لاہور(بیوروچیف/سید ظہیر نقوی) تاریخ پر تاریخ ملنے اور انصاف میں تاخیر سے دلبرداشتہ سائل نے ہائیکورٹ میں خود کو آگ لگا لی۔ محمد آصف جاوید ولد محمد اسلم ندیم کوٹ محمد حسین چک حسنین روڈ نزد مدینہ ٹینٹ خانیوال کا رہائشی تھا ،محمد آصف جاوید مشہور کمپنی نیسلے کے کبیروالا پلانٹ میں ملازم تھا۔
محمد آصف جاوید نے انصاف میں تاخیر پر اقدام خودسوزی کیا کو میو ہسپتال میں زیر علاج ہے اوراس کی حالت تشویشناک ہے ،ہائیکورٹ میں آتش گیرمادہ کیسے پہنچا؟سکیورٹی پر اہم سوال اٹھ گئے،ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔

لاہور ہائیکورٹ میں شہری کی آگ لگا کر خودکشی کرنے کے معاملے پر آئی جی پنجاب نے ڈی ایس پی سکیورٹی ہائیکورٹ محمد خالد ملک کو معطل کر دیا،نوٹیفکیشن کے مطابق ڈی ایس پی نے ہائیکورٹ کی سکیورٹی میں غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، غیرذمہ دارانہ رویہ رکھنے پرڈی ایس پی کو سنٹرل پولیس آفس رپورٹ کا حکم دے دیا گیا ۔
ایس ایچ اوتھانہ پرانی انارکلی واجد کے مطابق آصف پانی والی بوتل میں پٹرول لایا اور احاطہ ہائیکورٹ میں خود کو آگ لگائی موقع پر موجود اہلکاروں نے آگ بجھا کر زخمی کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا۔
شہری آگ لگانے کے بعد یہ کہتا رہا کہ اسے انصاف نہیں ملا اسے انصاف چاہیے، ڈیوٹی پرموجود پولیس انسپکٹرعظمت بخاری، عقیل کانسٹیبل سمیت دیگر اہلکاروں نے اس پرپانی پھینکا ،چادرڈالی اور آگ بجھانے والے آلہ کی مدد سے آ گ پر قابو پایا ۔
اطلاع ملنے پر ریسکیو اہلکارفوراً طبی امداد کیلئے موقع پر پہنچ گئے اور زخمی کو فوری طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا بتایا گیا ہے کہ خودسوزی کی کوشش کرنیوالے شخص کا نام آصف جاوید ہے اور ایک مشہوربرانڈ کی کمپنی کے کبیروالا پلانٹ میں ملازم تھا۔
کمپنی نے آصف سمیت متعدد ملازمین کو یونین سرگرمیوں پر نکال دیاتھا بعد ازاں لیبرکورٹ نے ان ملازمین کو بحال کرکے واجبات کی ادائیگی کا حکم دیا اس فیصلے کو کمپنی نے ہائیکورٹ میں چیلنج کیا ہوا ہے 5 سال سے کیس زیرسماعت ہے،بروقت فیصلہ نہ ہونے پر آصف دلبرداشتہ ہوگیا تھا ۔



