رئوف کلاسرا ہمارے بڑے ہیں صحافت میں ان کا بڑا نام ہے تحقیقاتی صحافت ان کا موضوع رہی ہے اور بدعنوانی کی بہت بڑی سٹیوریز انہوں نے بریک کی ہیں کسی دور میں انگزیری اخبارات میں ان کے نام کا ڈنکا بجتا تھا جس دن ان کے نام کی بائی لائن سٹوری اخبار میں شائع ہوتی تھی حکومتی ایوانوں اور سول نوکر شاہی بیورہ کریسی کے دفاتر میں رئوف کلاسرا ہی زیر بحث ہوتے تھے۔
رئوف صاحب صرف صحافت تک ہی محدود نہیں رہے ان کا شمار لکھنے پڑھنے والے صاحب عالم صحافیوں میں ہوتا ہے مطالعہ کے رسیاہیں نصف درجن کے قریب کتابوں کے مصنف ہیں مترجم ہیں ،شہرہ آفاق ناول گاڈ فادر کا اردو ترجمہ بھی کر چکے ہیں آج کل الیکٹرانک میڈیا کا ایک معروف نام ہیں ، تاہم ایک معروف اخبار میں باقاعدگی سے کالم بھی لکھتے ہیں چندروز قبل ایک ٹی وی پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئےرئوف صاحب نے پالولر لیڈر شپ کے حوالے سے ایک مضحکہ خیز بات کی اس بات کا خوب چرچا ہو رہا ہے
مختلف صحافی اپنے وی لاگزمیں رئوف کلاسرا کو ہدف تنقید بھی بنا رہے ہیں ،رئوف صاحب نے ایک ٹی وی ٹاک شو کے دوران گفتگو کی روانی میں کہہ دیا کہ دنیا بھر میں جو مقبول ترین سیاسی قیادت یا سیاست دان جو ہوتا ہے وہ آمریت پسند بن جاتا ہے اسکے وجود میں ایک آمر پنپ رہا ہوتا ہے چونکہ اسکی مخالفت بہت کمزور ہوتی ہے اس لئے وہ اپنےفیصلے کو ہر صورت میں نافذ کرنا چاہتا ہے۔
رئوف کلاسرا نے مزید کہا اس وقت دنیا بھر میں مقبول ترین سیاسی قیادت پر بہت تحقیق ہو رہی ہے اور بہت سی کتابیں لکھی جا رہی ہیں کہ کس طرح سے مقبول ترین سیاسی قیادت آمریت پسند بن جاتی ہے ، بصد احترام کے ساتھ اس کا کوئی وجود نہیں صرف ایک مقبول ترین سیاست دان کے بغص میں ایسا تھیس گڑا جا رہا ہے۔
کسی بھی ملک کی مقبول ترین سیاسی قیادت وہاں کے عوام کی آواز ہوتی ہے اور ہر 5 سال بعد اتخابات کے ذریعے اس مقبول ترین سیاست دان کو عوامی تائید حاصل کرنی پڑتی ہے جبکہ کسی آمر کو تو اسکی ضرورت ہی نہیں ہوتی وہ عسکری طاقت کے بل بوتے پرفیصلے کرتا ہے ،رئوف صاحب سے بصد احترام یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ مہاتما گاندھی اور نیلسن منڈیلیا جیسے مقبول ترین سیاست دان کیا آمر تھے؟ نیلسن منڈیلا کی یہ یہ کیسی آمریت پسندی تھی جو 27 سال تک اس کو جیل میں رہنے پر مجبور کرتی ہے مہاتما گاندھی کیسا آمر تھا جو تقسیم ہند کے بعد آزاد ہندوستان کا وزیر اعظم بنے کی بجائے اپنے آشرام میں بیٹھ کر چرغہ کاتنے کو ترجیح دیتا ہے ، لہذا یہ تھیس کے مقبول ترین سیاست دان آمر بن جاتا ہے بالکل ہی غیر حقیقی ہے اس کا کوئی وجود نہیں چونکہ آج کل جس سیاست دان کے نام کا ڈنکا وطن عزیز میں بج رہا ہے وہ آپ کو پسند نہیں اس لئے آپ نے یہ شگوفہ چھوڑ دیا ۔
آپ جیسے عالم فاضل وسیع مطالعہ صحافی اور لکھاری سے اس بات کی توقع نہیں تھی ، کسی ملک میں مقبول ترین سیاسی قیادت کا ہونا ایک نعمت سے کم نہیں ہوتایہ اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ ملک میں عوامی رائے عامہ تقسیم نہیں ہے اور کسی بحرانی کفیت میں عوام اس مقبول ترین سیاست دان یا حاکم کےفیصلے پر لبیک کہتے ہوئے بحران سے نکل سکتی ہے، لہذارئوف کلاسرا جیسے منجھے ہوئے صحافی کالم نگار کو اپنی اس سوچ پر نظر ثانی کی ضرورت ہے باقی وہ خود سمجھدار ہیں جو مزاج یار ہو۔



