اردو ادب میں طنز و مزاح کی روایت جتنی قدیم ہے، اتنی ہی متنوع اور پراثر بھی ہے۔ میرزا فرحت اللہ بیگ، رشید احمد صدیقی، کنہیا لال کپور، ابنِ انشا، پطرس بخاری،ضمیر جعفری، مشتاق یوسفی، خادم حسین مجاہد، نوید ظفر کیانی اور دیگر عظیم مزاح نگاروں کی صف میں ایک درخشندہ نام مجتبیٰ حسین کا بھی ہے، جنہوں نے اپنے منفرد طرزِ تحریر، شگفتہ اسلوب اور خالص تہذیبی شعور کے ساتھ اردو مزاح کو نئی جہتوں سے روشناس کرانے میں اہم کردار ادا کیا ہے ان کے انتقال پر معصوم مرادآبادی کا پراثر مضمون جہاں ان کے ذاتی ربط و تعلق کا اظہار ہے، وہیں اس میں ایک بڑے عہد کی رخصتی کا نوحہ بھی پوشیدہ ہے۔
اردو ادب میں طنز و مزاح کی ابتدا نصیحت اور اصلاح کے جذبے سے ہوئی، جس کا سلسلہ اکبر الہ آبادی سے شروع ہو کر پطرس بخاری اور ابن انشا جیسے ادیبوں تک پہنچا۔ مجتبیٰ حسین نے اسی روایت کو اپنی مخصوص تہذیبی، معاشرتی اور لسانی بصیرت سے آگے بڑھایا۔ ان کا دور بیسویں صدی کے وسط سے اکیسویں صدی کی ابتدائی دہائیوں پر محیط ہے، ایک ایسا زمانہ جس میں ادب اور صحافت کا گہرا رشتہ قائم رہا۔ انہوں نے اس تعلق کو ادب کی توقیر اور مزاح کی سنجیدگی سے ہم آہنگ کر کے اردو نثر کو وقار عطا کیا۔
مجتبیٰ حسین 15 جولائی 1936 کو حیدرآباد دکن میں پیدا ہوئے۔ ان کے بڑے بھائی محبوب حسین جگر، روزنامہ سیاست کے مدیر تھے، جن سے انہیں بچپن سے ہی ادبی اور صحافتی تربیت ملی۔ مجتبیٰ حسین نے اپنی عملی زندگی کا آغاز صحافت سے کیا، اور بعد ازاں دہلی منتقل ہوکر گجرال کمیٹی اور مختلف سرکاری اداروں میں ثقافتی مشیر اور صحافتی تجزیہ کار کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ تاہم ان کی اصل شناخت ایک مزاح نگار، خاکہ نگار اور صحافی کی تھی۔ انہوں نے اردو صحافت میں طنز و مزاح کو باضابطہ اور باوقار صنف کی حیثیت دلانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ان کی سب سے نمایاں خصوصیت ان کی زبان و بیان کی برجستگی اور لطافت تھی۔ ان کی نثر رواں، شیریں، بامعنی اور تہذیبی طنز سے بھرپور ہوتی تھی۔ ان کے مشاہدات نہ صرف گہرے اور باریک بین تھے بلکہ وہ ان کو بیان کرنے کا ایسا سلیقہ رکھتے تھے کہ قاری قہقہہ لگاتے ہوئے بھی اپنے گریبان میں جھانکنے پر مجبور ہو جاتا۔
ان کے مشہور کتابی مجموعوں میں ’چہرہ در چہرہ‘: اس میں شامل خاکے اردو خاکہ نگاری کی اعلیٰ مثال ہیں، جن میں شخصیات کے مزاحیہ پہلوؤں کو بے مثال روانی سے اجاگر کیا گیا۔ ’قصہ مختصر‘، ’خوشبو کی دیوار‘
’کرنوں کی زبان‘، ’بہ نفسِ نفیس‘ وغیرہ وغیرہ شامل ہیں۔ ان کی تحریروں میں ایک ایسی تہذیبی خوشبو رچی بسی ہوئی تھی، جو حیدرآباد دکن کی زبان، وضع داری اور تہذیب کا مظہر تھی۔ ان کے ہاں طنز و مزاح کبھی سطحی یا بازاری نہیں ہوا، بلکہ وہ تہذیبی لطافت، شائستگی اور خود تنقیدی کے ساتھ سامنے آتا تھا۔
