دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج یوم استحصال و یوم سیاہ منائینگے، نیویارک میں بھارت کیخلاف احتجاج
پاکستان کشمیری عوام کی سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا، شہباز شریف، آصف زرداری کا پیغام ، فیلڈ مارشل ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، چیف آف نیول سٹاف کا غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ
سرینگر،راولپنڈی (ویب ڈیسک) کنٹرول لائن کے دونوں جانب ، پاکستان اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری 5اگست 2019کو مودی کی زیر قیادت بھارتی حکومت کی طرف سے کئے گئے غیر قانونی اقدامات کے خلاف اپنا احتجاج درج کرانے کے لیے آج یوم استحصال کشمیر کو یوم سیاہ کے طور پر منائیں گے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ 5اگست کو یوم سیاہ کے طور پر منائیں تاکہ دنیا کو یہ واضح پیغام دیا جائے کہ بھارت نے ان کے مادر وطن پر ناجائز قبضہ کررکھا ہے اور کشمیری اقوام متحدہ کی طرف سے تسلیم شدہ حق خودارادیت کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ جموں وکشمیر کے مظلوم عوام کو درپیش مشکلات کی طرف عالمی توجہ مبذول کرانے کے لیے منگل کو احتجاجی مظاہرے کریں۔ کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا کہ وہ دن دور نہیں جب جموں و کشمیرپر بھارت کا سامراجی قبضہ ہو جائے گا اوریہ علاقہ بھارت کی غلامی سے آزاد ہو جائے گا۔ غیر قانونی طورپر نظربند کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ نے 5اگست 2019کو بھارت کے یکطرفہ اقدامات کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی تاریخ کے سیاہ ترین بابوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہاکہ یہ کشمیری عوام کے خلاف کھلی جارحیت ہے۔
نئی دہلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل سے ایک پیغام میں کشمیری عوام سے اپیل کی کہ وہ اس دن کو یوم سیاہ کے طور پر منائیں اور فسطائی مودی حکومت کے غیر قانونی اور یکطرفہ فیصلوں کو مسترد کریں۔ 5اگست 2019سے کشمیریوں کو تمام بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے اور انہیں خوف و دہشت کا نشانہ بنایاجارہا ہے۔ علاقے کو ایک فوجی چھائونی میں تبدیل کیا گیا جہاں انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ مسرت عالم بٹ نے کشمیری عوام سے اپیل کی کہ وہ 5اگست کو مقبوضہ علاقے میں مکمل ہڑٹال، سول کرفیو اور احتجاجی مظاہرے کرکے بھارت اور دنیا کو یہ واضح پیغام دیں کہ کشمیری ان اقدامات کو مسترد کرتے ہیں اور اقوام متحدہ کے وعدے کے مطابق اپنے حق خودارادیت کا مطالبہ کرتے ہیں۔
علاوہ ازیں جموں و کشمیر پر بھارت کے غیرقانونی قبضے کے خلاف امریکہ میں مقیم کشمیریوں نے خواتین اور بچوں سمیت اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر نیویارک کے ٹائمز سکوائر پر ایک پرامن احتجاجی مظاہرہ کیا ۔ نیویارک میں کشمیری امریکن کمیونٹی کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرے کے شرکا نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر کشمیریوں کے حق خودارادیت کی حمایت کے ساتھ ساتھ جموں وکشمیر پر بھارتی قبضے کے خاتمے اور تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیاگیا۔ورلڈ فورم فار پیس اینڈ جسٹس کے چیئرمین ڈاکٹر غلام نبی فائی نے بھارت کی جانب سے دفعہ370اور 35Aکی منسوخی کی مذمت کرتے ہوئے اسے جارحانہ اقدام اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں 91اور 122کی خلاف ورزی قرار دیا۔ مقررین نے جن میں جے کے ایل ایف کے راجہ مختار ،کشمیر مشن امریکہ کے سردار تاج خان، ریٹائرڈمیجر عارف نوید، چودھری مقبول احمد گجر(آزاد کشمیر اسمبلی)اور ایڈووکیٹ امتیاز خان شامل تھے ، مقبوضہ علاقے میں آبادی کے تناسب میں تبدیلیوں، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور آزادی صحافت پر پابندیوں کو اجاگرکیا۔ سماجی کارکن صفورا وسیم نے بھارتی جمہوریت کو فریب قرار دیا جبکہ انسانی حقوق کے کارکنوں سردار ساجد سوار اور عطاالظفر نے عالمی برادری پر زوردیا کہ وہ کشمیر یوں کی آواز سنیں۔کشمیری امریکن الائنس کے صغیر خان ،پاکستان یو ایس اے فریڈم فورم کے شاہد کامریڈ ، فیض خالد قریشی اور آمنہ حبیب سمیت دیگر مقررین نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں جاری ظلم وجبر پر عالمی توجہ اور تمام کشمیری سیاسی قیدیوں کی غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا۔
