
اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بار پھر اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی مضبوطی اور ترقی کے لیے سب کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ میثاقِ جمہوریت اور میثاقِ معیشت وقت کی اہم ضرورت ہیں، بات چیت کے لیے آج بھی تیار ہوں۔
قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ایوان میں چاروں صوبوں کے نمائندے موجود ہیں، سب کی سیاست اور خیالات مختلف ہو سکتے ہیں لیکن پاکستان سب کا مشترکہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ "پاکستان ہے تو ہم ہیں”، ملک کو مستحکم کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
وزیراعظم نے اپوزیشن اراکین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمارے بھائی ہیں، کوئی لڑائی نہیں، کئی بار کہہ چکا ہوں کہ آئیں میثاقِ معیشت اور میثاقِ جمہوریت کی طرف بڑھیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ مذاکرات کے لیے قدم بڑھانے کو تیار ہیں، اپوزیشن بھی آگے آئے۔
شہباز شریف نے صوبوں کے معاشی حقوق کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وسائل کی منصفانہ تقسیم ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کا حصہ 100 فیصد بڑھایا گیا، جس میں تمام صوبوں بالخصوص پنجاب نے اپنا کردار ادا کیا۔
وزیراعظم نے بلوچستان کی ترقی کے منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ریکوڈک معاہدے میں بلوچستان کے عوام کے شیئرز موجود ہیں جبکہ گوادر سے چمن تک شاہراہ کی تعمیر پر 300 ارب روپے سے زائد خرچ کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے دہشتگردی کے چیلنج کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے واقعات کا سامنا ہے۔ سیکیورٹی فورسز کے افسران اور جوان ملک کے امن کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں، قوم کو اپنے شہدا کی قربانیوں کا احترام کرنا چاہیے۔
دوسری جانب اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے بھی سیاسی معاملات کے حل کے لیے مذاکرات پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ غلطیوں کی اصلاح ممکن ہے، حکومت اور اپوزیشن کو بیٹھ کر معاملات آگے بڑھانے چاہئیں۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ایسا معاہدہ ہونا چاہیے جس کے تحت سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف انتقامی سیاست نہ کریں اور جو انتخابات جیتے اسے پانچ سال حکومت کرنے کا موقع ملے۔ انہوں نے پارلیمنٹ کو مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ملک اور عوام دونوں کا فائدہ ہوگا۔