مجتبیٰ حسین کا مزاح خالص ادبی ہوتا تھا، جس میں نہ صرف ہنسی بلکہ فکری اپج بھی موجود تھی۔ ان کے ہاں مزاح کا مقصد صرف قہقہہ نہیں بلکہ سماجی رویوں کی عکاسی، تہذیبی قدروں کا تجزیہ اور انسان کی کمزوریوں پر تہذیبی طرزِ نقد تھا۔ ان کی مزاحیہ تحریریں سماج کے نفاق کو اجاگر کرتی ہیں، ادب میں خود احتسابی کو فروغ دیتی ہیں، زبان و بیان کی نفاست کو قائم رکھتی ہیں مثلاً ان کا طنز کبھی افراد پر ذاتی حملے نہیں کرتا بلکہ کرداروں کے ذریعے اجتماعی خرابیوں کی نشان دہی کرتا ہے۔ وہ اپنے آپ پر ہنسنے کا ہنر رکھتے تھے، جیسا کہ ان کی خود نوشت جیسی تحریروں میں بارہا دیکھنے کو ملتا ہے۔
اگرچہ وہ حیدرآباد کے رہنے والے تھے، لیکن دہلی میں ان کی ادبی موجودگی اتنی گہری تھی کہ دہلی کا ادبی منظر ان کے بغیر مکمل نہ تھا۔ دہلی میں ان کا حلقہ احباب وسیع تھا، جس میں نثار فاروقی، خلیق انجم، گوپی چند نارنگ اور دیگر شامل تھے۔ معصوم مرادآبادی نے بجا طور پر لکھا ہے کہ دہلی کا تصور مجتبیٰ حسین کے بغیر ناممکن ہے۔
مجتبیٰ حسین کو کئی اعزازات سے نوازا گیا، جن میں پدم شری (2010) حکومتِ ہند کی طرف سے،
بہادر شاہ ظفر ایوارڈ، دہلی اردو اکادمی، ساہتیہ اکادمی ایوارڈ برائے طنز و مزاح شامل ہیں۔ ان اعزازات کے باوجود وہ اکثر شاکی رہے کہ مزاح نگاروں کو ادب میں وہ مقام نہیں دیا جاتا جو سنجیدہ اصناف کے تخلیق کاروں کو دیا جاتا ہے۔ تاہم ان کی تحریریں آج اردو کے فکری ورثے کا حصہ سمجھی جاتی ہیں۔
26 مئی 2020 کو مجتبیٰ حسین حیدرآباد میں اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ ان کی موت نے اردو ادب میں طنز و مزاح کی ایک شاندار روایت کو ماضی کا حوالہ بنا دیا۔ ان کا اندازِ تحریر، ان کی تہذیبی شائستگی، ان کا علمی بانکپن اور مزاحیہ عظمت آنے والی نسلوں کے لئے مشعلِ راہ ہے۔
معصوم مرادآبادی کا یہ جملہ کہ "مجتبیٰ حسین کے بغیر دہلی کا تصور ممکن نہیں” دراصل اردو ادب کے اس خراجِ تحسین کی شکل ہے جو وقت کے ساتھ مزید معتبر ہوتا چلا جائے گا۔
مجتبیٰ حسین کی یاد میں سب سے بڑا خراج یہی ہو سکتا ہے کہ ہم ادب میں مزاح کی حیثیت کو سنجیدگی سے تسلیم کریں، اور ان کے اسلوب، زبان اور تہذیب سے سیکھنے کی کوشش کریں۔
*ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی کا تعلق خیبرپختونخوا چترال سے ہے آپ حالات حاضرہ، علم ادب، لسانیات اور تحقیق و تنقیدی موضوعات پر لکھتے ہیں ان سے اس ای میل rachitrali@gmail.com اور واٹس ایپ نمبر 03365114595 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے



