انٹر نیشنلتازہ ترینکاروبار

خلیج میں کشیدگی،یورپی ممالک میں توانائی بحران ،یوکرین سے روسی تیل تک رسائی مانگ لی

روسی تیل کی طرف واپسی سیاسی ترجیح نہیں بلکہ توانائی کی فوری ضرورت کے تحت زیر غور ہے، خطے میں جاری کشیدگی نے یورپ کو مشکل فیصلوں کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے:حکام

برسلز:(ویب ڈیسک ) یورپی یونین نے توانائی بحران کے بڑھتے دباؤ کے پیشِ نظر یوکرین پر زور دیا ہے کہ وہ روسی تیل لے جانے والی پائپ لائن تک دوبارہ رسائی فراہم کرے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یورپی بلاک ماضی میں روسی توانائی پر سخت پابندیاں عائد کر چکا ہے اور ماسکو کے خلاف اقتصادی دباؤ کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے۔

رپورٹس کے مطابق فروری کے وسط تک یورپی یونین کے گیس ذخائر کم ہو کر تقریباً 30 فیصد رہ گئے، جو 2022 کے بعد کم ترین سطح ہے۔ دوسری جانب خلیج میں کشیدگی کے باعث قطر کی ایل این جی سپلائی آبنائے ہرمز سے منسلک خدشات کا شکار ہے، جبکہ متبادل راستہ سمید (SUMED) پائپ لائن محدود گنجائش رکھتی ہے۔

ناروے اور الجزائر سے آنے والی پائپ لائنیں پہلے ہی مکمل صلاحیت پر کام کر رہی ہیں اور امریکی ایل این جی برآمدی ڈھانچہ بھی اپنی حد تک پہنچ چکا ہے۔ادھر 27 جنوری کو روسی حملے میں درژبا (Druzhba) پائپ لائن کو نقصان پہنچا تھا، جس کے بعد ہنگری اور سلوواکیہ، جو 2022 کی پابندیوں میں حاصل استثنا کے تحت اب بھی روسی تیل پر انحصار کرتے ہیں، نے یوکرین کیلئے 90 ارب یورو کے قرض پیکج کی منظوری کو تیل کی ترسیل کی بحالی سے مشروط کر دیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یورپی یونین اس وقت اپنی پابندیوں کی پالیسی اور توانائی ضروریات کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یورپ کی توانائی حکمت عملی اس مفروضے پر قائم تھی کہ روس سے مکمل علیحدگی مستقل ہوگی اور متبادل سپلائی کافی ثابت ہوگی، تاہم حالیہ جغرافیائی و توانائی بحران نے ان اندازوں کو چیلنج کر دیا ہے۔

یورپی حکام کا کہنا ہے کہ روسی تیل کی طرف واپسی سیاسی ترجیح نہیں بلکہ توانائی کی فوری ضرورت کے تحت زیر غور ہے، جبکہ خطے میں جاری کشیدگی نے یورپ کو مشکل فیصلوں کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button