عمران کے جیل میں 2 سال مکمل،پی ٹی آئی کا آج ملک گیر احتجاج ،چھاپے،گرفتاریاں،راولپنڈی میں 144نافذ
ایم این ایز،سینیٹرز اڈیالہ جیل کے باہر، ایم پی ایزاپنےحلقوں میں احتجاج کرینگے،احتجاج تحریک تحفظ آئین کے پلیٹ فارم سے ہو گا،نگرانی سلمان اکرم کرینگے
لاہور،راولپنڈی(بیوروچیف ، نمائندگان سی این این اردو)پاکستان تحریک انصاف بانی چیئرمین عمران خان کے جیل میں دو سال مکمل ہونے پر آج ملک بھر میں احتجاج کرے اور یوم سیاہ منائے گی ،پی ٹی آئی کے رہنمائوں کی قیادت میں احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں نکالنے کا اعلان کردیاگیا۔

پی ٹی آئی کی اعلی قیادت نے احتجاجی پلان کو حتمی شکل دے دی،تمام ارکان قومی اسمبلی اور سینیٹرز کو اسلام آباد بلا لیا گیا۔ارکان اسمبلی اور سینیٹرز اڈیالہ جیل کے باہر جبکہ ارکان صوبائی اسمبلی اپنے متعلقہ حلقوں میں احتجاج کریں گے۔ مرکزی قیادت کی تمام صوبائی صدور اور چیف آرگنائزرز سے مشاورت مکمل ہو گئی۔

احتجاج تحریک تحفظ آئین پاکستان کے پلیٹ فارم سے ہو گا جبکہ اس کی نگرانی پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کریں گے، سندھ، بلوچستان اور پنجاب کے ذمہ داران نے احتجاجی شیڈول اعلیٰ قیادت کو پہنچا دیا،تمام ٹکٹس ہولڈرز کو بھی الرٹ کر دیا گیا،صوبوں کے پارٹی صدور اور کوآرڈینیٹرز قیادت سے رابطے میں رہیں گے۔
پی ٹی آئی نےالزام عائد کیا رہنمائوں اورکارکنوں کے گھروں پر چھاپے مارے جارہے ،گرفتاریاں کی گئی ہیں۔تحریک انصاف کے ترجمان کے مطابق احتجاج کے ذریعے پر امن احتجاجی تحریک کا بھی آغاز ہوگا،تمام ارکان اسمبلی ،ٹکٹ ہولڈرز اور تنظیموں کو بھرپور احتجاج کی ہدایت جاری کر دی۔
پی ٹی آئی نے الزام عائد کیا پولیس نے بھرپور کریک ڈائون کر کےدرجنوں کارکنوں کو حراست میں لے لیا، کچھ کوحلف نامہ لےکر چھوڑ دیا،ذرائع کے مطابق حکمت عملی کے تحت پی ٹی آئی رہنما اور کارکنان گھروں کی بجائے خفیہ مقامات پر ہیں اور آج احتجاج کے لئے نکلیں گے۔ شاہدرہ پولیس نےاکمل خان باری کے گھر چھاپہ مارا تاہم وہ فرار ہوگئے، پولیس نے ان کے چھوٹے بھائی محمود اﷲ خان کو گرفتار کرلیا۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر علی ظفر اور شایان بشیر نے کہاپچھلے 4 دن سے ہمارے کارکنان کے گھروں پر چھاپے مارے جارہے ہیں، لاہور میں پچھلے 2 دنوں میں 200 سے زائدریڈ کئے گئے ،پولیس نے نیا طریقہ شروع کیا ہے، لوگوں کو اٹھاتے، رشوت لیتے اور چھوڑ دیتے ہیں یا پھربیان حلفی لیتے ہیں،آج بھرپور احتجاج کریں گے ۔

تحریک انصاف کے احتجاج کے پیش نظر راولپنڈی میں انتظامیہ نے دفعہ 144 نافذ کردی، سیاسی اجتماعات، ریلیوں، جلوس نکالنے، اسلحے کی نمائش، لاوڈسپیکر کے استعمال، موٹرسائیکل کی ڈبل سواری اور ہر قسم کے اجتماعات پرچار سے دس اگست تک پابندی ہوگی۔
تحریک انصاف کی قیادت واضح حکمت عملی مرتب نہیں کر سکی جس کی وجہ سے کارکنان بھی تذبذب کا شکار ہیں۔ذرائع کے مطابق لاہور میں احتجاج کی نوعیت اور مقام کے حوالے سے قیادت میں اختلاف ہے۔ بعض سینئر رہنمائوں نے لاہور میں تمام حلقوں کے کارکنان کو یکجا کر کے بڑی مشترکہ ریلی نکالنے کی تجویز دی جبکہ چیف آرگنائزر عالیہ حمزہ سمیت دیگررہنماؤں کاکہناتھا قیادت اور کارکنان اپنے اپنے حلقوں میں الگ الگ احتجاج کریں تاکہ گرفتاریوں اور مقدمات سے بچا جا سکے۔
گرفتاریوں کے خوف سے پی ٹی آئی رہنما بھی کارکنوں کو موبلائز کرتےنظر نہیں آئے جس کی وجہ سے کارکنان بھی احتجاج میں دلچسپی نہیں دکھا رہے۔ادھر پولیس نے امن و امان کی صورتحال کو کنٹرول میں رکھنے کے لئے اپنی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔پولیس ذرائع کے مطابق اہم سرکاری عمارتوں کے باہر اور مرکزی شاہراہوں پراینٹی رائیٹ فورس دستے تعینات ہوں گے۔



