بلاگپاکستانتازہ ترینتعلیم/ادبکالم

واصف علی واصفؒ کی حیات اوراقوال زریں

انتخاب کلام واقوال/تنویر احمد شیخ

لاہور:(انتخاب کلام واقوال/تنویر احمد شیخ)پاکستان کے مشہور صوفی دانشور، شاعر، ادیب اور کالم نگار واصف علی واصفؒ 15 جنوری 1929ء کوخوشاب میں پیدا ہوئے ۔ ان کے مکالموں اور گفتگو کے متعدد مجموعے اشاعت پذیر ہوچکے ہیں جو بے حد مقبول ہوئے ہیں۔ ان کی نثری تصانیف میں کرن کرن سورج، قطرہ قطرہ قلزم، حرف حرف حقیقت، دل دریا سمندر، بات سے بات، دریچے، ذکر حبیب، مکالمہ اور گفتگو شامل ہیں۔

wasif-ali-wasif-1

ان کے شعری مجموعے شب چراغ، شب زاد اور بھرے بھڑولے کے نام سے اشاعت پذیر ہوئے ہیں۔

ان کے اقوال آج بھی دلوں کو جذبہ تازہ بخش رہے ہیں،واصف علی واصفؒ نے ابتدائی تعلیم خوشاب سے حاصل کی اور بعد میں جھنگ سے میٹرک اور بی اے اور بعد ازاں ایم اے انگریزی (ادب) میں داخلہ لیا، ان کا تعلیمی ریکارڈ شان دار رہا۔

wasif-ali-wasif-2

سکول اور کالج کے زمانے میں ہاکی کے بہت اچّھے کھلاڑی رہے، زمانہ طالب علمی میں‌ مختلف سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے اور متعدد اعزازات اور انعامات بھی جیتے۔

واصف علی واصفؒ نے عملی زندگی میں تعلیم و تدریس کا شعبہ چنا اور ساتھ ہی اپنی فکر اور وعظ کا سلسلہ بھی جاری رکھا اور ایک درویش صفت انسان، صوفی اور روحانیت کے ماہر کے طور پر شہرت حاصل کی۔

wasif-ali-wasif-3

واصف علی واصفؒ کے بارے میں اگر یہ کہا جائے کہ ’’ممکن نہیں مجھ سے یہ طرز منافقت، اے دنیا تیرے مزاج کا بندہ نہیں ہوں میں‘‘ تو بہت مناسب ہوگا۔

گویا ایامِ جوانی کے دوران انہوں نے اس عمر کے بہت سے راستے ما پے لیکن پھر طبیعت صوفی ازم کی طرف مائل ہوئی تو ان کی زبان سے اقوال کی ایسی برسات برسی جس میں ایک زمانہ بھیگا۔

اگر ایک طرف اس شخصیت کی اردو اور پنجابی شاعری ہمیں ازلی حقیقتوں سے آشکار کرتی نظر آتی ہے تو دوسری طرف ان کی تصانیف میں موجود ان کے اقوال تادیر دلوں کو جذبہ تازہ بخشتے رہیں گے۔

wasif-ali-wasif-4

نامور شاعر و ادیب واصف علی واصف 18 جنوری 1993 کو خالق حقیقی سے جا ملے، واصف علی واصف 18 جنوری 1993ء کو لاہور میں وفات پاگئے اور لاہور ہی میں میانی صاحب کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔

wasif-ali-wasif-5
بشکریہ کاشف پبلیکشنز

سی این این اردوڈاٹ کام کی جانب سے واصف علی واصفؒ کے چند معروف اقوال زریں دنیا بھر میں ان کے چاہنے والوں کے لئے پیش خدمت ہیں۔

1-“جو شخص خود کو پہچان لیتا ہے، وہ اپنے رب کو پہچان لیتا ہے۔”

2-“خاموشی میں وہ طاقت ہے جو ہزار لفظوں میں نہیں ہوتی۔”

3-“تکلیف انسان کو توڑنے نہیں، بنانے آتی ہے۔”

wasif-ali-wasif-5
بشکریہ کاشف پبلیکیشنز

4-“جس دن انسان شکایت چھوڑ دیتا ہے، اسی دن شکر شروع ہو جاتا ہے۔”

5-“علم وہ نہیں جو الفاظ میں ہو، علم وہ ہے جو حال بن جائے۔”

6-“انسان اپنی سوچ کا قیدی ہے، سوچ بدل جائے تو زندگی بدل جاتی ہے۔”

7-“اللہ کی رضا میں راضی رہنا ہی اصل سکون ہے۔”

8-“جس نے وقت کو سمجھ لیا، اس نے خود کو سمجھ لیا۔”

9-“دعا مانگنے سے پہلے شکر ادا کرو، قبولیت خود چل کر آئے گی۔”

10-“انا سب سے بڑی رکاوٹ ہے، یہ ٹوٹ جائے تو راستہ خود بن جاتا ہے۔”

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button