لاہور:(بیوروچیف/سید ظہیر نقوی)لاہور کے تھانہ مزنگ پولیس کی حراست میں مبینہ تشدد سے نوجوان چل بسا۔
پولیس ذرائع کے مطابق رات گئے مزنگ پولیس نے اچھرہ سے اعجاز نامی نوجوان کو حراست میں لیا تھا جسے بعد ازاں طبیعت خراب ہونے پر ہسپتال منتقل کیا گیا مگر وہ جانبر نہ ہوسکا۔
پولیس کے مطابق اعجاز کے بھائی انعام کو گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی تاہم وہ موقع سے فرار ہوگیا جس کے بعد پولیس نے اس کے بھائی اعجاز کو حراست میں لے لیا انعام منشیات فروشی کے مقدمے میں مطلوب تھا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اعجاز کو قانونی کارروائی کے تحت حراست میں لیا گیا تھا اور تھانے منتقل کرتے وقت اس کی طبیعت خراب ہوئی جس کے بعد اسے ہسپتال لے جایا گیا جہاں وہ دم توڑ گیا۔
ایس پی سول لائنز کے مطابق متوفی کے خلاف منشیات فروشی کے مقدمات درج تھے۔ دوسری جانب ورثا نے پولیس پر تشدد کا الزام عائد کرتے ہوئے شدید احتجاج کیا ہے۔
ایس پی عبدالحنان نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس کسی غیر قانونی عمل میں ملوث نہیں، پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد تمام حقائق واضح ہوجائیں گے۔
پولیس نے روایتی کارروائی کرتے ہوئے نوجوان کی لاش مردہ خانے منتقل کر دی۔ اس کے علاوہ پولیس حکام نے بتایا کہ فرار ہونے والا انعام منشیات کے مقدمے میں مطلوب تھا۔
دریں اثنا ہسپتال ذرائع کے مطابق ایس ایچ اومزنگ احسن نے نوجوان کو گزشتہ رات اچھرہ تھانہ کی حدود سے اٹھایا تھانہ میں لے جا کر اس پر تشدد کرتے رہے، ایس ایچ او مزنگ اور اس کے ساتھ ایک سب انسپکٹرگزشتہ رات 12بج کر 5منٹ پر نوجوان کو حالت غیر ہونے پر فیملی ہاسپٹل لے گئے جنہوں نے مریض کو لینے سے انکار کردیا۔
تشدد کا شکار نوجوان گنگا رام ہسپتال لے جاتے ہوئے زندگی کی بازی ہار گیاایس ایچ او مزنگ نے فوری طور پر متعلقہ ایس پی کو انفارم کیا ایس پی نے کہا کہ اس کی ایف ائی ار تھانہ وحدت کا کالونی میں دے دی جائے ۔
متوفی کے ورثا نے پولیس پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے نوجوان کی ہلاکت کے بعد اس کے خلاف بھی مقدمہ درج کر لیا اور گھر سے زیورات اور نقدی بھی لے گئے۔ ورثا نے پولیس کے اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔



