیں حکومت کی اہلیت یا نااہلی سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہم پہلے بھی بھوکے تھے، آج بھی بھوکے ہیں۔ پچھلے اٹھہتر سال سے ہمارے حصے میں صرف ایک وفادار دوست آیا ہے جس نے کبھی ہمارا ساتھ نہیں چھوڑا… اور وہ ہے بھوک۔”

ان بے بس اور غمزدہ آنکھوں کو دیکھ کر میرا دل بیٹھ گیا۔ میں نے کہا”بھائیو! حکومت پر تنقید کرنا آسان ہے، لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا کہ غربت اور مہنگائی ختم کیوں نہیں ہوتی؟ کبھی اپنی برادری، سفارشی کلچر اور ذاتی مفادات سے اوپر اٹھ کر بھی سوچا ہے؟”

ہاں! ترقیاتی منصوبے وقت کی ضرورت ہیں، مگر ترقی کی اصل پہچان وہ نہیں جو پلوں اور انڈر پاسز سے جھلکے بلکہ وہ ہے جو عوام کے گھروں میں خوشحالی لے آئے، چھابڑی والے کی روزی محفوظ کرے، مزدور کے خواب پورے کرے اور غریب کی آنکھوں میں امید جگائے۔

اختتامیہ
قومیں صرف عمارتوں اور سڑکوں سے نہیں بنتیں، وہ عوام کی خوشیوں، انصاف اور معاشی تحفظ سے بنتی ہیں۔ اگر حکمران صرف شہر کو پیرس بنانے کے خواب دیکھیں اور عوام کو بھوک کے حوالے کر دیں، تو یہ ترقی نہیں بلکہ تضاد ہے۔ ہمیں ان منصوبوں کی ضرورت ضرور ہے، مگر وہی منصوبے جو انسان کو عزت و سکون کے ساتھ جینے کا حق بھی دیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button