بلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاکالم

گٹر میں ماں بیٹی نہیں، ریاست گری

۔لاہور کے قلب میں داتا دربار کے قریب ایک ماں اپنی کم سن بیٹی سمیت گٹر میں گر کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھی یہ واقعہ محض ایک افسوسناک خبر نہیں بلکہ ریاستی بے حسی، انتظامی ناکامی اور حکمرانی کے کھوکھلے دعوؤں پر ایک بھرپور فردِ جرم ہے یہ سانحہ ایک بار پھر یہ سوال اٹھاتا ہے کہ آخر اس ملک میں انسانی جان کی قیمت کیا ہے اور کب تک شہری اسی طرح لاپرواہی اور غفلت کی بھینٹ چڑھتے رہیں گے کھلا گٹر حفاظتی انتظامات کا فقدان مصروف عوامی مقام اور متعلقہ اداروں کی مکمل خاموشی یہ سب عناصر کسی حادثے نہیں بلکہ ایک ایسی موت کی نشاندہی کرتے ہیں جسے مجرمانہ غفلت کہنا زیادہ درست ہوگا۔

اگر کسی عوامی جگہ پر جان لیوا خطرہ موجود ہو، اداروں کو اس کا علم ہو اور اس کے باوجود کوئی اقدام نہ کیا جائے تو ایسی موت کو حادثہ قرار دینا دراصل سچ سے فرار ہے حادثے کے بعد حسبِ روایت ذمہ داری کا کھیل شروع ہو گیا۔ واسا، ٹیپا، بلدیہ اور کنٹریکٹر ایک دوسرے پر الزام ڈال کر بری الذمہ ہونے کی کوشش کرتے رہے، مگر اصل سوال یہ نہیں کہ ذمہ دار کون ہے بلکہ یہ ہے کہ ذمہ دار کو سزا کیوں نہیں ملتی۔ یہی وہ بنیادی مسئلہ ہے جس نے ریاستی غفلت کو معمول بنا دیا ہے۔ گٹر کھلے رہتے ہیں، سڑکیں جان لیوا بنتی ہیں اور ہر نئی لاش پچھلی لاش کی فائل پر رکھ کر بند کر دی جاتی ہے۔ حکومت ہر بار ایک ہی جملہ دہرا کر خود کو بری الذمہ سمجھ لیتی ہے کہ تحقیقات ہوں گی، مگر یہ تحقیقات کبھی منطقی انجام تک نہیں پہنچتیں۔

اس سانحے کا ایک نہایت تشویشناک پہلو پولیس کا وہ کردار ہے جس پر سوال اٹھانا اب ناگزیر ہو چکا ہے حادثے کے فوراً بعد، بغیر کسی تصدیق اور قانونی جواز کے، مرنے والی خاتون کے شوہر کو حراست میں لینا اور اسے خوف و دباؤ میں رکھنا نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ پولیس کے کردار پر سنگین سوالیہ نشان بھی ہے ایک ایسا شخص جو خود صدمے کی کیفیت میں ہو، جس کی زندگی اجڑ چکی ہو، اسے انصاف دینے کے بجائے ڈرانا دھمکانا کس قانون اور کس اخلاقیات کے تحت درست ہے؟ کیا پولیس کا کام یہ رہ گیا ہے کہ وہ ریاستی ناکامیوں کا بوجھ متاثرین کے کندھوں پر ڈال دے اور اصل ذمہ داروں تک پہنچنے کے بجائے آسان ہدف تلاش کرے؟ یہ رویہ اس تلخ حقیقت کو عیاں کرتا ہے کہ ہمارے ہاں طاقت ہمیشہ کمزور پر آزمائی جاتی ہے جبکہ بااختیار افراد کے سامنے قانون کی گرفت ڈھیلی پڑ جاتی ہے۔

یہ سوال بھی اپنی پوری شدت کے ساتھ موجود ہے کہ اگر یہی واقعہ کسی بااثر یا طاقتور خاندان کے ساتھ پیش آتا تو کیا پولیس کا رویہ یہی ہوتا؟ کیا تحقیقات کی رفتار اتنی سست ہوتی اور کیا ذمہ دار اسی طرح پردوں میں چھپے رہتے؟ بدقسمتی سے مرنے والی ایک عام ماں اور اس کی معصوم بچی تھیں، اسی لیے انصاف بھی تاخیر اور بے حسی کی نذر ہو گیا۔ یہ سانحہ اس معاشرتی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے جہاں غریب ہونا بھی ایک جرم بن چکا ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ آخر کب تک یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔ کب تک شہری سڑک پر چلتے ہوئے اپنی جان کے بارے میں خوف زدہ رہے گا، کب تک ماں اپنے بچے کو باہر لے جانے سے پہلے دعائیں مانگتی رہے گی اور کب تک حکومت ہر سانحے پر صرف ایک تعزیتی بیان جاری کر کے اپنی ذمہ داری پوری سمجھتی رہے گی۔ یہ سوال اب محض جذباتی نہیں رہے بلکہ ریاستی نظام کے احتساب کا تقاضا بن چکے ہیں۔ اگر اس واقعے کے بعد بھی ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی نہ ہوئی، پولیس کے غیر قانونی رویے کا احتساب نہ کیا گیا اور ریاستی غفلت کو جرم تسلیم نہ کیا گیا تو یہ مان لینا چاہیے کہ یہ آخری جنازہ نہیں تھا۔ یہ ایک تسلسل ہے اور یہ تسلسل تب تک جاری رہے گا جب تک انسانی جان کو واقعی اہمیت نہیں دی جاتی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button