لاہور:(رپورٹ:میاں حبیب)پنجابی کا ایک محاورہ ہے، جیدے گھر دانے اودھے کملے وی سیانے،جب خوشحالی ہو تو بہت سارے کام سیدھے ہو جاتے کھانے کو مل رہا ہو تو خرافات کی طرف دھیان کم جاتا ہے افراتفری، جرائم میں اضافہ اور عدم برداشت کی ایک وجہ معاشی ناہمواری اور بے روزگاری بھی ہے، بدقسمتی سے پاکستان کی معیشت بھی کچھ عرصہ سے بدحالی کا شکار ہے لیکن سٹیک ہولڈر ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں کہ جلد از جلد معیشت کو مستحکم کیا جا سکے اس کے لیے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان میں مقامی سرمایہ کاروں کو نہ صرف موزوں ماحول میسر آ رہا ہے بلکہ مہنگی توانائی بےجا ٹیکسز اور اداروں کی بےجا مداخلت مہنگی لیبر بنکوں کا بلند ترین شرح سود لوگوں کی قوت خرید میں کمی اور پیداواری لاگت میں بےتحاشا اضافہ نے سب کچھ اتھل پھتل کرکے رکھ دیا ہے ۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ پہلے صرف پاکستان کا برین ڈرین ہو رہا تھا اب پاکستان کا سرمایہ اور صعنت بھی ڈرین ہو رہی ہے آپ اگر صرف ایک ملک متحدہ عرب امارات میں شفٹ ہونے والے سرمائے اور وہاں پاکستانیوں کی رجسٹرڈ ہونے والی کمپنیوں کا جائزہ لے لیں تو آپ کے ہوش اڑ جائیں ایک طرف کاروبار چلانا مشکل ہو رہا ہے تو دوسری جانب ٹیکسوں کی وصولی کا ظالمانہ نظام اور ایف بی آر کو دیے جانے والے اختیارات کا بے دریغ استعمال جس سے بزنس کمیونٹی کی عزت نفس مجروح ہو رہی ہے رہتی سہتی کسر بزنس کمیونٹی کے لوگوں کی گرفتاریوں نے نکال دی جس پر پوری بزنس کمیونٹی سراپا احتجاج بن گئی اور نوبت احتجاج اور ہڑتال تک جا پہنچی۔
اس صورتحال کو بھانپتے ہوئے فیلڈ مارشل آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے ملک کے چیدہ چیدہ کاروباری شخصیات کو مدعو کیا کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے خود فیلڈ مارشل سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا تھا تاکہ وہ انھیں وطن کا دفاع کرنے فیلڈ مارشل بننے پر مبارکباد دے سکیں بہرحال یہ ملاقات بہت ہی زبردست ماحول میں ہوئی پہلی بار اس لیول پر کاروباری شخصیات کو ان کے شایان شان پذیرائی ملی آرمی ہائوس میں داخلہ کے لیے کسی کی تلاشی نہ لی گئی نہ ہی غیر ضروری سیکورٹی کے پراسس سے گزارا گیا فیلڈ مارشل نے خود سب کا استقبال کیا ملاقات میں آئی ایس پی آر کے سربراہ جنرل احمد شریف اور وزیر داخلہ سید محسن نقوی بھی موجود تھے ۔
بزنس کمیونٹی کے اہم افراد نے سب سے پہلے معرکہ حق بنیان المرصوص میں عظیم الشان کامیابی پر مبارکباد دی ، کاروباری حضرات نے درپیش مسائل سے آگاہ کیا اور بعض معاملات میں بےجا پریشانیوں کے بارے میں بتایا فیلڈ مارشل نے کہا کہ ہم سب کی کوشش ہے کہ پاکستان کو معاشی طور پر اپنے پائوں پر کھڑا کیا جائے اور اس کے راستے میں رکاوٹیں ڈالنے والوں کو کسی طور پر برداشت نہیں کیا جائے گا انھوں نے معیشت کی بحالی کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔
بزنس کمیونٹی کے سرکردہ نمائندوں نے امریکہ یورپ اور مڈل ایسٹ کے ممالک کے ساتھ تجارت کے حوالے سے بھی گفتگو کی فیلڈ مارشل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا اور مختلف ممالک کے ساتھ تجارتی معاملات پر حکومتی اقدامات اور ذاتی کاوشوں بارے بھی بتایا اور اس کے لیے ہر ایک کو اپنا کردار ادا کرنے کے لیے کہا اس موقع پر اقتصادی ترقی کے لیے مختلف تجاویز پر بھی گفتگو ہوئی یہ ملاقات ساڑھے تین گھنٹے جاری رہی شرکاء نے کھل کر اظہار خیال کیا بلکہ بعض معاملات پر تو کراس ٹاک بھی ہوئی۔
سب سے زیادہ بولنے والے ایک چیمبر آف کامرس کے صدر نے فیلڈ مارشل کو شہدا فنڈ کے لیے عطیہ کاچیک بھی دیا شرکاء کا بتانا ہے کہ ملاقات کا ماحول اتنا آئیڈیل تھا کہ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے کوئی فیملی گیٹ ٹو گیدر ہو فیلڈ مارشل نے کھانے کے موقع پر خود مہمانوں کو پلیٹیں پکڑائیں انھوں نے مہمانوں کی پالک گوشت چاولوں سادہ روٹی نان اور سادہ سویٹ ڈش سے تواضع کی اور مہمانوں کو کوچ تک چھوڑنے کے لیے آئے فیلڈ مارشل سے ملاقات کرنے والوں کی اکثریت نے بتایا کہ فیلڈ مارشل کی شخصیت نے ان کو متاثر کیا وہ ملک کے لیے بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں۔



