پاکستانتازہ ترینجرم-وسزا

بھارتی جارحیت: پنجاب پولیس، محکمہ شہری دفاع، ریسکیو 1122کی مشقیں

وزیراعلیٰ مریم نواز کی ضلعی انتظامیہ کو شہری دفاع کی مشقوں کی مانیٹرنگ کی ہدایت، تینوں اداروں کو الرٹ رہنے کا حکم

لاہور، راولپنڈی ( بیوروچیف/سید ظہیرنقوی) پنجاب میں محکمہ شہری دفاع، ریسکیو 1122 اور لاہور پولیس نے فرضی مشقیں شروع کردیں، محکمہ شہری دفاع کو پوری طرح فعال کر دیا گیا۔ لاہور پولیس نے کسی بھی ہنگامی یا دہشتگردی کی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے شہر میں فرضی مشقوں کا آغاز کر دیا ۔تفصیلات کے مطابق پنجاب بھر کے چھوٹے بڑے شہروں لاہور، راولپنڈی ، مری، جہلم ،چکوال سرگودھا،نارووال ،گوجرانوالہ، حا فظ آباد، سیالکوٹ، ساہیوال، پاکپتن، ملتان، خانیوال ،مظفرگڑھ ، لیہ، وہاڑی، حافظ آباد اور دیگر شہروں میں محکمہ شہری دفاع کی فرضی مشقیں جاری ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ضلعی انتظامیہ کو شہری دفاع کی مشقوںکی مانیٹرنگ کی ہدایت کی۔دوسری جانب ریسکیو 1122نے بھی مختلف شہروں میں موک ایکسرساءز کا آغاز کر دیا ،ہنگامی حالات سے نمٹنے اور خطرات سے بچائو کے لئے ریسکیو 1122کی فرضی مشقیں کی جا رہی ہیں۔پنجاب حکومت نے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے محکمہ شہری دفاع اور ریسکیو 1122کو ہمہ وقت مستعد رہنے کی ہدایت کی ہے، ہنگامی صورتحال میں سول ڈیفنس کے ذریعے شہریوںکی مدد اور رہنمائی کی جائے گی۔
لاہور پولیس نے قذافی سٹیڈیم میں منعقدہ مشق کے دوران دہشتگردی کی ایک کارروائی کو ناکام بنانے کا عملی مظاہرہ کیا۔ مشقوں میں لاہور پولیس کے تمام ونگز بشمول آپریشنز، ایلیٹ فورس، ڈولفن اسکواڈ، پٹرولنگ، ٹریفک پولیس، ایس ایچ اوز اور اے ایس پیز نے حصہ لیا، جبکہ ریسکیو 1122 اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کی ٹیموں نے بھی مشق کا حصہ بن کر اپنی تیاریوں کا مظاہرہ کیا۔
ڈی آئی جی آپریشنز نے کہا کہ ان مشقوں کا مقصد دشمن کی کسی بھی مذموم چال کو بروقت اور موثر انداز میں ناکام بنانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس اپنی افواج کے شانہ بشانہ دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کو تیار ہے۔
راولپنڈی پولیس، ریسکیو اور سول ڈیفنس کی ملکی حالات کے حوالے سے پولیس لائنز ہیڈ کوارٹرز میں موک ایکسرسائز کی گئی،موک ایکسر سائز کا مقصد کسی بھی ایمرجنسی صورتحال میں مربوط اور فوری رسپانس کے لئے تیاری کو بہترین بنانا ہے، موک ایکسرسائز میں راولپنڈی پولیس، ایلیٹ فورس، 1122، بم ڈسپوزل اسکواڈ اور سول ڈیفنس نے حصہ لیا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button