پاکستان کی سیاسی بساط پر نئی چالیں، مریم نواز کا دو ٹوک مؤقف اور آنے والی انتظامی تبدیلیاں پاکستان کی سیاسی زمین ایک بار پھر لرز رہی ہے۔ اقتدار کے ایوانوں میں ایک خاموش مگر فیصلہ کن جنگ جاری ہے۔ مخصوص نشستوں کی تقسیم کے معاملے نے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان کشیدگی کو بے نقاب کر دیا ہے، جبکہ تحریک انصاف کے کئی سابق ارکان اور آزاد امیدوار حکومتی چھتری تلے پناہ لیتے دکھائی دے رہے ہیں۔
مرکز میں دو تہائی اکثریت کی راہ ہموار ہو چکی ہے اور پنجاب میں مریم نواز ایک بار پھر فیصلہ ساز قوت کے طور پر سامنے آ چکی ہیں۔ تاہم، اقتدار کا یہ سنگھاسن اتنا آسان نہیں۔پیپلز پارٹی کے وہ ارکانِ اسمبلی جو گزشتہ الیکشن میں عوامی عدالت سے مسترد ہو چکے، اب اقتدار کے دروازے پر دستک دے رہے ہیں۔ انہوں نے مریم نواز سے مشیر یا وزیر مملکت کے عہدے مانگے، لیکن مریم نواز نے اپنی سیاسی بلوغت کا مظاہرہ کرتے ہوئے واضح انکار کر دیا۔
ان کا مؤقف دوٹوک ہےجو عوام میں نامقبول ہو چکا، وہ حکومت میں شریک نہیں ہو سکتا۔یہ انکار محض ذاتی فیصلہ نہیں بلکہ ایک اصولی پیغام ہے۔ پیپلز پارٹی ایک طرف حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتی ہے، مگر دوسری جانب بااختیار عہدوں جیسے گورنر ہاؤس، ٹرانسفر پوسٹنگ اور انتظامی سہولتوں سے فائدہ اٹھاتی ہے۔ اقتدار میں شراکت داری کا دعویٰ، مگر احتساب سے علیحدگی؟ مریم نواز نے اس سیاسی تضاد کو بے نقاب کر دیا ہے۔
میڈیا مہم یا پس پردہ سازش؟مریم نواز کے خلاف چند معروف اینکرز کی اچانک تنقید اور منظم میڈیا مہم بھی خاصی معنی خیز ہے۔ یہ مہم ایک منظم ایجنڈے کی طرف اشارہ کرتی ہے، جس کے پیچھے کچھ بڑے کاروباری مفادات کارفرما دکھائی دیتے ہیں، خصوصاً وہ حلقے جو ریئل اسٹیٹ اور ٹرانسفر پوسٹنگ جیسے معاملات میں اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔
ماضی میں بعض اینکرز کے تعلقات پراپرٹی ٹائیکونز اور بااثر سرکاری شخصیات سے رہے ہیں۔ ایسے میں یہ مفروضہ بعید از قیاس نہیں کہ مریم نواز کی جانب سے لینڈ ریگولیشن، بلڈنگ کنٹرول اور بیوروکریسی میں سختی نے ان عناصر کو ناراض کر دیا ہے۔ میڈیا کے ذریعے دباؤ ڈالنا یا کردار کشی کی مہم شروع کروانا ایسے ہی طاقتور حلقوں کا آزمودہ ہتھیار ہے۔
ایک نئی حکمتِ عملی محرم الحرام کے باعث فی الحال خاموشی چھائی ہوئی ہے، لیکن باخبر ذرائع کے مطابق محرم کے بعد پنجاب حکومت بیوروکریسی اور پولیس میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں ہونگی۔ یہ محض روایتی تبادلے نہیں، بلکہ مریم نواز شریف کی قیادت میں ابھرنے والی پنجاب حکومت کی ایک منظم حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔
گزشتہ چند ماہ میں حکومت نے ان اضلاع کی نشاندہی کی ہے جہاںترقیاتی منصوبوں ، امن و امان کی ناقص صورتحا ل تھا نہ کلچر کی بگڑتی کیفیت افسران کی عدم دلچسپی جیسے مسائل پائے گئے۔ ان رپورٹس کی روشنی میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ کن اضلاع کے ڈپٹی کمشنر، ڈی پی اوز اور دیگر افسران کو تبدیل کیا جائے گا۔
زیر غور افسران اور ممکنہ تعیناتیاں کامران افضل (سابق چیف سیکریٹری) دوبارہ اہم انتظامی کردار کے لیے زیر غور ہیں۔ آئی جی اسلام آبادسید علی ناصر رضوی کو محکمہ داخلہ یا کابینہ ڈویژن میں اہم ذمہ داری متوقع ہے ۔اسی طرح پنجاب میں ڈاکٹر عابد خان بہاولپور میں بطور آر پی او تقرری کا امکان ہے اسی طرح بابر سرفراز الپا (آر پی او راولپنڈی)، طیب حفیظ چیمہ (آر پی او گوجرانوالہ)، اطہر اسماعیل (آر پی او شیخوپورہ) کی تبدیلی زیر غورہے، شعیب دستی ملتان یا بہاولپور میں ڈویژنل کمشنر کے طور پر متوقع امیدوار ہیں۔لاہور پولیس کے بڑے عہدوں پر بھی تبدیلیوں کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جیسے ہی حکومت کو مرکز میں دو تہائی اکثریت حاصل ہوتی ہے، ایک ایسی طاقتور شخصیت کا اثر ختم ہو جائے گا جو طویل عرصے سے بیوروکریسی پر اثرانداز رہی ہے۔ ناقص نظام اور بے حس ادارےاقتدار کی کشمکش اور انتظامی جوڑ توڑ سے ہٹ کر عوامی مسائل کہیں زیادہ گہرے اور دردناک ہیں۔لیاقت پور سانحہ، سسٹم کی ناکامی کی زندہ مثال ہے، تحصیل لیاقت پور میں ایک کالج وین میں گیس سلنڈر دھماکے سے دو معصوم طالبہ جاں بحق اور دس زخمی ہوئیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اسی وین کے خلاف گیس لیکج کی شکایت پر مقدمہ درج تھا، مگر قانون کی خامیوں سے ڈرائیور چھوٹ گیا اور بالآخر وہی وین سانحے کا باعث بنی۔ادارے اب وین مالک یا کالج انتظامیہ پر ذمہ داری ڈال رہے ہیں، مگر اصل قصوروار وہ حکام ہیں جنہوں نے پہلے سے دی گئی وارننگ کو نظر انداز کیا۔
جنوبی پنجاب کا ایک حکیم نے خیبر سے کراچی وادی بولان سے گلگت تک کے افسران میں غیر معمولی شہرت حاصل کر چکا ہے، وجہ؟ وہ اعلیٰ افسران کو قیمتی ادویات کے تحفے بھجواتا ہے۔ پارسلز ماتحت افسران کے نام پر بھیجے جاتے ہیں، اور اب صورتحال یہ ہے کہ یہ فرد افسران کا رازدار بن چکا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف افسوسناک بلکہ ادارہ جاتی اخلاقیات کی مکمل تباہی کی غماز ہے۔کراچی میں ایک ڈکیتی اور گینگ ریپ کا واقعہ پیش آیا جس کے ملزمان کو پنجاب میں سزا دی گئی یہ ایک اچھا امر ہے لیکن اس میں بہت سے پوشیدہ معاملات کے پیچھے کی کہانی آئندہ رپورٹ میں سامنے لائی جائے گی۔



