غزہ کا کنٹرول سنبھالنے، تعمیر نو کے منصوبے پر جلدی نہیں، ٹرمپ
اگلے ہفتے جوابی ٹیرف کا اعلان، روسی صدر سے بات چیت کرنا چاہتے ہیں، شمالی کوریا سے بھی تعلقات قائم کرینگے، امریکی صدر
واشنگٹن، غزہ (ویب ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ غزہ کا کنٹرول سنبھالنے اور تعمیر نو کے منصوبے پر جلدی نہیں ہے۔ واشنگٹن میں گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگلے ہفتے کئی ممالک پر جوابی ٹیرف نافذ کرنے کا اعلان کریں گے۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ غزہ کا کنٹرول سنبھالنے اور اس کی تعمیر نو کے امریکی منصوبے پر عمل درآمد کرنے میں کوئی جلدی نہیں ہے۔
اس کے علاوہ ٹرمپ نے کہا کہ روسی صدر پیوٹن سے بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔ شمالی کوریا سے بھی تعلقات قائم کریں گے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر میں شمالی کوریا کے صدر کم جان ان کے ساتھ اچھے تعلقات بناتا ہوں تو یہ سب کیلئے فائدہ مند ہوگا۔ دریں اثنا فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے پانچواں مرحلہ مکمل ہوگیا، اس دوران حماس نے 3 صیہونی یرغمالیوں کو رہا کیا جب کہ اسرائیل نے 183فلسطینی قیدیوں کو رہا کر دیا۔ عرب میڈیا کے مطابق حماس نے جنگ بندی معاہدے کے تحت یرغمالیوں کی رہائی کے پانچویں مرحلے میں 3اسرائیلی قیدیوں کو رہا کیا گیا، جن کی رہائی دیر البلاح شہر سے کی گئی۔ حماس نے 56سالہ اوہاد بن ایمی، 52سالہ ایلی شرابی اور 34سالہ اور لیوی کو رہا کیا، جنہیں دیر البلاح میں بنائے گئے سٹیج پر لایا گیا جس کے بعد انہیں ریڈ کراس کی کمیٹی کے سپرد کیا گیا۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے ’’الجزیرہ‘‘ کے مطابق اسرائیل کی قید سے رہائی پانے والے تمام فلسطینی قیدی خان یونس پہنچ گئے، اہل خانہ مدتوں بعد اپنے پیاروں سے مل کر آبدیدہ ہوگئے جب کہ غزہ میں ہزاروں افراد نے فلسطینیوں کی آزادی کا جشن منایا۔
رہائی پانے والے فلسطینیوں کے اہل خانہ اپنے پیاروں سے مل کر خوشی سے سرشار ہوگئے، اس دوران ایک باپ کی طویل مدت کے بعد اپنے بیٹے سے ملاقات پر جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے، دونوں گلے لگ کر روتے رہے۔ اسرائیلی جیلوں میں رہنے والے فلسطینیوں کی صحت انتہائی خراب نظر آئی، رہائی پانے والے 7 فلسطینیوں کو طبی امداد کیلئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا جب کہ ایک فلسطینی قیدی اسرائیلی جیل میں ظلم و ستم برداشت کرنے کے بعد چلنے کے قابل بھی نہ رہا۔ علاوہ ازیں اسرائیل کے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے فلسطین کو اسرائیل کی سلامتی کیلئے خطرہ قرار دیتے ہوئے تجویز دی ہے کہ سعودی عرب کو اپنے ملک کے اندر فلسطینی ریاست بنانی چاہئے۔
خبر ایجنسی انادولو کی رپورٹ کے مطابق بینجمن نیتن یاہو نے اسرائیلی نیوز چینل 14کو انٹرویو کے دوران کہا کہ سعودی حکومت سعودی عرب کے اندر فلسطینی ریاست بنا سکتی ہے، ان کے پاس بہت زیادہ زمین ہے۔ نیتن یاہو سے سوال کیا گیا کہ آیا سعودی عرب سے تعلقات قائم کرنے کیلئے فلسطینی ریاست ضروری ہے تو انہوں نے اس تجویز کو یکسر مسترد کر دیا اور کہا کہ فلسطینی ریاست اسرائیل کی قومی سلامتی کیلئے خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر 7اکتوبر کے بعد کوئی فلسطینی ریاست نہیں، کیا آپ جانتے ہیں وہ کیا ہے، ایک فلسطینی ریاست تھی، جس کو غزہ کہا جاتا تھا، غزہ میں حماس کی حکومت تھی اور فلسطینی ریاست تھی اور دیکھیں ہم نے کیا حاصل کرلیا۔
اسرائیلی وزیراعظم نے ایک مرتبہ دہراتے ہوئے فلسطینی ریاست بنانے کی تجویز کو یکسر مسترد کر دیا۔ نیتن یاہو نے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات قائم ہونے سے متعلق بھی بتایا اور کہا کہ یہ تعلقات جلد ہی قائم ہوں گے، میرے خیال میں اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان امن نہ صرف ممکن ہے بلکہ میرے خیال میں یہ ہونے جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق دوسری جانب سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے بینجمن نیتن یاہو کا بیانیہ مسترد کر دیا اور دہرایا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات اسی صورت قائم ہوسکتے ہیں جب فلسطینی ریاست وجود میں آتی ہے۔ ادھر مصر نے بھی اسرائیلی وزیراعظم کی تجویز کی مذمت کی ہے اور اس بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے۔ مصری وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ تجویز براہ راست سعودی خود مختاری کی خلاف ورزی ہے اور سعودی عرب کی سکیورٹی مصر کیلئے سرخ لکیر ہے۔



