لاہور(ویب ڈیسک ) پاکستان انفارمیشن کمیشن نےرائٹ ٹو ایکسس آف انفارمیشن ایکٹ 2017کے تحت اسٹیٹ بنک کے دہری شہریت رکھنے والے اور دیگر ملکوں کی شہریت رکھنے والوں کے ساتھ شادی شدہ ملازمین کی فہرست 10روز میں افشاء کرنے کےاحکامات جاری کئے ہیں۔ بین الاقوامی این جی اوز، اداروں کوکنسلٹنسی فراہم کرنے والے ملازمین کے نام بھی دس روز میں سامنے لائے جائیں ۔انفارمیشن کمیشن نے گورنر اسٹیٹ بنک کو حکم دیا کہ یہ معلومات پبلک ریکارڈ ہے،اسٹیٹ بنک نے جواب دیا کہ ہمیں احکامات موصول نہیں ہوئے،دستاویزات کے مطابق عظمت خان بنام اسٹیٹ بنک آف پاکستان کیس میں انفارمیشن کمیشن نےگورنر اسٹیٹ بنک کو نوٹس جاری کرتے ہوئے حکم دیاہے کہ رائٹ ٹو ایکسس آف انفارمیشن ایکٹ 2017پر عملدرآمد کرتے ہوئےدرخواست گذار کی طرف سے مانگی گئی دیگر معلومات بھی فراہم کی جائیں۔ چیف انفارمیشن کمشنرپاکستان شعیب احمد صدیقی اور انفارمیشن کمشنر اعجاز حسن اعوان نے اس حوالے سے جاری فیصلے میں کہا ہے کہ درخواست گذار نے مذکورہ قانون کے تحت اسٹیٹ بنک حکام سے ان افسران یا ملازمین کی فہرست مانگی تھی جو مستقل یا عارضی اور ریگولر یا پارٹ ٹائم مقامی یا بین الاقوامی این جی اوز ،کمیونٹی ڈویلپمنٹ آرگنائزیشنز یا غیر منافع بخش تنظیموں کے لئے کام کرتے ہیں۔ انفارمیشن کمیشن نے کہا کہ اسٹیٹ بنک نے معلومات افشاء کرنے کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی اپیل دائر کی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ انہیں اس کیس میں سنا نہیں گیا۔ اسٹیٹ بنک نے اس اپیل میں یہ بھی موقف اختیار کیا کہ اسی طرز ایک کیس رانا ابرار بنام اسٹیٹ بنک آف پاکستان میں انفارمیشن کمیشن نے معلومات فراہم کرنے کے احکامات جاری کئے لیکن اسلام آباد ہائیکورٹ نے اسٹیٹ بنک کی اپیل نمبر1693-01/22اور رٹ پٹیشن نمبر 3789/2022کمیشن کے احکامات معطل کر دیئے تھے۔ دریں اثنا پبلک انفارمیشن آفیسر اور ڈائریکٹر لیگل سٹیٹ بنک خاور رانا نے بتایا کہ انہیں کمیشن کے احکامات تا حال موصول نہیں ہوئے ۔ آرڈرز موصول ہونے پر ہی اس پر موقف دے سکتے ہیں۔



