پاکستانتازہ ترینکاروبار

تاجروں کا 19جولائی کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان

کاروبار دشمن اقدامات کاروباری سرگرمیاں مفلوج کر دینگے، بے روزگاری میں تیزی سے اضافہ، سرمایہ کاروں کا اعتماد ختم ہو جائیگا، لاہور چیمبر

لاہور، اسلام آباد، کراچی ( بیوروچیف) پاکستان کی بزنس کمیونٹی نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے حوالے سے کئے گئے حکومتی فیصلوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے 19جولائی کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔ بزنس کمیونٹی نے کہا ہے ایف بی آر کے اضافی اختیارات قبول نہیں ہیں اور اس حوالے سے 19جولائی کو ملک بھر میں ہڑتال ہوگی اور اس کے لیے کراچی چیمبر، لاہور چیمبر، سیالکوٹ چیمبر، فیصل آباد چیمبر، کوئٹہ چیمبر، راولپنڈی چیمبر اور پشاور چیمبر سب ایک پیج پر ہیں۔ تفصیل کے مطابق لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے انکم ٹیکس آرڈیننس کی شق 37AA، بینک ٹرانزیکشنز پر غیر منصفانہ ٹیکسز اور پنجاب کی مجوزہ کاروبار دشمن لیبر پالیسی کے خلاف 19جولائی کو ہڑتال کا اعلان کیا ہے جبکہ ملک کے دیگر چیمبرز نے مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے۔یہ اعلان لاہور چیمبر کی ہنگامی پریس کانفرنس میں کیا گیا۔

ایف بی آر حکام کو گرفتاری کے اختیارات، تاجروں کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک اور بغیر مشاورت کئے گئے معاشی فیصلوں کی شدید مذمت

