پاکستان کا بھارت کو منہ توڑ جواب کااعلان،سینٹ میں مذمتی قرارداد منظور
پانی پاکستانی عوام کی لائف لائن : اسحاق ڈار،سینٹ میں خطاب، سعودی وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ،مودی آر ایس ایس کے نظریہ پر چل رہا :شبلی فراز: شیری رحمان،ایمل ولی
اسلام آباد (ویب ڈیسک )بھارتی جارحیت اور اقدامات کے خلاف ایوان بالا نے مذمتی قرارداد منظور کر لی ، اپوزیشن سمیت سینیٹ میں موجود تمام سیاسی جماعتوں نے قرارداد کی حمایت کی۔قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ پاکستان پہلگام واقعے سمیت دہشتگردی کی ہر شکل کی مذمت کرتا ہے، پاکستان کو پہلگام واقعے سے جوڑنے کی مذمت کرتے ہیں، پاکستان پر کسی حملے کی صورت میں منہ توڑ جواب دیا جائے گا، بھارتی حکومت بدنیتی پر مبنی مہم چلا رہی ہے۔
بھارت کو پاکستان سمیت دیگر ممالک میں دہشتگردی پر قابل احتساب بنایا جائے، پاکستان کشمیر یوں کی حمایت جاری رکھے گا۔سینٹ کا اجلاس چیئرمین سینٹ یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت شروع ہوا۔ نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے قراردار ایوان میں پیش کی جسے متفقہ طور پر سینٹ سے منظور کر لیا گیا۔سینیٹر اسحاق ڈار نے سینٹ اجلاس میں وقفہ سوالات جوابات معطل کرنے کی تحریک پیش کی۔نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا اگر کسی نے میلی آنکھ سے دیکھا تو ویسا ہی جواب ملے گا جیسا ماضی میں ملا، پہلے بھی جواب دیا تھا اور اب بھی بتا دیا ہے پہلےسے تگڑا جواب ملے گا، پاکستان کی فورسز ہر قسم کی کارروائی کے لیے تیار ہیں۔
پہلگام میں سیاحوں کی ہلاکتوں پر مذمت کرتے ہیں لیکن بھارت نے معمول کے مطابق پاکستان پر الزام لگایا، قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان نے بھارت کے مقابلے دو اقدامات زیادہ اٹھائے ہیں، سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے والے بھارتی فیصلے کو مسترد کرتے ہیں،پانی 24 کروڑ پاکستانی عوام کی لائف لائن ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ واہگہ بارڈر کو فوری بند کر دیا جائے گا، سارک ویزا سکیم کے تحت جو بھارت کے لوگ پاکستان میں موجود ہیں 48 گھنٹوں میں نکل جائیں تاہم سکھ یاتریوں کو نہیں روکا جائے گا۔نائب وزیراعظم نے کہا بھارت نے سب سے پہلے حملہ سندھ طاس معاہدے پر کیا اور قومی سلامتی کمیٹی نے متفقہ طور پر سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو جنگ قرار دے دیا، قومی سلامتی کمیٹی نے جواباً تمام معاہدوں کو معطل کرنے کا کہا، سارک ویزوں کو انڈیا نے منسوخ کر دیا، ہم نے بھی سکھ یاتریوں کے علاوہ سب ویزے منسوخ کر دیے۔
بعدازاں وزیر خارجہ اسحق ڈار کی جانب سے بھارتی جارحیت کے خلاف پیش کی گئی قرارداد کو ایوان بالا نے متفقہ منظور کرلیا۔پی ٹی آئی رہنما شبلی فراز نے کہا پہلگام واقعے کا الزام بغیر تردد پاکستان پر لگا دیا گیا، جس خطے میں 7لاکھ فوج ہے وہاں یہ واقعہ ہونا ان کی افواج کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے، وزیر دفاع نے افغانستان کے حوالے سے انتہائی اشتعال انگیز بیان دیا ہے، بتایا جائے حکومت کی سمت کیا ہے۔
بھارتی وزیر اعظم آر ایس ایس کے نظریہ پر چل رہا ہے، بھارت اپنے ملک اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلمانوں پر مظالم کررہا ہے، جمہوریت کیلئے صاف شفاف الیکشنز ہونا ضروری ہیں، بھارت میں کسی الیکشن پر سوالات نہیں اٹھے، پاکستان میں ہر الیکشن متنازعہ رہا مگر 2024 کا الیکشن تو سب سے زیادہ متنازع تھے، ملک صاف شفاف الیکشنز سے منتخب حکومت میں ہی ترقی کرسکتا ہے، پلوامہ واقعے کے بعد ہماری حکومت کا جو واضح موقف تھا وہ آج نہیں ہے، آج حکمران الگ کھڑے ہیں قوم الگ کھڑی ہے، ملک کی سب سے بڑی جماعت کے قائد کو 600 سے زیادہ دنوں سے سیاسی مقدمات میں جیل میں بند کررکھا ہے، عمران خان نے ہمیشہ ملک کو جوڑنے کی بات کی، اس وقت ہمیں ایسے لیڈر کی ضرورت ہے، جب تک حقیقی عوامی نمائندے نہیں آئیں گے تب تک استحکام نہیں آسکے گا۔
آپ سورج کو انگھوٹھے سے نہیں چھپا سکتے، ملکی ترقی کیلئے عدلیہ اور ججز کو آزاد کرنا ہوگا اور صاف شفاف الیکشن کرانا ہوں گے، اصل دہشتگردوں کےخلاف کوئی کام نہیں ہورہا، اصل دہشتگردوں سے زیادہ دہشتگردی کے مقدمات پی ٹی آئی ورکرز کے خلاف درج کیے جارہے ہیں، جب تک عمران خان جیل میں ہیں سیاسی استحکام نہیں آسکتا۔
