اسرائیلی بمباری،مزید 44فلسطینی شہید،عالمی عدالت میں سماعت کا آغاز
اسرائیل انسانی امداد کو جنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا:فلسطین،امداد کی فراہمی تل ابیب کی ذمہ داری ہے:اقوام متحدہ
دی ہیگ :(ویب ڈیسک ) اقوام متحدہ اور فلسطینی نمائندوں نے عالمی عدالت انصاف میں اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ غزہ میں انسانی امداد کو جنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے جبکہ امداد کی رسائی کو روک کر بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو رہا ہے۔
عالمی عدالت انصاف میں مقدمے کی سماعت شروع ہو گئی، سماعت کے آغاز پر اقوام متحدہ کے قانونی مشیر ایلنور ہیمرشکیلڈ نے کہا کہ اسرائیل کی واضح ذمہ داری ہے کہ وہ ایک قابض قوت کے طور پر غزہ کے عوام کیلئےانسانی امداد کی فراہمی کی اجازت دے اور اسے آسان بنائے۔
فلسطینی نمائندے عمار حجازی نے کہا کہ اسرائیل انسانی امداد کو جنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے، غزہ میں لوگ قحط کا سامنا کر رہے ہیں اور اسرائیل غزہ میں زندگی کی بنیاد کو تباہ کر رہا ہے۔
یاد رہے کہ اسرائیل نے دو ماہ سے غزہ کیلئے تمام امدادی سامان کو روک رکھا ہے جبکہ مقبوضہ پٹی میں ذخیرہ کی گئی خوراک تقریباً ختم ہو گئی ہے اور بڑے پیمانے پر قحط کا خدشہ ہے۔
اسرائیلی وزیر خارجہ گیدون ساعر نے تحریری موقف عدالت میں پیش کیا، تل ابیب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ساعر نے کہا کہ عدالت کو سیاست کی نذر کیا جا رہا ہے اور اقوام متحدہ غزہ میں موجودفلسطینی پناہ گزین ایجنسی انروا کے ایسے ملازمین کو نکالنے میں ناکام ہو رہا ہے جو حماس کےارکان ہیں۔
مقدمے کی سماعت چھ روز تک جاری رہے گی اور اس دوران 40ممالک اپنے دلائل پیش کریں گے۔ درجنوں ممالک نے اسرائیل پر بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔
دوسری جانب غزہ پر صیہونی بربریت کا سلسلہ تھما نہیں، اسرائیلی طیاروں نے گزشتہ روز بھی غزہ میں مختلف مقامات پر بمباری کیس جس میں خواتین اور بچوں سمیت مزید 44فلسطینی شہید ہو گئے، وفا نیوز ایجنسی کے مطابق بمباری میں 86افراد زخمی بھی ہوئے، متعدد افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں اور بھاری مشینری کی کمی کے باعث امدادی کاموں میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔



