پاکستانتازہ ترینکالم

پاک بھارت جنگ ؟ ۔۔

حسنین جمیل (لندن)

اگر پچھلے دو روز کے بھارتی اخبارات کا جائزہ لیا جائے تو ایک بات بڑی حیران کرتی ہے کہ پاک بھارت ممکنہ جنگ کی خبریں صفحہ اول سے ہٹ کر صفحہ دوم پر چلی گئی ہیں آج کل شہ سرخیاں حکمران جماعت بی جے پی کا ذات پات کے نئے قانون کے حوالے سے پاس کرایا ایک بل ہے جس پر لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں زور شور سے بحث و مباحثہ جاری ہے۔

پرھان منتری مودی بھی ایک فلم فیسٹیول کے افتتاح کے لئے فلمی ستاروں کے جھرمٹ میں بیٹھے ہیں جہاں بولی وڈ اور جنوب کے معروف فلمی ستارے شاہ رخ خان ،رجنی کانت ،عامر خان، متھن چکروتی، ہیما مالنی،دیپکا پڈوکون ،چیرن جیوی ، اکشے کمار ،عامر خان اور دیگر موجود ہیں جہاں مودی جنگ کی نہیں بلکہ فلم کی کلا کی آرٹ کی گفتگو کرتے نظرآرہے ہیں۔

بھارتی پرنٹ میڈیا میں ایک دم پہلگام واقعہ کی خبریں ختم تو نہیں تاہم مدھم ضرور پڑ چکی ہیں جبکہ ٹیلی ویژن کا اپنا ایک مزاج ہے ، نیوز چینل سنجیدگی میں اخبارات اور جرائد کا مقابلہ نہیں کر سکتے انکی ناظرین میں درجہ بندی کا مسئلہ ہوتا ہے ، اب اخبارات نے یہ سب کیوں کیا اس کے پیچھے کیا حکمت عملی ہے ہنوز اس پر کوئی رائے نہیں دی جا سکتی دوسری طرف پردھان منتری مودی نے اپنی قومی سلامتی کی کمیٹی کی تشکیل نو کر دی ہے اب اسکی سفارشات آتے آتے مزید دو ہفتے لگ سکتے ہیں لہذا فوری طور بھارت کے پاکستان پر ممکنہ حملے کا کوئی امکان نطر نہیں آتا۔

اس وقت بھارت میں آئی پی ایل بھی جاری ہے جس میں دنیا بھر کی ملٹی نیشنل کمپنیوں کا اربوں روپے سرمایہ لگا ہوا ہے دوسری جانب پاکستان میں بھی پی ایس ایل جاری ہے ایسے میں عالمی ساہو کار کبھی بھی جنگ نہیں ہونے دے گا تاہم سرحدی چھڑپیں ہو سکتی ہیں۔

وزیر اطلات و نشریات عطاتارڑ نے چند روز قبل بھارتی ممکنہ حملے کے حوالے سے میڈیا کو آگا ہ کیا تھا ،پاکستان سٹاک مارکیٹ میں اتار چڑھائو کی خبریں بھی زیر گردش رہیں ۔

اسد الدین اویسی جو مودی حکومت کے بڑے ناقد تھے وہ اس حملے کے بعد حکومت کا ساتھ دیتے نظر آرہے ہیں ، کشمیری مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد لال چوک سری نگر میں جمع ہوئی،سری نگر کی مساجد میں حملے کی مذمت ہوئی ،حملے سے کشمیریوں کی بڑی تعداد کے روزگار کو بہت نقصان ہوا ہے بظاہر یہ محسوس ہو رہا ہے کہ مودی حکومت خاموش ہے مگر درپردہ ضرور کوئی بڑی حکمت عملی طے پا رہی ہے جو بی جے پی کی سیاست کو جانتے وہ یہی کہتے ہیں مود ی حکومت کچھ نہ کچھ ضرور کرے گی جیسے ماضی میں کیا گیا تھا تاہم اس میں وقت لگ سکتا ہے فوری طور پر کسی بھارتی حملے کا امکان نظر نہیں آتا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button