انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینتعلیم/ادبکالم

آج کون جیتتا ہے، کل کون بناتا ہے

عمران حیدر

تاریخ کے وسیع صحرا میں دو قدموں کی چاپ ہمیشہ سنائی دیتی ہے۔ ایک قدم طاقت کا ہے…… بھاری، بے صبر، گرد اُڑاتا ہوا۔ دوسرا دانش کا…… ہلکا، خاموش، مگر نقش چھوڑتا ہوا۔ ایک لمحہ جیتنے کے لیے دوڑتا ہے، دوسرا صدیوں کے لیے راستہ بناتا ہے۔طاقت وہ آواز ہے جو ہجوم میں سب سے بلند ہوتی ہے۔ وہ قانون لکھتی ہے، فیصلے سناتی ہے اور نتائج کو وقت سے پہلے لا کر رکھ دیتی ہے۔

طاقت بولتی ہے تو اختلاف سر جھکا لیتا ہے، کیونکہ وہاں اتفاق نہیں، مجبوری ہوتی ہے۔ وہ اپنی موجودگی سے حفاظت بھی دیتی ہے اور خوف بھی، اسی لیے اسے مانا جاتا ہے مگر چاہا نہیں جاتا۔ طاقت کے حامل چہرے روشن رہتے ہیں۔ ان کے نام تختیوں پر کندہ ہوتے ہیں، ان کے ہاتھوں میں اختیار ہوتا ہے اور ان کی آنکھوں میں فتح کا عکس۔

طاقت کمزور ہو تو سوال اٹھتے ہیں، مضبوط ہو تو سوال دفن ہو جاتے ہیں۔ مختصر وقت میں طاقت ہمیشہ کامیاب دکھائی دیتی ہے کیونکہ وقت اس کا میدان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر بحران میں سب سے پہلے طاقت کو پکارا جاتا ہے۔ فوری فیصلے، فوری نظم، فوری سکون…… طاقت یہ سب دے دیتی ہے مگر اس سکون کی قیمت اکثر خاموشی ہوتی ہے۔اس کے برعکس دانش ایک دھیمی روشنی ہے۔ وہ شور نہیں مچاتی، وہ حکم نہیں دیتی، اثر چھوڑتی ہے۔ دانش جلدی نہیں کرتی، وہ انجام کے کنارے بیٹھ کر آغاز کو دیکھتی ہے۔ طاقت جواب مسلط کرتی ہے، دانش سوال چھوڑ جاتی ہے اور سوال صدیوں تک سانس لیتے رہتے ہیں۔

سقراط کے پاس کوئی تخت نہیں تھا، کوئی فوج نہیں تھی، کوئی اختیار نہیں تھا…… صرف سوال تھے۔ ایتھنز کی طاقت نے اسے زہر کا پیالہ تھما دیا اور سمجھا کہ معاملہ ختم ہو گیا۔ طاقت جیت گئی، دانش ہار گئی۔ مگر آج طاقت کا نام تاریخ کے حاشیے میں ہے اور سقراط کا سوال اب بھی انسان سے جواب مانگ رہا ہے۔ یہ دانش کی وہ فتح ہے جو فوراً نظر نہیں آتی، مگر مٹتی کبھی نہیں۔

بحران میں دانش کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے، کیونکہ وہ وقت مانگتی ہے اور وقت افراتفری میں سب سے مہنگی چیز ہوتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ تاریخ کی الماریوں میں طاقت کے نام مٹی ہو جاتے ہیں، دانش کے خیالات باقی رہتے ہیں۔ بادشاہ مر جاتے ہیں، سوچ زندہ رہتی ہے۔ سلطنتیں گِر جاتی ہیں، نظریات چلتے رہتے ہیں۔ جو اپنے وقت میں حکمران نہیں ہوتے، اکثر وہی آنے والے زمانوں کے معمار ہوتے ہیں۔ بیسویں صدی میں کئی ریاستوں نے طاقت کے زور پر خاموشی قائم کی۔ سنسرشپ، جبر اور خوف نے وقتی نظم تو پیدا کیا، مگر جیسے ہی طاقت کمزور پڑی، وہ نظام بکھر گئے۔ اس کے برعکس وہ معاشرے جنہوں نے سوال، تحقیق اور اختلاف کو جگہ دی، وقتی شور کے باوجود پائیدار ثابت ہوئے۔ طاقت نے لمحہ جیتا، دانش نے صدیاں۔

طاقت کو زیادہ عزت اس لیے ملتی ہے کہ وہ روزمرہ زندگی کو چھوتی ہے۔ وہ روٹی، روزگار اور نظم کا وعدہ کرتی ہے۔ انسان اسی کو مانتا ہے جو اس کے آج کو کنٹرول کرتا ہے، چاہے کل کے سوال دل میں سلگتے رہیں۔ دانش یقین مانگتی ہے، نتائج سے پہلے اور یہی اس کی سب سے بڑی آزمائش ہے۔طاقت حال پر راج کرتی ہے، دانش مستقبل کی بنیاد رکھتی ہے۔ طاقت آج جیتتی ہے، دانش کل بناتی ہے۔ ہر بڑی ایجاد، ہر مضبوط نظام، کسی دفتر یا تخت سے نہیں، ایک خاموش خیال سے جنم لیتا ہے۔ دانش تجربے کو سبق بناتی ہے، سبق کو سمت اور سمت کو تہذیب۔

جب طاقت دانش کو نظرانداز کرتی ہے تو تاریخ خون کی سیاہی سے لکھی جاتی ہے اور جب طاقت دانش کا ہاتھ تھام لیتی ہے تو صدیوں میں روشنی پھیلتی ہے۔ اصل کامیابی یہی توازن ہے۔ طاقت بغیر دانش کے جبر بن جاتی ہے، دانش بغیر طاقت کے محض خواب رہ جاتی ہے۔ لیکن جب اختیار کی باگیں دانش کے ہاتھ میں ہوں، تو فیصلے صرف نافذ نہیں ہوتے،قبول بھی کیے جاتے ہیں۔طاقت دن جیت لیتی ہے اور تالیاں سمیٹ لیتی ہے۔ دانش خاموش رہتی ہے، انتظار کرتی ہے اور پھر ایک دن تاریخ قلم اٹھاتی ہے اور دانش کے نام سے مستقبل لکھ دیتی ہے۔ طاقت طے کرتی ہے کہ کیا ہوگا، دانش بتاتی ہے کہ اس کا مطلب کیا ہوگا۔طاقت وقت کو جھکا لیتی ہے مگر وقت آخر کار صرف دانش کے آگے سر جھکاتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button