پاکستانتازہ ترینکالم

کہیری برادری: روایت، شناخت اور تاریخ کا تسلسل

طاہر امبر

برصغیر کی سماجی و تہذیبی تاریخ اُن بے شمار برادریوں کے تذکرے کے بغیر ادھوری ہے جنہوں نے صدیوں تک خاموشی کے ساتھ تاریخ کے دھارے میں اپنا کردار ادا کیا، مگر وقت کی گرد نے ان کے نقوش کو جزوی طور پر دھندلا دیا۔ ایسی ہی ایک قدیم، باوقار اور خوددار برادری کہیری ہے، جس کی شناخت جنوبی پنجاب کے سماجی منظرنامے میں آج بھی ایک معتبر حوالہ سمجھی جاتی ہے۔ یہ برادری تحریری تاریخ سے زیادہ اپنی روایات، اقدار اور اجتماعی کردار میں زندہ ہے۔
کہیری برادری کا بنیادی تعلق جنوبی پنجاب کے اُن علاقوں سے جوڑا جاتا ہے جو ہمیشہ سے تہذیبوں، ثقافتوں اور روحانی افکار کا مرکز رہے ہیں۔ ملتان، مظفرگڑھ، کوٹ ادو، ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے خطے کہیری برادری کی تاریخی آبادی کے اہم مراکز سمجھے جاتے ہیں۔ یہ وہ خطہ ہے جہاں زراعت، قبائلی روایات اور صوفیانہ فکر نے مل کر ایک منفرد سماجی ڈھانچہ تشکیل دیا، اور کہیری برادری نے اسی ماحول میں اپنی شناخت، اقدار اور سماجی وقار کو پروان چڑھایا۔
لفظ کہیری کے ماخذ کے بارے میں مختلف آرا موجود ہیں۔ بعض روایات اسے کسی قدیم جدِّ امجد کے نام سے منسوب کرتی ہیں، جبکہ بعض محققین کے نزدیک یہ کسی جغرافیائی یا سماجی شناخت کا اظہار ہے۔ اگرچہ اس حوالے سے کوئی مستند تحریری ماخذ دستیاب نہیں، تاہم یہ حقیقت مسلم ہے کہ کہیری برادری نے ہمیشہ اپنی الگ پہچان، خودداری اور اصول پسندی کو اپنی شناخت کا حصہ بنائے رکھا۔
اسلامی تاریخ کے تناظر میں کہیری برادری کی وابستگی نہایت مضبوط اور گہری نظر آتی ہے۔ مقامی روایات کے مطابق اس برادری نے اسلام قبول کرنے کے بعد اولیائے کرام اور صوفی بزرگوں سے قلبی تعلق استوار کیا، خصوصاً خطۂ ملتان اور سندھ کے روحانی مراکز سے۔ یہی وجہ ہے کہ کہیری برادری کے مزاج میں آج بھی مذہبی رجحان، مہمان نوازی، بردباری اور درویشی جھلکتی ہے۔ ان کی دینداری محض ظاہری عبادات تک محدود نہیں بلکہ عملی اخلاقیات اور سماجی رویوں میں بھی نمایاں دکھائی دیتی ہے۔
معاشرتی اعتبار سے کہیری برادری کو ایک محنتی، بااصول اور ذمہ دار طبقہ سمجھا جاتا ہے۔ زراعت ان کا بنیادی پیشہ رہا ہے، جس کے ساتھ ساتھ وقت کے ساتھ انہوں نے تجارت، تعلیم، صحافت اور سرکاری ملازمت جیسے شعبوں میں بھی نمایاں مقام حاصل کیا۔ دیہی معاشرے میں کہیری برادری کا کردار صرف معاشی نہیں بلکہ سماجی بھی رہا ہے، جہاں پنچایت، جرگہ اور تنازعات کے حل میں ان کی رائے کو وزن اور وقار حاصل رہا۔
سیاسی سطح پر اگرچہ کہیری برادری نے قومی سطح پر منظم سیاسی شناخت کم ہی بنائی، تاہم مقامی سیاست اور سماجی فیصلوں میں ان کا اثر ہمیشہ تسلیم کیا جاتا رہا ہے۔ یہ برادری طاقت کے شور سے زیادہ کردار کی خاموش گونج پر یقین رکھتی ہے، اور یہی وصف اسے دیگر برادریوں سے ممتاز کرتا ہے۔
موجودہ دور میں کہیری برادری جدید تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ ہو چکی ہے۔ اس کے افراد نہ صرف پاکستان کے مختلف شہروں بلکہ بیرونِ ملک بھی آباد ہیں اور جدید تعلیم، کاروبار، میڈیا اور دیگر شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں، جبکہ اپنی روایات، خاندانی نظام اور سماجی اقدار کو بھی پوری سنجیدگی سے محفوظ رکھے ہوئے ہیں۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ کہیری برادری کی اصل تاریخ کاغذ پر کم اور کردار میں زیادہ لکھی گئی ہے۔ یہ برادری آج بھی جنوبی پنجاب کے سماجی تشخص کا ایک خاموش مگر مضبوط ستون ہے، جس کی روایت، وقار اور تہذیبی تسلسل آنے والی نسلوں کے لیے ایک قیمتی ورثہ ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button