انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکالم

کیا امریکہ اب چین کو نہیں روک سکے گا ؟

ایازخان

امریکہ دنیا کا سب سے بڑا دفاعی بجٹ رکھنے والا ملک ہے، جو ہر سال آٹھ سو ارب ڈالر سے زیادہ خرچ کرتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ پھر ایران کے ساتھ صرف چھ ہفتوں کی جنگ نے اسے کیوں ہلا کر رکھ دیا؟ کیوں ڈونلڈ ٹرمپ اب جلد از جلد ایران کے ساتھ کسی معاہدے کے خواہش مند دکھائی دیتے ہیں؟ اور وہ امریکہ، جو طویل عرصے سے خود کو چین کے مقابلے کے لیے تیار کر رہا تھا، ایران کو سرنڈر کروانے میں کیوں ناکام رہا؟

ان سوالات کے کئی پہلو ہیں، جنہیں سمجھنا ضروری ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار میں آنے کے بعد اپنی نیشنل سکیورٹی اسٹریٹجی اور نیشنل ڈیفنس اسٹریٹجی میں واضح کیا تھا کہ امریکہ اپنی توجہ مشرق وسطیٰ اور یورپ سے ہٹا کر چین پر مرکوز کرے گا۔ اسی پالیسی کے تحت اتحادیوں سے بھی کہا گیا کہ وہ اپنے دفاع کا بوجھ خود اٹھائیں۔ ٹرمپ یوکرین جنگ میں براہِ راست مداخلت اور اسلحہ فراہم کرنے کے بھی مخالف نظر آئے، اسے یورپ کی جنگ قرار دیا۔ لیکن حالات نے ایسا رخ اختیار کیا کہ جنگ کے دوران امریکہ کو یوکرین سے اینٹی ڈرون سسٹمز خریدنے تک کی نوبت آ گئی۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایران کے ساتھ جنگ نے امریکہ کو ایکسپوز کر دیا، یا یہ اسی پالیسی کا تسلسل تھی؟

ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ ٹرمپ کو اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس جنگ میں دھکیل دیا، جس کے نتیجے میں امریکہ، جو مشرق وسطیٰ سے نکلنا چاہتا تھا، دوبارہ اسی خطے کی سیاست میں الجھ کر رہ گیا۔ اس دوران امریکہ نے وہ قیمتی اسلحہ بھی استعمال کر لیا جو دراصل چین کے خلاف ممکنہ جنگ کے لیے محفوظ رکھا گیا تھا۔

رپورٹس کے مطابق، جنگ کے پہلے ہی مہینے میں امریکہ نے 850 سے زائد ٹوماہاک کروز میزائل فائر کیے۔ ہر میزائل کی قیمت تقریباً ساڑھے تین ملین ڈالر ہے، یعنی صرف ایک ہتھیار پر تین ارب ڈالر سے زائد خرچ ہو گئے۔ امریکہ کے پاس کل ملا کر تقریباً تین سے چار ہزار ٹوماہاک میزائل موجود ہیں، جبکہ 2026 کے بجٹ میں صرف 57 نئے میزائل بنانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ میزائل دراصل چین کے مضبوط فضائی دفاع کو توڑنے کے لیے بنائے گئے تھے، نہ کہ ایران جیسے ملک کے خلاف استعمال کے لیے۔

دوسری جانب، ایران نے اسرائیل پر بڑے پیمانے پر بیلسٹک میزائل حملے کیے، جن کے جواب میں امریکہ نے اسرائیل میں دو تھاڈ (THAAD) سسٹمز تعینات کیے اور 150 سے زائد انٹرسیپٹر میزائل فائر کیے۔ ہر انٹرسیپٹر کی قیمت تقریباً 13 ملین ڈالر ہے، اور یہ تعداد مجموعی ذخیرے کا تقریباً 25 فیصد بنتی ہے۔ امریکہ کے پاس دنیا بھر میں صرف آٹھ تھاڈ بیٹریاں ہیں، جن میں سے ایک کو نقصان بھی پہنچا۔ اب جنوبی کوریا سے پرزے منگوائے جا رہے ہیں، جو دراصل شمالی کوریا کے خلاف دفاع کے لیے اہم تھے۔

اسی طرح، جنگ سے پہلے امریکہ کے پاس دو ہزار سے زائد JASSM میزائل تھے، مگر اب مشرق وسطیٰ میں تعیناتی کے بعد بحرالکاہل کے خطے میں صرف 425 میزائل باقی رہ گئے ہیں۔ یہ وہی میزائل ہیں جو تائیوان کے ممکنہ تنازع میں انتہائی اہم کردار ادا کرتے۔

