پاکستانتازہ ترینجرم-وسزاعلاقائی خبریں

اسلام آباد میں مساجدشہید،شراب خانے قائم،لاہورمیں مسجد کے باہرماڈل،ٹرانس جینڈرزکا عریاں رقص،عوام سیخ پا

14اگست کو شرمناک پروگرام قابل مذمت، سرمد کھوسٹ کی ٹرانس جینڈرزکےحوالے سے فلم ’’جوائے لینڈ ‘‘کی ریلیز کی تیاریاں،حکام خاموش،کیا یہ اسلامی تعلیمات ہیں؟، اسی کا نام ترقی ہے؟ عوام کے سوالات

لاہور:(بیوروچیف/سید ظہیر نقوی)اسلام آباد میں مساجد شہید کرنے اورشراب خانوں کے قیام سمیت فروخت کے لائسنس اور لاہور کی تاریخی وزیر مسجد کے باہر ماڈل کے نیم عریاں رقص کے بعد لاہورہی میں ٹرانس جنیڈرز کے ہوشربا رقص پر عوام سیخ پا ہوگئے۔

چند روزقبل لاہور میں مسجد کے تقدس کی پامالی کا ایک اور واقعہ پیش آیا تھا جہاں زون ایسٹ محکمہ اوقاف انتظامیہ کی مبینہ ملی بھگت سے تاریخی مسجد وزیر خان کے باہر ماڈل نے فوٹو شوٹ کرایا۔

ماڈل کو نیم برہنہ لباس پہنے مسجد کی سیڑھیوں میں ڈانس کرتے دیکھا جاسکتا ہے،ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد شہریوں نے ماڈل اور متعلقہ انتظامیہ کے خلاف سخت قانونی کاروائی کا مطالبہ بھی کیا مگر تاحال کوئی کارروائی سامنے نہ آسکی

اس سے قبل بھی مسجد وزیر خان میں بلال سعید اور صبا قمر کا گانا شوٹ کروانے کی ویڈیو منظر عام پر آئی تھی۔

پہلے اخلاقیات سوز واقعات کے گھائو ہی نہیں بھرے تھے کہ مقبول فیشن ڈیزائنر ماریہ بی نے ٹرانس جینڈرز کی نامناسب ڈانس پارٹی کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ مذکورہ پارٹی پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں منعقد ہوئی۔

ماریہ بی نے انسٹاگرام پر مختصر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اگست میں ہی لاہور میں ٹرانس جینڈرز کی نامناسب ڈانس پارٹی منعقد کی گئی، جس میں شیطانی نشانات اور علامات کی بھی تشہیر کی گئی۔ماریہ بی کے مطابق انہیں مذکورہ ویڈیوز بعض نوجوان اور کم عمر بچوں نے بھیجی، جو مذکورہ پارٹی میں گئے تھے لیکن انہیں یہ علم نہیں تھا کہ وہاں ایسا کچھ ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ ممکنہ طور پر مذکورہ نامناسب پارٹی فلم ساز سرمد کھوسٹ کی جگہ پر ہوئی اور یہ کہ جلد ہی پاکستان میں ٹرانس جینڈرز کی کہانی پر مبنی فلم ’جوائے لینڈ‘ کو بھی نمائش کے لیے پیش کردیا جائے گا۔

 

ماریہ بی کا کہنا تھا کہ لاہور میں ہونے والی ٹرانس جینڈرز کی پارٹی میں اسٹیج پر جاکر فحش پرفارمنس بھی کی گئی جب کہ اس میں شیطانی علامات اور نشانات کی بھی تشہیر کی گئی۔

عوام نے پنجاب حکومت، پولیس اور وفاقی حکومت سمیت دیگر اداروں سے سوال کیا کہ وہ اس ضمن میں کیا کر رہے ہیں؟عوام نے ان
افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ اسلام کے نام پر بنائے گئے ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان میں جہاں راتوں رات مسجدیں شہید کر دی جاتی ہیں اور اگلے دن چار شراب خانوں کی اجازت دے دی جاتی ہے،یوم آزادی کے موقع پر ٹرانس جینڈر کا ایسا ڈانس وائرل ہوا ہے کہ یورپ والے بھی شرما جائیں۔

ایک ایسی مسجد جس کی سرپرستی پنجاب گورنمنٹ کے ذمہ ہے اس کی سیڑھیوں پر ماڈل مختصر کپڑوں میں رقص کرتی نظر آتی ہے۔

مذہبی ،سیا سی وسماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پتہ چلایا جائے آخر کار بے حیائی کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے ان تمام سوالات کاجواب دیا جائے کہ کیا یہ سب اسلامی تعلیمات ہیں؟، کیا اسی کا نام ترقی ہے؟ کیا اسی لیے پاکستان بنایا گیا تھا؟۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button