دریں اثنا وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی غیر قانونی اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کشمیری عوام کے ساتھ پاکستان کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ یومِ استحصال کے موقع پر اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ 5 اگست 2019 کو بھارت کی جانب سے اٹھائے گئے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات نہ صرف بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کے منشور، اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہیں بلکہ یہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے آبادیاتی اور سیاسی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی ایک مذموم سازش کا حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یومِ استحصال بھارتی ریاستی جبر، ظلم و بربریت اور کشمیریوں کے انسانی حقوق کی پامالی کی یاد دہانی ہے۔ کشمیری عوام نے دہائیوں سے جاری بھارتی ریاستی دہشتگردی اور جبر کا ناقابل یقین حوصلے اور وقار کے ساتھ سامنا کیا ہے، اور ان کی جدوجہد سلام اور خراجِ تحسین کی مستحق ہے۔
انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت پر دباؤ ڈالے تاکہ وہ 5 اگست 2019 کے غیر قانونی اقدامات واپس لے، سخت قوانین کا خاتمہ کرے، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرے، اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد کو یقینی بنائے۔ وزیراعظم نے اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان کشمیر کے تنازعے کے منصفانہ اور پائیدار حل تک کشمیری عوام کی حمایت جاری رکھے گا، اور ان کے حقِ خودارادیت کی بھرپور حمایت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک ناقابلِ تنسیخ ستون رہے گا۔ صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کیلئے جموں و کشمیر کے تنازع کا حل اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ناگزیر ہے۔پاکستان جموں و کشمیر کے عوام کو اُن کے جائز حقوق کے حصول تک ہر ممکن سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔
یوم استحصال پر قوم کے نام پیغام میں صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ آج بھارت کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات، 5 اگست 2019، کے چھ برس مکمل ہو رہے ہیں۔ گزشتہ چھ برسوں میں بھارتی حکام نے جموں و کشمیر کے بھارتی غیر قانونی زیرِ قبضہ علاقے کے آبادیاتی ڈھانچے اور سیاسی نقشے کو بدلنے کیلئے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ بھارت نے جموں و کشمیر کے بھارتی غیر قانونی زیرِ قبضہ علاقے میں اپنے جبرواستبداد میں اضافہ کر دیا ہے۔ کشمیری عوام کی حقیقی قیادت تاحال قید میں ہے۔ معصوم شہریوں کو دھمکیاں، بلاجواز گرفتاریاں، اور نام نہاد محاصرے اور تلاشی آپریشنز معمول بن چکے ہیں۔ مقامی میڈیا کو خاموش کر دیا گیا ہے۔ کشمیری عوام اپنی اظہارِ رائے اور اجتماع کی آزادی سے محروم ہیں۔ صدر نے کہا کہ پاکستان جموں و کشمیر کے عوام کو اُن کے جائز حقوق کے حصول تک ہر ممکن سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔
دریں اثنا وفاقی وزیر برائے امور کشمیر ،گلگت بلتستان و سیفران انجینئر امیر مقام نے 5 اگست 2019 کے غیر قانونی بھارتی اقدامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں واپس لینے، سیاسی نظر بندوں کی رہائی اور مسئلہ کشمیرکو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا 5 اگست کشمیریوں کیلئے سیاہ ترین دنوں میں سے ایک ہے جب بھارت نے ان کی خصوصی حیثیت اور شناخت چھین لی،مودی حکومت نے مقبوضہ علاقے کو ایک بڑی جیل میں تبدیل کر کے کشمیریوں کے تمام بنیادی حقوق چھین لیے ہیں،پاکستان نے ہر عالمی پلیٹ فارم پر مظلوم کشمیروں کیلئے آواز اٹھائی ہے اور انشا اﷲ پاکستان آئندہ بھی عالمی فورمز پرکشمیریوں کا مقدمہ لڑتا رہے گا،یوم استحصال کشمیر کے موقع پر وفاقی اور صوبوں کی سطح پر جبکہ آزادجموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں خصوصی واک اور تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا۔
مزید برآں یومِ استحصال کے موقع پر چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نشانِ امتیاز (ملٹری)، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، چیف آف نیول سٹاف، چیف آف ایئر سٹاف اور مسلح افواجِ پاکستان نے بھارتی غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر (IIOJK) کے بہادر اور مظلوم عوام سے غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کیا ہے۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ مسلح افواجِ پاکستان کشمیری عوام کی اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق حقِ خودارادیت کے لیے جاری جائز اور پرامن جدوجہد کی مکمل حمایت کرتی ہیں۔بھارتی افواج کی جانب سے IIOJK پر غیر قانونی قبضہ، مسلسل فوجی محاصرہ، منظم انسانی حقوق کی پامالی اور آبادیاتی انجینئرنگ بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے اور عالمی برادری کے لیے باعثِ تشویش ہے۔



