اگر آج کی دنیا کو عالمی سیاست، طاقت کے توازن اور جنگی حکمتِ عملی کے تناظر میں دیکھا جائے تو ایک تلخ حقیقت پوری شدت سے سامنے آتی ہے کہ مسلم ممالک رفتہ رفتہ عالمی طاقتوں کے کھیل کا میدان بنتے جا رہے ہیں۔ جدید اسلحہ، نئی ٹیکنالوجی اور سیاسی دباؤ کے تجربات اب ان خطوں میں کیے جا رہے ہیں جہاں وسائل بھی ہیں، جغرافیائی اہمیت بھی، اور بدقسمتی سے اندرونی تقسیم بھی۔
تاریخ پر نظر ڈالیں تو ایک وقت میں یورپ، خصوصاً جرمنی اور اسپین، عالمی جنگوں کی تباہی کا مرکز بنے رہے۔ لاکھوں انسانوں کی ہلاکت، شہروں کی بربادی اور معیشتوں کے زوال کے بعد عالمی طاقتوں کو یہ ادراک ہوا کہ اپنے علاقوں کو جنگ کی آگ میں جھونکنا نہ صرف مہنگا بلکہ خطرناک بھی ہے۔ چنانچہ حکمتِ عملی بدلی گئی، اور طاقت کے اس کھیل کے لیے میدان کہیں اور منتقل کر دیا گیا۔ یوں رفتہ رفتہ جنگ کا رخ مسلم دنیا کی طرف موڑ دیا گیا، جو آج تک اس عالمی پاور گیم کی سب سے بڑی قیمت ادا کر رہی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے مسلم دنیا کو قدرتی وسائل سے غیر معمولی طور پر نوازا ہے۔ تیل، گیس، معدنی ذخائر، اہم بحری راستے اور اسٹریٹجک جغرافیہ وہ نعمتیں ہیں جن پر جدید عالمی معیشت کھڑی ہے۔ اس کے باوجود مسلم ممالک عالمی فیصلہ سازی میں کمزور نظر آتے ہیں۔ اس کی وجہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ اتحاد، مشترکہ حکمتِ عملی اور معاشی خودمختاری کا فقدان ہے۔ ہم نے اجتماعی طاقت بننے کے بجائے باہمی اختلافات، حسد اور اقتدار کی جنگ کو ترجیح دی، اور یہی کمزوری عالمی طاقتوں کے لیے سب سے بڑی سہولت بن گئی۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اسلحہ بنانے والی طاقتوں کے سب سے بڑے خریدار خود مسلم ممالک ہیں، مگر انہی ممالک کی سیکیورٹی کی ذمہ داری بھی انہی طاقتوں کے ہاتھوں میں دے دی گئی ہے۔ پنجابی کہاوت ’’دودھ دی رکھوالی بلی‘‘ اس صورتحال کی مکمل عکاسی کرتی ہے۔ دشمن سے تحفظ کی امید رکھنا دراصل اپنی خودمختاری کو خود کمزور کرنے کے مترادف ہے۔
حالیہ برسوں میں چین اور روس کی جانب سے ایران کو دفاعی تعاون کے اعلانات بھی اسی عالمی کھیل کا حصہ ہیں۔ یہ تعاون بڑی حد تک اپنی عسکری ٹیکنالوجی کو امریکہ کے مقابل آزمانے کی کوشش ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ طاقتور ممالک اپنی ٹیکنالوجی امن کے لیے نہیں بلکہ جنگ، دباؤ اور برتری ثابت کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں، اور بدقسمتی سے مسلم خطہ اس مقصد کے لیے سب سے موزوں سمجھا جاتا ہے۔
برصغیر میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی بھی محض دو ہمسایہ ممالک کا تنازع نہیں تھی بلکہ اس کے پیچھے عالمی طاقتوں کے مفادات کارفرما تھے۔ اگر پاکستان کو اس مرحلے پر فیصلہ کن عسکری نقصان پہنچتا تو ان طاقتوں کا مقصد پورا ہو جاتا، کیونکہ بھارت میں ان کا سرمایہ بھی موجود ہے اور اسلام مخالف بیانیہ بھی۔ تاہم پاکستان کی عسکری قیادت نے دانش مندی اور حکمتِ عملی سے نہ صرف بڑے تصادم کو روکا بلکہ دنیا کو یہ پیغام بھی دیا کہ جدید جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ عقل، ضبط اور تدبر سے بھی لڑی جاتی ہیں۔
اگر مستقبل میں ایران یا کوئی اور مسلم ملک جدید عالمی ٹیکنالوجی کی برتری کو مؤثر انداز میں چیلنج کرتا ہے تو بعید نہیں کہ وہی اقوامِ متحدہ، جو اکثر مسلم خون پر قراردادیں منظور کرنے تک محدود رہتی ہے، فوراً متحرک ہو جائے۔ یورپ اور امریکہ، جو آج جنگی ماحول کو ہوا دے رہے ہیں، کل امن اور صلح کے داعی بن سکتے ہیں، کیونکہ طاقتور کو امن ہمیشہ اسی وقت یاد آتا ہے جب اس کی برتری خطرے میں پڑ جائے۔
اس پوری عالمی بساط میں سب سے اہم حقیقت یہ ہے کہ صرف مضبوط دفاع کسی قوم کو خودمختار نہیں بناتا، اصل طاقت مضبوط معیشت ہوتی ہے۔ ایک ایسا پاکستان جو آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہو، نہ آزاد خارجہ پالیسی اختیار کر سکتا ہے اور نہ ہی اسلامی دنیا کی مؤثر مدد۔ قرضوں میں جکڑا ہوا ملک ہمیشہ دباؤ میں رہتا ہے، اور دباؤ میں کیے گئے فیصلے کبھی آزاد نہیں ہوتے۔
آج کئی اسلامی ممالک اپنی حفاظت دشمن طاقتوں سے کروانے پر مجبور ہیں۔ اگر یہی ممالک اجتماعی بصیرت کا مظاہرہ کریں تو وہ پاکستان کو آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے قرضوں سے نجات دلا کر ایک مضبوط معاشی ریاست بنانے میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ایک معاشی طور پر خودمختار پاکستان نہ صرف اپنے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنا سکتا ہے بلکہ اسلامی دنیا کی اجتماعی حفاظت کی ذمہ داری بھی سنبھال سکتا ہے۔
یہ سب اسی وقت ممکن ہے جب اقوامِ متحدہ کی طرز پر ایک حقیقی اور مؤثر اسلامی اتحاد قائم ہو، جو محض بیانات اور کانفرنسوں تک محدود نہ ہو بلکہ مشترکہ معیشت، مشترکہ دفاع اور مشترکہ خارجہ پالیسی پر کھڑا ہو۔ بصورتِ دیگر خطرہ یہی ہے کہ دشمن ایک ایک کر کے مسلم ممالک کو نشانہ بناتا رہے گا، اور آخرکار کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔
تاریخ کا اصول واضح ہے: منتشر قومیں مٹ جاتی ہیں اور متحد قومیں تاریخ بناتی ہیں۔ مضبوط پاکستان، مضبوط معیشت اور مضبوط اسلامی اتحاد ہی وہ راستہ ہے جو مسلم دنیا کو عالمی طاقتوں کے کھیل سے نکال کر ایک باوقار اور خودمختار مقام تک لے جا سکتا ہے۔