استحکام کے لیے عمران خان کو باہر لانا ہوگا۔سینیٹر شیری رحمان نے کہا پہلگام حملے کا ملبہ بغیر ثبوت کے پاکستان پر ڈال دیا گیا، کیا مودی نے شفاف الیکشن کرائے ہیں؟ مودی کے تین سیاسی حریف جیلوں میں ہیں، بھارت میں اقلیتوں کو دیوار کے ساتھ لگا دیا گیا ہے، مودی کی اپنی پہلی ٹرم میں بھی یہ خواہش تھی کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کریں، بھارت نے غیر رسمی طور پر پی آئی سی کو معطل کرنے کا کام پہلے سے شروع کر رکھا ہے لیکن بھارت یہ سوچ لےاگر وہ یہ مثال بنانا چاہتا ہے تو ان کے دریا بھی کہیں اور سے آتے ہیں، بھارت اگر دوسری جنگ عظیم کا وقت واپس لانا چاہتا ہے تو ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
اگر وہ ہماری افواج اور قوم کا امتحان لینا چاہتے ہیں تو کرکے دیکھ لے، آج ہم نے متحد ہو کر ایک متفقہ قرارداد پاس کی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی قوم دہشتگردی کے خلاف یک زبان ہے، ہم نے بھارت کو بھرپور جواب دیا ہے، پاکستان کی کوئی حکومت قومی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں کرے گی، اگر وہ ہماری مسلح افواج یا عوام کا امتحان لینا چاہتے ہیں تو ہم سیسہ پلائی دیوار بن کر دکھائیں گے۔
بھارت کو اپنی ناکامیوں کا ملبہ دوسروں پر ڈالنے کے بجائے اپنے داخلی مسائل کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے۔انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کا نوٹس لے۔
سربراہ اے این پی ایمل ولی خان نے کہا اس ایوان میں چوروں اور مجرموں کی تصویریں نہ لگائی جائیں۔ایوان بالا میں چوروں کی تصویر کی بات پر ایمل ولی خان اور پی ٹی آئی رہنمائوں میں تلخ کلامی ہوئی۔ فلک ناز چترالی نے کہا یہ اپنے الفاظ واپس لیں اور معافی مانگیں، 25 کروڑعوام کے نمائندے کو یہ چور کہہ رہا ہے جس کا اپنا کوئی حلقہ نہیں۔ایمل ولی خان نے کہا میں پھر کہہ رہا ہوں چوروں اور مجرموں کی تصاویر اس ایوان میں نہیں لگائی جائیں۔
چیئرمین سینٹ یوسف رضا گیلانی نے کہا میں یہ الفاظ حذف کرتا ہوں۔ایمل ولی خان نے کہا بھارت کے ڈرامے اور اقدام کی مذمت کرتے ہیں، بھارت کے کسی اقدام کو پورا نہیں ہونےدینگے، مودی نے انگلش میں تقریر ان کو سنانے کے لیے جنہیں انگلش سمجھ آتی ہے، 18 ویں ترمیم اور صوبائی خودمختاری پر حملہ نہ کریں، جس طرح پاکستان کو پانی سے پیار ہے ویسے ہی ہمیں اپنے قدرتی وسائل سے پیارہے،جو آئین کے خلاف جائیگا ہم ان کے ساتھ نہیں ہوں گے۔
ن لیگ اور پی ٹی آئی ملکر صوبے کی معدنیات پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں، جنگ کسی بھی مسئلہ کا حل نہیں،دونوں ممالک کے پاس ایٹم بم ہے، بھارت میں عدم تشدد کے خواہشمند باہر آئیں اور امن کا پیغام دیں، پاکستان سے بھی امن کی بات ہونی چاہیے، میں خود بھارت، افغانستان، ایران اور چین سے بات کرنے کو تیار ہیں۔
سینٹ اجلاس میں سینیٹر فوزیہ ارشد کے بھائی کی وفات پر دعائے مغفرت بھی کی گئی جبکہ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے مخبر کے تحفظ اور نگرانی کمیشن کے قیام کا بل پیش کیا، بل متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔ بعدازاں سینٹ کا اجلاس پیر کی شام 4 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔
دریں اثنا نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور انہیں بھارت کے یکطرفہ اقدامات کے تناظر میں قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں سے آگاہ کردیا۔
ترجمان دفترخارجہ سے جاری بیان کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ نے دونوں ملکوں کے مابین موجودہ دوطرفہ تعلقات پر اطمینان کا اظہار کیا اور گفتگو کے دوران خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے شہزادہ فیصل بن فرحان کو بھارت کی جانب سے یکطرفہ اقدامات کے تناظر میں پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں سے آگاہ کیا۔
اسحاق ڈار نے بھارت کے بے بنیاد الزامات کو مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات خطے میں مزید کشیدگی کا باعث بن سکتے ہیں۔ترجمان دفترخارجہ کے مطابق انہوں نے کہا کسی بھی جارحیت کا بھرپور اور مؤثر جواب دیا جائے گا ۔دونوں رہنماؤں نے خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر مشاورت اور رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔



