پاکستانتازہ ترینکالم

ڈیم نہ بناؤ، ترقی رک جائے گی!

تحریر :عاطف عارف

پاکستان میں ڈیم بنانا ایک خواب ہے اور خواب دیکھنے پر کوئی پابندی نہیں۔ لیکن جیسے ہی کوئی اس خواب کو حقیقت کا روپ دینا چاہتا ہے تو پورے نظام میں زلزلہ آ جاتا ہے۔ وجہ؟ ڈیم بننے سے بہت سے ’’قومی فائدے‘‘ ختم ہو جاتے ہیں اور ہماری اشرافیہ کا خوبصورت کاروبار خطرے میں پڑ جاتا ہے۔

ڈیم نہ بنانے کے فوائد: ایک قیمتی سرمایہ

سب سے پہلا فائدہ یہ ہے کہ سیلاب آتے رہیں گے۔ سیلاب آئیں گے تو پوری دنیا سے امداد آئے گی۔ ڈالر آئیں گے، ٹرک آئیں گے، ہمدردی آئے گی۔ اور یہ سب کچھ ’’متاثرین‘‘ تک پہنچے یا نہ پہنچے، متعلقہ اہلکاروں تک ضرور پہنچتا ہے۔ یہی وہ بزنس ماڈل ہے جو برسوں سے چل رہا ہے۔

دوسرا فائدہ یہ کہ مہنگی بجلی پیدا ہوتی رہے گی۔ پٹرول اور فرنس آئل کے پلانٹس چلتے رہیں گے اور ان کی مرمت، ایندھن اور کمیشن کا لامتناہی سلسلہ جاری رہے گا۔ عوام بجلی کے بل دیکھ کر چیخیں ماریں گے لیکن ’’قومی خدمت‘‘ کے نام پر سب برداشت کر لیں گے۔

ڈیم بننے کے نقصانات: خطرناک نتائج

اگر ڈیم بن جائیں تو سب سے بڑا نقصان یہ ہوگا کہ بجلی سستی ہو جائے گی۔ اور اگر بجلی سستی ہوگئی تو وہ تمام مہنگے منصوبے بند ہو جائیں گے جن پر کمیشن ملتا ہے۔ یوں اربوں نہیں کھربوں روپے کی کرپشن کا دروازہ بند ہو جائے گا۔ کیا ہم اتنی بڑی ’’قربانی‘‘ دینے کے لیے تیار ہیں؟ ظاہر ہے نہیں!

پھر زرداری صاحب، شریف فیملی اور کچھ ریٹائرڈ اور حاضر سروس جرنیل ناراض ہو جائیں گے۔ کیونکہ ڈیم بننے سے ان کے ’’معاشی منصوبے‘‘ متاثر ہوں گے۔ پٹرول کی کھپت کم ہوگی تو کِک بیکس کہاں سے آئیں گے؟ فرنٹ کمپنیوں کا بزنس کون سنبھالے گا؟

امریکہ اور عالمی ناراضگی

ڈیم بننے کا ایک اور نقصان یہ ہے کہ امریکہ اور کچھ دیگر طاقتیں بھی ناراض ہو جائیں گی۔ کیوں؟ کیونکہ اگر پاکستان توانائی میں خود کفیل ہو گیا تو آئی ایم ایف کی شرائط پر کیسے جھکایا جائے گا؟ قرضوں کا ہتھیار کند ہو جائے گا اور ہماری خود مختاری میں اضافہ ہو جائے گا۔ لیکن خود مختاری سے زیادہ قیمتی چیز ہمارے ہاں ’’امداد‘‘ سمجھی جاتی ہے۔

سیلاب اور سیاست: ایک نفع بخش صنعت

سیلاب صرف پانی نہیں لاتا، سیاست بھی لاتا ہے۔ سیلاب آتے ہیں تو وزراء ہیلی کاپٹر سے پیکٹ پھینکتے ہیں اور میڈیا پر خوبصورتی سے فوٹو سیشن ہوتے ہیں۔ ہیڈ لائنز بنتی ہیں: ’’وزیرِاعظم کا متاثرین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی‘‘۔ متاثرین کے پاس کھانے کو کچھ ہو یا نہ ہو، مگر کیمروں پر سب کچھ بہت شاندار لگتا ہے۔ یہی تصویر اگلے الیکشن میں ہمدردی کے ووٹ بناتی ہے۔

تاریخی حقیقتیں اور سبق

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے اپنی بقا کے لیے بڑے ڈیم تعمیر کیے۔ امریکہ کا ہوور ڈیم ہو یا چین کا تھری گورجز ڈیم – ان منصوبوں نے ان ممالک کو معاشی طاقت بنایا۔ بھارت نے بھی پچھلے 70 سال میں درجنوں ڈیم بنا لیے، مگر ہم ابھی تک ’’مطالعہ‘‘ کر رہے ہیں کہ ڈیم بننا چاہیے یا نہیں۔

سوال مگر اہم ہے

ہم کب فیصلہ کریں گے کہ قومی مفاد ذاتی مفاد پر غالب آ جائے؟ کب ہم یہ سوچیں گے کہ کرپشن کے چند کھرب روپے بچانے کے بجائے سستی بجلی اور پانی کے ذخائر کی فراہمی زیادہ ضروری ہے؟ کب ہم امداد کے چکر سے نکل کر خود کفالت کی طرف بڑھیں گے؟

شاید اس وقت تک نہیں جب تک ہم یہ نہ سمجھ لیں کہ ڈیم صرف پانی کا ذخیرہ نہیں، ترقی کا ذریعہ ہیں۔ لیکن افسوس! ہمارے ہاں ترقی صرف تقریروں میں ہوتی ہے اور ڈیم صرف اشتہارات میں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button