انٹر نیشنلتازہ ترین

اسرائیلی بمباری ،سکول پر حملہ ،کئی بچے زندہ جل گئے ، مزید 81 فلسطینی شہید

بچوں کے زندہ جلنے کے مناظر پر اقوام متحدہ کی نمائندہ رو پڑیں ،اسرائیل کی یورپ کومغربی کنارے کو ضم کرنے کی دھمکی

غزہ :(ویب ڈیسک )اسرائیلی بمباری سے غزہ میں 81 فلسطینی شہید ہوگئے جبکہ سکول پر بمباری کے نتیجے میں کئی بچے زندہ جل گئے۔فلسطینی بچوں کے زندہ جلنے کے مناظر پر اقوام متحدہ کی نمائندہ رو پڑیں۔

رپورٹ کے مطابق طبی ذرائع نے بتایا کہ گذشتہ روز سے اسرائیلی حملوں میں غزہ بھر میں کم از کم 81 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں سے 53 صرف غزہ شہر میں جان کی بازی ہارگئے، اسرائیلی فوج نے گزشتہ روز غزہ کے اسکول پر بھی بمباری کی، جس کے نتیجے میں کئی بچے زندہ جل گئے۔اقوام متحدہ کی مقبوضہ فلسطین میں انسانی حقوق کی نمائندہ فرانچسکا البانیزے نے اسرائیلی حملوں میں زندہ جلنے والے فلسطینی بچوں کے مناظر پر شدید صدمے اور رنج کا اظہار کیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر اپنے بیان میں فرانچسکا البانیزے نے لکھا: "میں نے بے شمار انسانوں، اور خاص طور پر بچوں کے سائے جلتے ہوئے دیکھے ہیں، اب میں آگ کو دیکھ بھی نہیں سکتی، دل متلا جاتا ہے۔ "ہمیں اس قتلِ عام کو فوری روکنا ہوگا۔ فلسطینی ہمیں معاف کردیں۔

دائیں بازو کے سرگرم کارکن اسرائیل کی اشدود بندرگاہ پر جمع ہوئے جو غزہ کی پٹی سے تقریبا 30 کلومیٹر ( 18 میل) کے فاصلے پر واقع ہے، تاکہ محصور علاقے کے لیے بھیجی جانے والی امداد کو روکا جا سکے۔اسرائیلی میڈیا اور سوشل میڈیا پر موجود ویڈیوز کے مطابق مظاہرین نے بندرگاہ کے دروازے سے نکلنے والے ٹرکوں کے سامنے کھڑے ہو کر ان کا راستہ روکا، جب کہ اسرائیلی پولیس فورسز نے مظاہرین کو ٹرکوں کے راستے سے ہٹانے کی کوشش کی۔اسی طرح کے ایک احتجاج میں انتہا پسند اسرائیلی وزیر بن گویر نے بھی شرکت کی ۔

غزہ میں حماس کے ہاتھوں حراست میں لی جانے والی ایک سابق اسرائیلی فوجی نعاما لیوی نے انکشاف کیا کہ قید کے دوران اسے سب سے زیادہ خوف اسرائیلی فضائی حملوں کا تھا، جس سے وہ اپنی موت کو قریب محسوس کرتی رہیں۔نعاما لیوی اُن 5 اسرائیلی خاتون فوجیوں میں شامل تھیں جنہیں رواں سال جنوری میں جنگ بندی معاہدے کے تحت رہا کیا گیا تھا، تل ابیب کے مشہور ’ہوسٹیج اسکوائر‘ پر منعقدہ احتجاجی جلسے میں خطاب کرتے ہوئے لیوی نے اپنی اسیری کے کربناک لمحات بیان کیے۔

اسرائیلی سٹریٹجک امور کے وزیر رون ڈیرمر نے فرانسیسی وزیر خارجہ ژان نوئیل بارو اور برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لامی کو خبردار کیا کہ اسرائیل فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے جواب میں مغربی کنارے کے علاقہ کو ضم کر سکتا ہے اور غیر مجاز بستیوں کو قانونی حیثیت دے سکتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button