صدر لاہور چیمبر میاں ابوذر شاد، سینئر نائب صدر انجینئر خالد عثمان، ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان خرم لودھی، احسن شاہد اور آمنہ رندھاوا نے اس موقع پر خطاب کیا جبکہ مختلف تجارتی و صنعتی ایسوسی ایشنز کے نمائندگان بھی موجود تھے۔ میاں ابوذر شاد نے کہا کہ کاروبار دشمن اقدامات کاروباری سرگرمیوں کو مفلوج کر دیں گے، بے روزگاری میں تیزی سے اضافہ ہوگا اور سرمایہ کاروں کا اعتماد مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔ انہوں نے ایف بی آر حکام کو دی گئی غیر معمولی گرفتاری کی طاقتوں، تاجروں کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک اور بغیر مشاورت کیے جانے والے معاشی فیصلوں کی شدید مذمت کی اور ان اقدامات کو فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ محض کسی ایک شخص یا شہر کا مسئلہ نہیں بلکہ 25کروڑ عوام کے روزگار کا مقدمہ ہے۔
2لاکھ روپے کی ٹرانزیکشن پر بھاری ٹیکس ناقابلِ فہم اور ناقابلِ قبول ہے۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ 21بین الاقوامی کمپنیاں پہلے ہی پاکستان میں اپنا آپریشن بند کر چکی ہیں جو کہ موجودہ کاروباری ماحول کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔ میاں ابوذر شاد نے کہا کہ ایک طرف آئی پی پیز کو ایک ہزار ارب روپے بغیر ایک یونٹ بجلی پیدا کیے دئیے جارہے ہیں جبکہ کاروباری شعبہ پر ظلم کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شق 37AAکے تحت ایف بی آر کو دئیے گئے اختیارات ناقابل قبول ہیں۔ سینئر نائب صدر انجینئر خالد عثمان نے کہا کہ حکومت تاجروں کی ریڈ لائنز عبور کر چکی ہے۔ اگر کاروبار بند ہوئے تو بے روزگاری کا طوفان آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی چیمبر سمیت ملک بھر کے تمام چیمبر لاہور چیمبر کے ساتھ کھڑے ہیں۔
ایگزیکٹو کمیٹی ممبر خرم لودھی نے کہا کہ سرکاری افسران کے اثاثے، تنخواہیں اور مراعات کا مکمل آڈٹ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اب عوام کے خادم، عوام پر حکومت کر رہے ہیں ۔ آمنہ رندھاوا نے کہا کہ کاروباری طبقے کو مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے، جو نہ صرف تاجروں بلکہ خاص طور پر خواتین کاروباری شخصیات کی حوصلہ شکنی کا سبب بن رہا ہے۔ میاں ابوذر شاد نے شق 37AAکو کاروباری طبقے کے خلاف ایک نیا ہتھیار قرار دیتے ہوئے اس کی سختی سے مخالفت کی۔ انہوں نے پنجاب کی مجوزہ لیبر پالیسی پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا جس میں گریجویٹی کی حد 50 سے کم کر کے20ملازمین پر لاگو کرنا اور ورکرز کی جانب سے محض زبانی دعویٰ کرنے پر صنعتکار کو فوری گرفتار کرنے جیسے خطرناک نکات شامل ہیں۔
میاں ابوذر شاد نے کہا کہ اگر یہ پالیسی موجودہ صورت میں منظور ہو گئی تو صنعتیں مکمل طور پر بند ہو جائیں گی۔ پریس کانفرنس کے شرکا نے کہا کہ 19جولائی کی ہڑتال محض احتجاج نہیں بلکہ پاکستان کے معاشی مستقبل کا فیصلہ کن لمحہ ہے۔ لاہور چیمبر نے قیادت کا فریضہ سنبھال لیا ہے اور ملک بھر کی تاجر برادری اس کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہے۔ دوسری طرف آل پاکستان انجمن تاجران کے مرکزی صدر اشرف بھٹی نے بھی لاہور چیمبر کی 19جولائی کو ہڑتال کی کال کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کاروبار دشمن اقدامات کو فی الفور واپس لینے کا اعلان کرے ، حکومت بیوروکریسی کی تجاویز کو من و عن تسلیم کرنے کی بجائے سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے۔
اپنے دفتر میں منعقدہ ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اشرف بھٹی نے کہا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس کی شق 37اے اے ، بینک ٹرانزیکشنز پر غیر منصفانہ ٹیکسز اور پنجاب کی مجوزہ لیبر پالیسی کے ہوتے ہوئے کاروبار کرنا ممکن نہیں، بغیر مشاورت کیے جانے والے فیصلوں کو فی الفور واپس لیا جائے ۔ انہوںنے کہا کہ 2لاکھ روپے کی ٹرانزیکشن پر بھاری ٹیکس ناقابلِ فہم اور ناقابلِ قبول ہے، شق 37اے اے کے تحت ایف بی آر کو دئیے گئے لا محدود اختیارات ناقابل قبول ہیں۔ حکومت سے اپیل ہے کہ تاجروں کو کاروبار بند کرنے پر مجبور نہ کیا جائے۔ ہمارے تحفظات کو سنا جائے تاکہ معاشی سر گرمیوں میں تعطل نہ آئے۔ مزید برآں صدر کراچی چیمبر آف کامرس جاوید بلوانی نے بھی کہا ہے کہ 19جولائی کو پرامن ہڑتال کی جائے گی۔
ایک روزہ پر امن ہڑتال کے بعد مرحلہ وار ہڑتال کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہڑتال میں نہ صرف کراچی چیمبر بلکہ تمام بڑے چیمبر اس کا حصہ بنیں گے، ہڑتال دولاکھ روپے کے قانون، گرفتاری کے اختیارات، ڈیجیٹل انوائسنگ، ای بلٹی اور دیگر کاروبار دشمن قوانین کے خلاف کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے سات انڈسٹریل زون مکمل طور پر بند ہوں گے لہٰذا وزارت خزانہ فوری ایف بی آر کے اضافی اختیارات 37اے،37بی اورسیکشن21کو واپس لے۔ جاوید بلوانی نے کہا کہ وزارت خزانہ نے ایف بی آر کے اضافی اختیارات پر بزنس کمیونٹی سے رابطہ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی چیمبر کے اراکین کی واضح اکثریت کے علاوہ دیگر تجارتی ایسوسی ایشنز نے بھی ہڑتال کی مکمل حمایت کردی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button