پشاور (ویب ڈیسک) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ’’رہائی تحریک‘‘ کی رجسٹریشن کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔
پشاور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنے تمام اقدامات آئینی اور قانونی دائرہ کار میں رہ کر کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ساڑھے چار کروڑ عوام کے منتخب وزیراعلیٰ ہیں اور وہ واحد وزیراعلیٰ ہیں جو براہِ راست ووٹ کے ذریعے اقتدار میں آئے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ انہیں اپنے لیڈر سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، جبکہ ان کے مطابق وزیراعلیٰ کے باوجود ان کا پاسپورٹ بلاک کیا گیا اور راستے محدود کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایسے حالات میں ان کے پاس کون سا راستہ باقی رہ جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب منتخب قیادت کو دبایا جائے تو پھر احتجاجی سیاست ہی واحد راستہ رہ جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پہلے بھی احتجاجی سیاست کے حامی تھے اور آج بھی اسی مؤقف پر قائم ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس وقت معاملہ کسی الیکشن یا حلقے کا نہیں بلکہ ان کے لیڈر کی زندگی اور صحت کا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ رہائی تحریک کی رجسٹریشن شروع ہو چکی ہے اور پورے ملک میں ممبرشپ مکمل کی جائے گی، جس کے بعد اراکین سے حلف لیا جائے گا۔
انہوں نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ آگاہ رہیں اور اپنی سیاسی اور آئینی ذمہ داریوں کو سمجھیں۔ ساتھ ہی انہوں نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا میں اسٹیبلشمنٹ ڈیپارٹمنٹ ختم کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب خیبرپختونخوا حکومت نے پبلک سروس کمیشن ایکٹ میں ترامیم کا فیصلہ کرتے ہوئے ترمیمی مسودہ تیار کر لیا ہے۔ مجوزہ ترامیم کے تحت کمیشن کی تشکیل کا اختیار گورنر سے لے کر وزیراعلیٰ کو دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
موجودہ نظام کے مطابق سرچ اینڈ سکروٹنی کمیٹی چیف سیکرٹری کی سربراہی میں تشکیل دی جاتی ہے، جس کی سفارشات گورنر اور وزیراعلیٰ کو بھیجی جاتی ہیں، تاہم نئے مجوزہ قانون میں کمیشن ارکان کا استعفیٰ گورنر کے بجائے حکومت کو دینے کی تجویز شامل ہے۔
مزید یہ کہ کمیشن اپنی رپورٹس صوبائی حکومت کو دے گا اور وہ رپورٹ اسمبلی میں پیش کی جائے گی۔