2023 کی ایک وار گیم اسٹڈی کے مطابق، اگر چین تائیوان پر حملہ کرتا ہے اور امریکہ اس جنگ میں شامل ہوتا ہے، تو امریکہ کے اہم میزائل ذخائر صرف ایک ماہ میں ختم ہو سکتے ہیں—کچھ مخصوص میزائل تو تین سے سات دن میں ہی ختم ہو جائیں گے۔ ایران جنگ کے بعد یہ صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔

امریکی سینیٹر مارک وارنر نے خبردار کیا تھا کہ چین اس جنگ کو بہت غور سے دیکھ رہا ہے۔ ان کے مطابق، اگر امریکہ اور اسرائیل کی مکمل طاقت کے باوجود ایران اپنی جگہ قائم رہتا ہے، تو یہ امریکہ کی “staying power” پر سوالیہ نشان ہے۔ چین یہ سوچ سکتا ہے کہ اگر امریکہ ایک محدود جنگ میں ہی اپنے وسائل تیزی سے کھو دیتا ہے، تو طویل جنگ میں اس کی کیا حکمت عملی ہوگی۔

اگر امریکی فوجی نقصانات کا جائزہ لیا جائے تو مختلف رپورٹس کے مطابق امریکہ کو لڑاکا طیاروں، ڈرونز، ہیلی کاپٹرز اور ری فیولنگ طیاروں میں نمایاں نقصان اٹھانا پڑا۔ ایک F-15E اسٹرائیک ایگل اور ایک A-10 حملہ آور طیارہ تباہ ہوا، جبکہ کئی ہیلی کاپٹرز (جیسے بلیک ہاک اور چینوک) اور خصوصی طیارے بھی یا تو تباہ ہوئے یا خود امریکی افواج نے انہیں دشمن کے ہاتھ لگنے سے بچانے کے لیے ختم کر دیا۔

مزید برآں، MQ-9 ریپر ڈرونز کے کم از کم 12 نقصانات رپورٹ ہوئے، جبکہ ایک F-35 طیارے کو بھی پہلی بار جنگی کارروائی میں نقصان پہنچا اور اسے ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی۔ کچھ واقعات میں “فرینڈلی فائر” بھی شامل تھا، جہاں اپنے ہی دفاعی نظام نے اتحادی طیاروں کو نشانہ بنایا۔

یہ تمام واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ یہ جنگ صرف ایک محدود محاذ تک محدود نہیں رہی، بلکہ پورے خطے—ایران، عراق، سعودی عرب اور کویت—تک پھیل گئی۔

مزید یہ کہ سستے ایرانی ڈرونز نے آبنائے ہرمز جیسے اہم مقام پر دباؤ ڈال کر امریکہ جیسی سپر پاور کو چیلنج کیا، جبکہ امریکہ کے مہنگے دفاعی نظام اس کے مقابلے میں بہت زیادہ لاگت کا باعث بنے۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال امریکہ کے لیے کاؤنٹر ڈرون ٹیکنالوجی میں ایک بڑے موڑ کی نشاندہی کرتی ہے، جیسا کہ 2007 میں عراق جنگ کے دوران MRAP گاڑیوں کے استعمال سے ہوا تھا۔

اب امریکہ کو اپنی دفاعی صنعت کی کمزوریوں کا بھی اندازہ ہو چکا ہے۔ لاک ہیڈ مارٹن جیسی کمپنیوں نے غیر یقینی صورتحال کے باعث پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ نہیں کیا تھا۔ تاہم، اب پیٹریاٹ میزائلوں کی پیداوار بڑھانے کے لیے اربوں ڈالر کے معاہدے کیے جا رہے ہیں۔ 2027 کے لیے امریکہ کا دفاعی بجٹ 1.5 ٹریلین ڈالر تک تجویز کیا گیا ہے، جو پچھلے بجٹ سے تقریباً 40 فیصد زیادہ ہے۔

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ بجٹ بڑھانا ایک بات ہے، جبکہ نئی پیداوار اور صلاحیت پیدا کرنے میں کئی سال لگتے ہیں۔ ایران جنگ میں جو اربوں ڈالر کا اسلحہ استعمال ہوا، اس نے چین کے خلاف تیاری کو وقتی طور پر کمزور کر دیا ہے۔

اس تمام تجزیے سے ایک اہم نکتہ سامنے آتا ہے: امریکہ کے پاس پیسہ تو بے شمار ہے، مگر جدید اور اہم ہتھیاروں کی تعداد محدود ہے، اور اس کی دفاعی صنعتی بنیاد بھی فوری طور پر اس کمی کو پورا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ ماہرین کے مطابق، ایران کے خلاف فائر کیا جانے والا ہر میزائل دراصل تائیوان کے ممکنہ محاذ سے کم ہو گیا ہے—اور یہی وہ موقع ہے جسے چین اپنے حق میں استعمال کر سکتا ہے۔

تاہم، یہ تصویر کا صرف ایک رخ ہے۔ اس کا دوسرا پہلو ہم اگلی قسط میں دیکھیں گے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button